مریم نواز اور عمران خان کی غیرقانونی ایڈورٹائزنگ


قانون کی عمل داری کیلئے کوشاں مسلم لیگ ن کے قائداور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نوازسوشل میڈیا کنونشن کے نام پر تاریخی دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں جلسہ عام کرنے کیلئے آ ئیں۔ قانون کی حکمرانی کا نعرہ مستانہ بلند کرنے والے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اپنی پارٹی کو ممبر شپ کیمپوں کا جائزہ لینے کے نام پر شہر میں ریلی نکالنے کیلئے آ گئے۔ دونوں قومی رہنماؤں کے استقبال کیلئے ان کی پارٹی فرش راہ کئے موجود تھی۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ایک دھڑے کے مریم نواز کے جلسے سے لاتعلق ہونے کے باوجود ان کا ایسا استقبال کیا گیا کہ مریم نواز کو ایسا رسپانس شائد بہت سے شہروں میں نہیں ملا ہوگا۔ شہر کی ہر گلی محلے‘ سڑک اور چوراہے میں مریم نواز کے لئے استقبالیہ بینرز‘ فلیکس ‘ ہورڈنگ لگائے گئے تھے۔ کپتان کے استقبال کیلئے بھی اس کے کھلاڑیوں نے کچھ ایسے ہی انتظامات کئے تھے بلکہ وہ تو مریم کے استقبالیہ انتظامات سے بھی کچھ آگے ہی نکل گئے۔ رپورٹس کے مطابق ن لیگ کے متوالوں نے مریم نواز کے استقبال کیلئے شہر میں 21ہزار سے زائد استقبالیہ فلیکس‘ بینر‘ ہورڈنگ لگائے تھے۔ تو عمران کے کھلاڑیوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے 37ہزار استقبالیہ فلیکس‘ بینر ‘ ہورڈنگ لگا کر عددی برتری حاصل کر لی۔ ن لیگ کے استقبالیہ انتظامات کو ایک برتری حاصل رہی کہ پی ٹی آئی کی فلیکس ‘ بینرز‘ ہورڈنگ صرف تین لگے مگر ن لیگ کے ایک ہفتے سے بھی زائد وقت نظر آتے رہے۔ایک جانب تو ن لیگ اور پی ٹی آئی قانون کی حکمرانی اور قانون کے احترام کیلئے نعرے لگارہی ہیں اور بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری جانب قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے میں دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا۔ دونوں جماعتیں ہی قانون شکنی اور سینہ زوری کرتی ہیں۔ مریم نواز اور عمران خان کے دورہ فیصل آباد کیلئے شہر بھر میں کی گئی ایڈورٹائزنگ قطعی طور پر غیرقانونی ہے۔ دونوں جماعتوں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور قانون پر عمل کرانے کی کسی نے کوشش کی تو اس کے سامنے چوری اور سینہ زوری شروع کر دی جاتی رہی۔قانون کی رو سے کسی بھی قسم کی اشتہاری مہم چلانے‘ ہورڈنگ‘ فلیکس‘ بینرز‘ سٹیمر‘ پول سائن لگانے کیلئے پی ایچ اے سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔مگر دونوں جماعتوں کے کسی ایک بھی رہنما نے مریم یا عمران کا ایڈورٹائزنگ بورڈ‘ فلیکس‘ بینر لگانے کیلئے پی ایچ اے اجازت لینا تو دور کی بات اسے آگاہ کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔48ہزار سے زائد ایڈورٹائزنگ بورڈز شہر میں لگائے گئے ایک پائی ٹیکس نہیں دیا گیا۔ جبکہ قانون کی رو سے ایک بھی بورڈ ایک لمحے کیلئے بھی بغیر ٹیکس ادائیگی نہیں لگ سکتا۔ پی ایچ اے کے ڈی جی محمد آصف چوہدری کا اس حوالے سے مؤقف بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ کسی نے پی ایچ اے سے ان بورڈز کو لگانے کی اجازت نہیں لی اور بغیر منظوری لگا کوئی بھی ایڈورٹائزنگ بورڈ ‘ فلیکس یا بینر ہو وہ غیرقانونی ہے۔ مگر ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے مقامی بااثر رہنماؤں کیخلاف کارروائی کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کیخلاف کارروائی کریں تو سیاسی ایشو بن جاتا ہے۔ان کے غیرقانونی اشتہاری بورڈ اتاریں تو پھر بھی مسئلہ بن جاتا ہے ۔ قانون پر عمل درآمد کروانے والے بااختیار ادارے کے سب سے بڑے آفیسر کی سیاسی رہنماؤں کے سامنے بے بسی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اور ساتھ ہی اس تاثر کو بھی مضبوط بنا رہی ہے کہ قانون صرف عام آدمی کیلئے ہے طاقتور لوگوں کے سامنے قانون خاموش اور ادارے بے بس ہو جاتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے بے بسی کا اظہار کرنے والا پی ایچ اے تعلیمی اداروں‘ فلاحی تنظیموں اور عام شہریوں کی فلیکس‘ بینرز ‘ ہورڈنگز کیخلاف کس منہ سے کارروائی کرتا ہے یہ ہر شہری کا سوال ہے۔۔فیصل آبادسے احمد یٰسین کی سچ بیانیاں

Related posts