نگران وزیراعظم نے حلف اٹھالیا‘ بروقت الیکشن کا عزم



اسلام آباد(نیوزلائن)سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر الملک نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیاان سے صدر مملکت ممنون حسین نے حلف لیا ۔ نیوزلائن کے مطابق موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرکے رات 12 بجے ختم ہوگئی نگراں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر مملکت ممنون حسین نے سابق چیف جسٹس ناصر الملک سے نگراں وزیراعظم کا حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت سابق کابینہ وقومی اسمبلی ارکان، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان، صوبائی گورنرز، ججز اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک تھے۔سابق چیف جسٹس ناصرالملک وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے حلف اٹھانے کے بعد مسلح افواج کے دستوں نے نگران وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم ہاؤس میں تینوں مسلح افواج کے دستوں سے گاڈ آف آنر پیش کیا جبکہ شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہاؤس سے روانگی پر اپنے عملے سے بھی الوداعی ملاقاتیں کیں۔نگراں وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹس (ر) ناصرالملک پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔جسٹس (ر) ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے، ایبٹ ا?باد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔1977 میں لندن سے بار ایٹ لاء کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہوئے۔جسٹس (ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔یاد رہے کہ پاکستان میں مسلسل دوسری جمہوری حکومت نے اپنی 5 سالہ مدت پوری کی جس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک میں دوسری آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوئی اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2013 میں اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کی تھی۔

Related posts