فصل آباد کی یونیورسٹیوں‘ کالجوں میں ڈرگز مافیاکا راج


فیصل آباد(ندیم جاوید)ضلعی انتظامیہ ‘ محکمہ تعلیم اور جامعات حکام کی غفلت و لاپرواہی کے باعث فیصل آباد کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ڈرگز مافیا کی حکمرانی قائم ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھلے عام چرس ‘ہیروئن‘ کوکین‘ نشہ آور چیونگم اور دیگر منشیات کی فروخت کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں مگر کوئی منشیات فروش مافیا کیخلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجز کے اندر منشیات فروخت کرنے والے مافیاز کے بارے میں تفصیلی معلومات اور رپورٹس تیار ہونے کے باوجود حکام ان کیخلاف ایکشن لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔بعض اداروں میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے حکا م کی حمائت اور پشت پناہی بھی اس مافیا کو حاصل ہونے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔یونیورسٹیوں کے گارڈزاور چھوٹے عملے کے بھی منشیات فروشوں کا آلہ کار بننے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی 6جامعات اور مختلف یونیورسٹیوں کے 6کیمپسز اور متعدد کالجز کے حوالے سے رپورٹ سامنے آئی ہے کہ ان میں انتظامیہ کے تعاون سے منشیات فروشی کا دھندہ ہوتا ہے اور نوجوان نسل کی تباہی کا سامان کھلے عام میسر ہے۔منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ کرنے والوں نے لڑکوں کے علاوہ لڑکیوں کو بھی تباہی کے سامان پر لگا رکھا ہے اور قوم کا مستقبل تباہ کرنے کا مکمل سامان کر رہے ہیں۔ مخلوط تعلیم کے اداروں کے علاوہ خواتین کی یونیورسٹیاں اور کالجز بھی منشیات کا مکروہ دھندہ کرنے والے مافیا کی دستبرد میں ہے۔حال ہی میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے والی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے بارے میں متعدد بار رپورٹس سامنے آچکی ہیں مگر انتظامیہ ذمہ داران کیخلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ وہاں منشیات فروشی ہوتی ہے اور یونیورسٹی کے اندر ہی استعمال بھی کی جاتی ہے مگر اس پر بھی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور نہ یونیورسٹی حکام ٹس سے مس ہوئے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد‘ یونیورسٹی آف فیصل آباد‘ جی سی ویمن یو نیورسٹی فیصل آباد‘نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی ‘ سرگودھا یونیورسٹی کا لائلپور کیمپس اور سرگودھا یونیورسٹی کا ویمن کیمپس‘ایجوکیشن یونیورسٹی کے کیمپس ‘ یو ای ٹی کیمپس‘ فاسٹ یونیورسٹی کیمپس ‘ نمل اور رفاہ یونیورسٹی کے کیمپس کے حوالے سے بھی مسلسل رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ وہاں منشیات فروخت اور استعمال ہو رہی ہے۔ یونیورسٹیوں کے علاوہ درجن بھر بوائز اینڈ گرلز کالج بھی منشیات فروشوں کے گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ منشیات فروشی کے اس مکروہ دھندے میں مافیاز کے علاوہ یونیورسٹیوں کا عملہ بھی ملوث پایا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجز کے گارڈز کی بڑی تعداد اس مکروہ دھندے کو کرنیوالوں کا ساتھ نباہ رہی ہے۔اس کے علاوہ جامعات کے چھوٹے عملہ کے بھی دھندے میں ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ منشیات فروشوں نے شہر بھر میں مکمل نیٹ ورک بنا رکھا ہے اور نوجوان نسل کی رگوں میں زہر انڈیلنے کیلئے منظم کارروائیاں کر رہا ہے مگر انتظامیہ موثر ایکشن لینے میں اب تک ناکام ہے۔

Related posts