فیصل آباد کے ’’لیڈرز‘‘کا سورج شدید گرہن کی زد میں آگیا


فیصل آباد(احمد یٰسین)اپنی سیاسی بقاء کیلئے پارٹیاں تبدیل کرنے اور مسلسل سیاسی اتحاد بدلتے رہنے والے فیصل آباد کے درجن بھر ’’لیڈرز‘‘ کی سیاست پر فل سٹاپ لگنے کاخدشہ منڈلانے لگا۔اپنی پارٹی سے بے وفائی کرکے دوسری جماعتوں میں جانے والے ان سیاستدانوں کو وہاں بھی پذیرائی نہیں مل رہی اور الیکشن 2018سے پہلے ہی ان کی سیاست پر فل سٹاپ لگ جائے گا۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے متعددسیاسی رہنماکا آب و تاب سے چمکتا ہوا سورج ان کی جلد بازی میں جماعت بدلنے اور عوام سے دوری کی وجہ سے گرہن کی زد میں آگیا ہے۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے بے وفائی کرکے مسلم لیگ ق کو پیارے ہونے اور چند ماہ پہلے چوہدریوں سے بھی سیاسی بے وفائی کرکے عمران کا کھلاڑی بننے والے سابق صوبائی وزیر چوہدری ظہیرالدین کی سیاست اس وقت بھونچال کی زد میں ہے۔ وہ این اے 102سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرکے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے مگر وہاں ان کا پی ٹی آئی کا ٹکٹ خطرے میں ہے۔ پی ٹی آئی وہاں نواب شیر وسیر کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔ نواب شیر وسیر پیپلز پارٹی کیساتھ طویل رفاقت کو الوداع کہہ کر چند ماہ پہلے ہی پی ٹی آئی میں ہے۔ وہ فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے وننگ ہارس سمجھے جا رہے تھے مگر پارٹی بدلنے سے انہیں عوام قبول نہیں کررہے۔ این اے 102سے پی ٹی آئی نے جس کو بھی ٹکٹ دیا دوسرا سیاسی منظر نامے سے غائب ہو جائے گا۔ پی پی پی کو ہی خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی میں جانے والے سابق سینئر وزیر راجہ ریاض کی سیاست بھی فل سٹاپ کے قریب ہے۔ راجہ ریاض این اے 110سے الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں مگر اس حلقے کا ٹکٹ پی ٹی آئی اپنی اتحادی پارٹی سنی اتحاد کونسل کو دینے پر غور کررہی ہے۔ راجہ ریاض کیلئے ایک دوسرا خطرہ ان کے بھتیجے راجہ ضرار بنے ہوئے ہیں ۔ آمدہ الیکشن راجہ ریاض کی سیاسی سرگرمیوں پر فل سٹاپ کا باعث بن سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی سے ہی پی ٹی آئی میں جانے والے فیض کموکا اور اسد معظم میں سے ایک کی سیاست پر فل سٹاپ لگنے لگا ہے۔دونوں ایک ہی حلقے این اے 109سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ایک کی کامیابی دوسرے کی انتخابی سیاست کو خطرے میں ڈال دے گی۔ مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جانے والے رانا زاہد توصیف کی سیاست بھی خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ ان کیلئے کوئی حلقہ فائنل نہیں ہو رہا۔ پی ٹی آئی ان کے بھائی کو بھی ٹکٹ دیتی نظر نہیں آرہی۔ جلد بازی میں ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جانیوالے رضا نصراللہ گھمن بھی اپنے پارٹی بدلنے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی کو پیارے ہونیوالے ممتاز چیمہ اور مشتاق علی چیمہ کیلئے پی ٹی آئی میں کوئی جگہ نہیں رہی ۔ اورپی ٹی آئی میں رہنے پر ان کی انتخابی سیاست پر بھی فل سٹاپ کا خطرہ شدید تر ہو چکا ہے۔مسلم لیگ ن چھوڑ کر پی ٹی آئی کو پیارے ہونیوالے سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار جٹ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر عمران خان کے ہمراہی بننے والے رانا آفتاب احمد خاں اور جہانزیب امتیاز گل کیلئے بھی اپنا پارٹی بدلنے کا فیصلہ نیک شگون ثابت نہیں ہورہا اور ان میں سے دو کی سیاسی بقاء خطرات میں گھر گئی ہے۔جھمرہ کے نوجوان سیاسی رہنما اجمل چیمہ بھی پی ٹی آئی کیلئے محنت کرنے کے اپنے فیصلے پر پچھتانے میں لگے ہوئے ہیں اور عمران خان کی جماعت کو چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کیساتھ برسوں کا ساتھ تیاگ دینے والے سلیم جہانگیر چٹھہ بھی عمران خان کا ہمراہی بننے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اجمل چیمہ اور سلیم جہانگیر چٹھہ کو عمران خان نے پارٹی کیلئے انتہائی محنت کرنے کا صلہ ساہی برادران کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے عمراں خان کے اس ایک فیصلے سے اجمل چیمہ اور سلیم جہانگیر چٹھہ دونوں ہی انتخابی سیاست سے آؤٹ ہورہے ہیں۔ فیصل آباد کی انتخابی سیاست میں بڑا نام سمجھے جانیوالے چوہدری زاہد نذیر فیملی بھی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بروقت فیصلہ نہ کرسکنے کی وجہ سے ان کیلئے سیاسی مشکلات میں اضافی ہوتا جا رہا ہے۔اپنے تائیں فیصل آبادکے بڑے ’’لیڈرز ‘‘کو انتخابی سیاست سے زیادہ اپنی بقاء کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔ الیکشن کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم کیساتھ ہی متعدد ’’بڑے ‘‘ لیڈر سیاسی افق سے فارغ ہو جائیں گے۔

Related posts