پولیس ویلفیئر فنڈ کوکاروبار کیلئے استعمال کیا جانے لگا


فیصل آباد(نیوزلائن)پنجاب پولیس نے اہلکاروں کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے تشکیل دئیے گئے پولیس ویلفیئر فنڈ کو کاروبار کیلئے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ لاہور‘ فیصل آباد سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں پولیس ویلفیئرفنڈ کو استعمال کرکے کاروبار کیا جا رہا ہے جبکہ اہلکاروں کو فنڈ سے امداد ملتی ہے اور نہ اس کا عام اہلکار کے فائدے کیلئے استعمال کیا جا تا ہے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب پولیس کے کرتا دھرتاؤں نے پولیس ویلفیئر فنڈ کو چھوٹے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کرنے کی بجائے اس کاروبار سجا رکھے ہیں۔ فیصل آباد میں پولیس ویلفیئر فنڈ سے پٹرول پمپ لگا یا گیا جسے بعد ازاں پی ایس او کو ٹھیکے پر دیدیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ہی ایک نیا پٹرول پمپ لگا لیا گیاجس میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی کئی رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔پولیس ویلفیئر پٹرول پمپ فیصل آباد عملی طور پرفیصل آبادپولیس کے کنٹرول میں ہی ہے اور ایک حاضر سروس تھایندار اس کا مالک کل بنا ہوا ہے۔فیصل آباد میں پولیس ویلفیئر فنڈ سے ہی ایک سکول بنا کراسے بھی عملی طور پر مقامی پولیس حکام کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ کمائی میں سے نگران افسر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے بنائے گئے فنڈ سے کاروبار کرنا غیرقانونی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد پولیس اہلکاروں خاص طور پر چھوٹے پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرنا ہے۔ اس سے کاروبار چمکانا غیرقانونی اور فنڈ کے قیام کے مقاصد کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فنڈ کے قیام اور قانونی حیثیت بھی چیک کی جانی چاہئے۔ پولیس رولز کسی این جی او چلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ پولیس ویلفیئر فنڈ کی حیثیت اور اس میں حاضر سروس پولیس حکام کے ڈیوٹی سرانجام دینا بھی سوالیہ نشان ہے۔ حکومت اور اداروں کو اس بارے اقدامات اٹھانا چاہئے۔ جبکہ پولیس ملازمین کی فلاح کیلئے بنائے گئے فنڈ کی رقوم کو کاروبار کیلئے استعمال کرنا کسی طور بھی قانونی عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ایسا کرنے والوں کیخلاف ایکشن لیا جانا چاہئے۔

Related posts