ٹکٹوں کا اعلان: ن لیگ میں بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے




فیصل آباد(ندیم جاوید)ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے سب سے بڑے قلعہ فیصل آباد میں بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ درجنوں ن لیگی رہنما پارٹی قیادت کے فیصلوں سے نالاں ہیں اور ہر حلقے میں آزاد پینل میدان میں لارہے ہیں۔ سابق وزیر مملکت رانا افضل کا این اے 110سے ٹکٹ رکوانے کیلئے صوبائی وزیر قانون‘ سابق ایم پی اے نواز ملک‘ میئر رزاق ملک اور ان کے ساتھیوں نے بھرپور مہم چلائی مگر ٹکٹ رانا افضل کو ہی مل گیا۔ پی پی 111یا پی پی 117سے ٹکٹ کے خواہاں کاشف نواز رندھاوا بھی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ پی پی 116کا ٹکٹ فقیر حسین ڈوگر کو دئیے جانے کا فیصلہ بھی متعدد پارٹی رہنما قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔این اے 110‘ پی پی 111‘ پی پی 116اور پی پی 117سے ن لیگی رہنماؤں کا آزاد پینل سامنے آرہا ہے جو مل کر ن لیگی میدواروں کی مخالفت کریں گے اور پورا پینل انتخابی میدان میں اترے گا۔ اس آزاد پینل کو اندرکھاتے رانا ثناء اللہ جبکہ کھلے عام میئر رزاق ملک اور ان کے ساتھیوں کی حمائت حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق ایم پی اے خواجہ محمد اسلام بھی اس پینل کے ساتھ ہیں۔ این اے 109میں سابق ایم این اے میاں عبدالمنان کے ٹکٹ کیخلاف ن لیگ کے ہی اعجاز ورک سرگرم رہے ہیں اور اب بھی وہ آزاد الیکشن کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ میاں عبدالمنان کی مخالفت میں وہ کسی دوسری پارٹی کی طرف چلے جائیں۔ پی پی 114میں شیخ اعجاز احمد کی ٹکٹ بھی کارکنوں کو مطمئن نہیں کرسکی اور کارکن کھلے عام شیخ اعجاز کی مخالفت کرنے کا علان کررہے ہیں۔پی پی 112میں میاں طاہر جمیل کی ٹکٹ کیخلاف بھی کارکن متحد ہورہے ہیں۔ کارکن اس ٹکٹ کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ خاص طور پر کاشف گجر میاں طاہر جمیل کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اس حلقے میں ن لیگی رہنما آزاد الیکشن لڑیں گے۔ این اے 107میں حاجی اکرم انصاری کی ٹکٹ سے بھی کارکن راضی نہیں ہیں اور ان کی مخالفت کیلئے آزاد پینل سامنے لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ پی پی 110میں نواز ملک کے ٹکٹ کیخلاف بھی کارکن سراپا احتجاج ہیں اور اس فیصلے کیخلاف احتجاج کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما ہی آزاد امیدوار لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔این اے 106سے مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا ثناء اللہ خاں کے خلاف بھی مسلم لیگ ن کے ہی لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ خاں کیخلاف ن لیگی کارکن ہی متحرک ہو گئے ہیں اور کئی دھڑے ان کی مخالفت کررہے ہیں۔ جس سے ان کی انتخابی مہم بری طرح متاثر الیکشن میں کامیابی مشکوک ہوگی۔ این اے 105میں ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر میاں فاروق کو سابق ایم پی اے نعیم اللہ گل کی مخالفت کرنا بھاری پڑے گا۔ نعیم اللہ اور سیف اللہ گل کھل کر ان کی مخالفت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس حلقے میں میاں فاروق کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار رانا آصف توصیف کو چیئرمین ضلع کونسل چوہدری زاہد نذیر کی بھرپور حمائت حاصل ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ آصف توصیف کامیاب رہیں۔این اے 104میں شہباز بابر کی مخالفت میں بھی مسلم لیگ ن کے رہنما سرگرم ہیں۔ چوہدری صفدر الرحمان بھرپور انداز میں ان کے خلاف سرگرم ہوں گے۔ سابق ایم پی اے عارف گل اور راؤ کاشف بھی شہباز بابر کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اور انہیں ہروانے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ این اے 103میں ن لیگ کی مقامی قیادت علی گوہر بلوچ کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہو رہی۔ اور ان کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط کرنے کی تیاری میں ہے۔ این اے 102میں طلال بدر چوہدری کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی وزیر اور طلال کے چچا محمد اکرم چوہدری میدان میں اتر آئے ہیں اور کھل کر طلال چوہدری کی مخالفت کررہے ہیں۔ سابق ایم پی اے رائے حیدر کھرل اور سابق ایم پی اے رائے عثمان کھرل بھی طلال چوہدری کیساتھ کسی صورت چلنے کو تیار نہیں اور کھل کر ان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

Related posts