فیصل آباد پولیس نے جعلی مقابلے میں نوجوان قتل کردیا


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد پولیس نے جعلی مقابلے میں نوجوان ذیشان ناصر کو قتل کردیا۔ قتل کے بعد ذیشان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا اور مقابلے کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔معاملہ لڑائی جھگڑے کا تھاپولیس نے جھگڑے میں مارے جانے والے کانسٹیبل کی موت کا بدلہ لینے کیلئے گرفتار نوجوان ذیشان کیخلاف انتقامی کارروائی کی۔ ریسکیو 1122کی رپورٹ نے پولیس کے جعلی مقابلے کا پول کھول دیا۔یہ الزامات مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مقتول نوجوان ذیشان کے معمر والدحاجی ناصر علی نے پریس کانفرنس کے دوران عائد کئے۔ حاجی ناصر کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس سڑکوں پر عدالتیں لگا کر لوگوں کو قتل کر رہی ہے مقتول ذیشان کو پولیس نے گر فتار کرکے بعد میں جعلی پولیس مقابلے مار ڈالا اور اس کو ایک مقابلہ کا رنگ دیا گیا اور ایس ایچ او بٹالہ کالونی نے مقتول ذیشان ناصر کے خلاف جھوٹا مقد مہ درج کیا۔ مقتول ذیشان ناصرکے والد حاجی ناصر علی نے چیف جسٹس آف پاکستان ‘چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ اس جعلی پولیس مقابلے کی جوڈیشنل انکوائری کروائی جائے اور اصل حقائق سامنے لائیں جائیں، اس موقع پر مقتول کے عزیز میاں عمر شہزادنے بتایا کہ 6جنوری 2018کو سمن آباد کے علاقہ غوث نگر میں ہونے والے جھگڑے کی اطلاع مقتول کے والدحاجی ناصر علی نے 15پولیس کو دی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ذیشان ناصر کی موت سر پر چوٹیں آنے سے ہوئی جبکہ ریسیکو 1122کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے موقع سے کانسٹیبل اصغر کی لاش اور زخمی عمران علی کو ہسپتال منتقل کیا ۔ذیشان ناصرکو جھگڑے والی جگہ سے زندہ گرفتار کیا اور بعد میں اس کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس جعلی پولیس مقابلے کے مزید ثبوت بھی موجود ہیں جو کہ ہم جوڈیشنل انکوائری میں پیش کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذیشان ناصر کو ایس ایچ او تھانہ بٹالہ کالونی اور دیگر اہلکاروں نے ایک خود ساختہ اور جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیاہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان پنجاب میں ہونے والے جعلی پولیس مقابلوں کا از خود نوٹس لیں اور جن لوگوں نے یہ ماورائے عدالت قتل کیا ہے ان پولیس اہلکاروں کادہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل کیا جائے ۔

Related posts