نوازشریف جیل بھی گئے تو ن لیگ الیکشن لڑیگی:ثناء اللہ


فیصل آباد(نیوزلائن) صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے قائد نوازشریف جیل بھی گئے تو ان کی پارٹی الیکشن لڑیگی ۔ہم جانتے ہیں کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں ،اس کا احساس ہمارے مخالفین کو بھی ہے ۔ہم نوازشریف کے جیل جانے پر کوئی تحریک انہیں چلائیں بلکہ الیکشن لڑیں گے اور ووٹ کی پرچی سے انہیں شکست دینگے ۔پاکستان مسلم لیگ اداروں کے سامنے سرجھکاکر نہیں سراٹھا کر بات کرے گی۔الیکشن سے قبل غیر سیاسی دفاتر کھول کر الیکشن مہم کا آغاز کردیاگیا ہے۔ خفیہ اورنامعلوم افراد امیدواروں کی لسٹیں تیار کرکے یو سی چیئرمینوں کو خفیہ نمبروں سے فون کرکے مہم چلا رہے ہیں۔30مئی تک ہمارے ہاتھوں میں زنجیریں ہیں اس کے بعد ہمیں گھنٹہ گھر یا مال روڈ پر بیٹھنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہم ان نامعلوم افراد کے دفاتر کا گھیراؤ کرینگے۔گزشتہ روز الائیڈ ہسپتال میں لیگی رہنما مہر حامد رشید کی جانب سے مہر رشید شعبہ رڈیالوجی کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور شام کو اسماعیل گرین میں دیئے گئے بڑے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نوازشریف کے بیانیہ پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس نے والے اب کتاب پر بھی بلائیں ۔ نوازشریف کو مشرف کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ میاں نوازشریف ملک اداروں کے سامنے سراٹھا کر بات کررہے ہیں اور شہبازشریف کے سرجھکا کر بات کرنے کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی کے پریشر میں ہیں۔نوازشریف نے ادب واحترام کے ساتھ ہمیشہ عدلیہ اور اداروں کے سامنے سراٹھا کی بات کی ہے اور 70‘70تاریخیں بھگتی ہیں ۔نوازشریف بے گناہ ہیں اور رول آف لاء کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے قانون کا سامنا کیا۔ ان کے خلاف ہونے والے مقدمات بعدازاں غلط ثابت ہوئے تھے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت کیلئے مل بیٹھ کر انتقامی کارروائیوں پر ایک دوسرے سے معذرت کی تھی کیونکہ انہیں غلط اور بے بنیاد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جبکہ مریم نوازشریف آج تک کسی سیاسی یا حکومتی عہدہ پر نہیں رہیں انکے خلاف مقدمہ بازی انتہائی غلط اقدام ہے۔نوازشریف کا قصور پاکستان کو آگے بڑھانے اور ایٹمی قوت بنانے کا ہے۔گیارہ مئی کے بعد نوازشریف نے متعلقہ اداروں کو غیر ملکی دورہ پر ہونے کے باوجود ایٹمی دھماکوں کیلئے تیاری کی ہدایات دیں اور پھر 17دنوں میں ایٹمی دھماکے کیے گئے ۔اگر نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کے فیصلہ کے دوران رکاوٹیں پیدا کرنے والوں بارے پردہ اٹھا دیا اور بتا دیا کہ کسی کی کیا رائے تھی تو بہت سارے لوگوں کے چہروں سے پردہ اٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھایاگیا۔ قیدیں سنائی جا رہی ہیں۔ مشرف کے خلاف کوئی بھی ازخود نوٹس نہیں لے رہا۔میاں نوازشریف کے ایک بیانیہ پر طوفان سر پر اٹھا لیا گیا، نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایاگیا، اب کتاب کے معاملہ پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس کیوں نہیں بلایا جارہا؟ بیپر اور انٹرویو کیوں نہیں دیئے گئے؟ دھرنے ملک اورقوم کے خلاف ایک سازش تھی۔ پاکستان کو ترقی اور آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ دھرنوں کے پیچھے کون تھا آج قوم کو پتہ چل گیا ہے۔پورا ملک بھی مرجائے تو عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتا۔رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ یہ ملک سیاسی لیڈر کی قیادت میں ووٹ کی طاقت سے بنا تھا بندوق کی طاقت سے نہیں ۔پاکستان کے عوام ملک کو بندوق کی طاقت سے نہیں چلنے دینگے۔ووٹ کی عزت منوانا ہوگی۔25 جولائی کو ملکی معیشت کو مضبوط کرنے اور ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کرنے والوں کا ملک کے خلاف سازشیں کرنے والوں اور دھرنوں میں گالم گلوچ کرنے والوں سے مقابلہ ہے۔کوئی کسی نہیں جتوا سکتا۔خفیہ ہاتھوں کے ذریعے کسی کو جتوانے کا پراپیگنڈا کامیاب نہیں ہوگا صرف عوام کا ووٹ جتوائے گا۔پیارے نبی ؐ کانام دنیاوی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے ذلیل ورسوا ہونگے۔جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا زمانہ گزر گیا۔باہر بیٹھ کر بڑھکیں مارنے والا پرویز مشرف جو وہاں شراب پی کر رنگ رلیاں منا رہا ہے واپس آیا تو غداری کا مقدمہ چلے گا۔ہر الیکشن میں لوٹا بننے والوں کو اس مرتبہ ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوجائیگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں لیکر آئی ہے۔اگر دھرنوں کے ذریعے رکاوٹ نہ ڈالی جاتی تو 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی تھی۔

Related posts