بھٹو کی تلواریا بے نظیر کا تیر: زرداری اور بلاول میں سردجنگ


فیصل آباد(احمدیٰسین)عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کے انتخابی نشان تلوار کے ساتھ حصہ لیا جائے یا محترمہ بے نظیر بھٹو کے انتخابی نشان تیر کے ساتھ مخالفین کا مقابلہ کیا جائے۔ اس اہم معاملے پر تلوار والی جماعت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور تیر والی جماعت پی پی پی پی کے سربراہ آصف علی زرداری میں سرد جنگ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پیپلزپارٹی کی رجسٹرڈ کروائی گئی دونوں جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کو انتخابی نشان الاٹ کئے جاچکے ہیں۔ بلاول بھٹو کی سربراہی میں رجسٹرڈکروائی گئی پاکستان پیپلزپارٹی کو تلوار کا نشان ملا ہے جبکہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کو تیر کا نشان مل چکا ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ وہ تلوار کے نشان پر الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں تلوار کے نشان پر ہی امیدوار میدان میں اتارے جائیں۔ جبکہ پی پی پی پی کے سربراہ آصف علی زرداری 2018کا الیکشن تیر کے نشان پر لڑنا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تلوار کے نشان پر 2023کا الیکشن لڑا جائے گا۔ اس حوالے سے دونوں میں سرد جنگ چل رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بارے حتمی فیصلہ چند روز میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 1970اور 1977کا الیکشن تلوار کے نشان پر لڑا تھا لیکن بعد ازاں ضیاء الحق دور میں الیکشن کمیشن نے تلوار کا نشان الاٹ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ الیکشن 1988میں تلوار کا نشان نہ ملنے پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے تیر کا نشان حاصل کرلیا۔ الیکشن 1996تک پاکستان پیپلزپارٹی تیر کے نشان پر انتخابات میں حصہ لیتی رہی تاہم مشرف دور میں ہونیوالے عام انتخابات 2002میں الیکشن کمیشن نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیرون ملک ہونے کا بہانہ بنا کر پاکستان پیپلزپارٹی کی رجسٹریشن ہی منسوخ کردی تھی۔ جس پر پیپلزپارٹی نے مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے جماعت رجسٹرڈ کروا کر اس کیلئے تیر کا نشان حاصل کرلیا۔ 2008اور 2013کا الیکشن پی پی پی نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے ہی لڑا ۔ الیکشن 2018سے پہلے پی پی پی نے دونوں جماعتوں کی رجسٹریشن کروا لی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو الیکشن کمیشن نے تلوار اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلمینٹیرینز کو تیر کا نشان الاٹ کیا جا چکا ہے۔ آصف زرداری تلوار کا نشان ملنے کے باوجود ابھی پاکستان پیپلزپارٹی کا نام اور تلوار کے نشان پر الیکشن میں حصہ لینے کے حق میں نہیں ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی پالیمنٹیرینز کے نام اور تیر کے نشان پر الیکشن میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں جبکہ بلاول بھٹو کے حوالے سے سامنے آرہا ہے کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی اور تلوار کے نشان پر میدان میں اترنے کے خواہش مند ہیں۔

Related posts