زرداری کی پیپلز پارٹی فارغ: بلاول اپنی پارٹی الیکشن میں اتاریں گے


فیصل آباد(احمد یٰسین)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آمدہ الیکشن میں سابق صدر زرداری کی پیپلز پارٹی کو انتخابی میدان سے دور رکھیں گے ۔ جبکہ الیکشن بلاول کی سیاس جماعت پر لڑا جائے گا۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے مابین اس حوالے سے کافی عرصہ سے اختلاف چلا آرہا تھا مگر اب اس بارے حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اس فیصلے سے آصف زرداری کو بھی آگاہ کردیا ہے اور اختلاف کے باوجود زرداری نے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے بلاول کو اپنی جماعت انتخابی میدان میں اتارنے کی اجازت دیدی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ سال 2002سے سال 2013تک تین جنرل الیکشن اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین (پی پی پی پی ) کو الیکشن 2018میں نہ اتارا جائے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین (پی پی پی پی )کی قیادت سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کررہے ہیں اور زرداری کے نام سے ہی وہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین (پی پی پی پی ) کو تیر کا نشان الاٹ کررکھا ہے ۔ زرداری کی پیپلز پارٹی کو انڈر گراؤنڈکرکے انتخابی میدان میں بلاول کی جماعت کو اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بلاول کی جماعت (پی پی پی )کے نام سے پہلے ہی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ بلاول کی جماعت کا نام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) ہے اور اس میں زرداری کی جماعت سے ایک پی کم ہے۔ بلاول کی پی پی پی کا انتخابی نشان کئی سال پہلے سے ہی الیکشن کمیشن سے تلوار الاٹ کروایا گیا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھٹو دور میں پی پی پی کو تلوار کے نشان پر انتخابی میدان میں اتارا تھا اور تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ 1988کے الیکشن میں تلوار کے نشان پر پابندی کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے تیر کا نشان حاصل کیا اور بے نظیر بھٹو نے الیکشن اسی نشان پر لڑا۔ مشرف دور میں بے نظیر بھٹو کے بیرون ملک ہونے کا بہانہ بنا کر حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی پر پابندی عائد کردی تھی اور الیکشن کمیشن میں اس کی رجسٹریشن منسوخ کردی تھی۔ جس پر پیپلز پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین (پی پی پی پی )کے نام سے نئی جماعت بنائی جس کا سربراہ مخدوم امین فہیم کو بنایا گیا۔بعد ازاں اس کی قیادت آصف علی زرداری نے حاصل کرلی۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کی قیادت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے نام سے بھی اپنی جماعت رجسٹرڈ کروا لی اور الیکشن کمیشن میں اس کا سربراہ بلاول بھٹو کو بنایا گیا۔ پی پی پی اور پی پی پی پی عملی طور پر ایک ہی جماعت کی طرح ملک بھر میں سرگرم رہیں لیکن حقیقت میں بلاول اور زرداری اپنی الگ الگ جماعت چلاتے رہے ہیں۔ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ زرداری کی پی پی پی پی کو بالکل فارغ کردیا جائے۔ گزشتہ چار انتخابات میں حصہ لینے والی جماعت اس دفعہ انتخابی میدان سے دور رہے گی۔ جبکہ الیکشن بلاول بھٹو کی جماعت پی پی پی لڑے گی۔

Related posts