بیوروکرسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ

 

فیصل آباد(ندیم شہزاد سے)نگران حکومت تو فائنل نہیں ہوسکی مگر فیصل آباد کی تمام بیوروکریسی تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔کمشنر ‘ ڈپٹی کمشنر ‘ آر پی او‘ سی پی او سمیت تمام محکموں کے افسران کی اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ مقتدر حلقوں نے پنجاب حکومت کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آتے ہی اکھاڑ پچھاڑ کیلئے افسران کے نام فائنل کرنا شروع کردئیے ہیں۔ فیصل آباد میں ایسے افسران کو لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جو رانا ثناء اللہ کے مخالف سمجھے جاتے ہیں جبکہ رانا ثناء اللہ کے لگوائے گئے افسران کو دور دراز بھجوانے یا کھڈے لائن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔متعدد افسران اپنے احتساب کے خوف سے لمبی چھٹی لینے اور بیرون ملک بھاگنے کی تیاریاں بھی کررہے ہیں۔ نیوزلائن کو موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے انتہائی چہیتے آفیسر آر پی آو فیصل آباد بلال صدیق طویل رخصت لینے اور بیرون ملک جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کمشنر فیصل آباد مومن آغا بھی طویل رخصت پر جانے کی کوشش میں ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سلمان غنی کو بھی فارغ کیا جارہا ہے۔ سی پی او فیصل آباد اطہر اسماعیل کو بھی ٹرانسفر کردیا جائے گا۔ ایس ایس پی آپریشن رانا معصوم سمیت پولیس کے تمام اعلیٰ افسران فیصل آباد سے تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کے انتہائی چہیتے اے ڈی سی جی خالد فروکہ ‘اے ڈی سی ہیڈکوارٹر آفتاب احمد‘ اے ڈی سی ریونیو محمد شاہد کو بھی ٹرانسفر کرنے کی اطلاعات ہیں۔ محکمہ تعلیم‘ صحت ‘ بلدیات سمیت تمام محکموں کے انتظامی انچارج بھی تبدیل کرنے کا امکان ہے۔فیصل آباد کے تمام اے سی بھی تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نگران حکومت کے دور میں سہیل حبیب تاجک کا نام آر پی او اور غلام مبشر میکن کا نام سی پی او فیصل آباد کیلئے فائنل کیا جا چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیلئے بھی ایک ایسے آفیسر کا نام لیا جا رہا ہے جو رانا ثناء اللہ کے انتہائی مخالف اور شہباز شریف حکومت میں کھڈے لائن ہی رہے۔ کمشنر فیصل آباد کیلئے خیبر پختونخواہ سے آنیوالے ایک آفیسر کا نام فائنل کیا گیا ہے۔مقتدر حلقوں نے تبادلوں کیلئے افسران کی لسٹوں کو حتمی شکل دیدی ہے اور شہباز شریف حکومت کی رخصتی کیساتھ ہی جون کے پہلے ہفتے میں ہی افسران کی اکھاڑ پچھاڑ شروع کردی جائے گی۔

Related posts