فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی‘کمپنیاں ساڑھے 6ارب کے ٹیکس نادہندہ


فیصل آباد(احمدیٰسین)فیصل آبادکی بزنس کمیونٹی‘ پرائیویٹ کمپنیاں‘ نیم سرکاری اور سرکاری ادارے ساڑھے 6ارب روپے سے زائد کے ٹیکس نادہندہ نکلے۔ سب سے بڑا نادہندہ لوگوں کو نادہندگی کی فوری سزا دینے میں شہرت رکھنے والا ادارہ فیسکو نکلا۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے انتہائی قریب سمجھے جانیوالے فاروق احمد خاں کی ملکیتی اور پیپسی کولا بنانے والی فیکٹری پنجاب بیوریج‘ گائے سوپ اور گائے بناسپتی بنانے والی کمپنی اظہر کارپوریشن‘ رفحان میز پراڈکٹس‘ انٹرلوپ‘ چیئرمین ضلع کونسل چوہدری زاہد نذیر کی فیملی کی فیکٹری مسعود ٹیکسٹائل کے علاوہ جی سی یونیورسٹی ‘ زرعی یونیورسٹی‘ لائید ہسپتال بھی ٹیکس نادہندگان کی لسٹ میں شامل ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق ایف بی آر کو فیصل آباد میں رواں سال کے ٹیکسوں کی وصولی کیلئے ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔فیصل آباد میں سوا چار ارب روپے کا انکم ٹیکس اور سوا دوارب کا سیلز ٹیکس وصول کرنا ریجنل ٹیکس آفس کیلئے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ نادہندگان کے انتہائی بااثر ہونے کی وجہ سے ایف بی آر حکام ٹیکس وصولی میں کامیاب نہیں ہو پارہے۔مالی سال ختم ہونے میں صرف 15دن باقی ہیں اور ایف بی آر حکام ابھی تک ساڑھے 6ارب روپے کی ٹیکس وصولی کیلئے بااثر ٹیکس نادہندگان کی منت ترلے کے سوا کچھ نہیں کرسکے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق روا سال کا سب سے بڑاٹیکس ناہندہ فیسکو ہے۔ فیسکو نے ایک ارب سے زائد کا ٹیکس ادا کرنا ہے مگر ایف بی آر کو چکر دینے کے سوا کچھ نہیں کررہا۔ٹیکس نادہندہ میں دوسرا بڑا نام رفحان میز پراڈکٹس کا ہے۔رفحان میز پراڈکٹس 64کروڑروپے کی ٹیکس نادہندہ اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے ادائیگی سے گریزاں ہے۔ٹیکس نادہنگان میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی سابق سینیٹر فاروق احمد خاں بھی شامل ہیں۔ فاروق خاں کی پیپسی کولا بنانے والی فیکٹری پنجاب بیوریجز13کروڑ جبکہ فاروق خاں کی ہی ملکیتی کمالیہ شوگر ملز 69لاکھ روپے سے زائد کی نادہندہ ہے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے وہ ساڑھے13کروڑ کی ٹیکس ادائیگی سے مسلسل انکاری اور تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ شہر کے معروف صنعتکار مصدق ذوالقرنین کی گارمنٹس فیکٹری انٹر لوپ پونے 6کروڑ کی ٹیکس نادہندہ ہے۔ چیئرمین ضلع کونسل چوہدری زاہد نذیر اور سابق ایم این اے عاصم نذیر کی فیملی کی مسعود ٹیکسٹائل دو کروڑ روپے کی ٹیکس نادہندہ ہے اور ابھی تک کی آر ٹی او حکام کی وصولی کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔گائے سوپ اور گائے بناسپتی بنانے والی فیکٹری اظہر کارپوریشن ساڑھے دس کروڑ روپے کی ٹیکس نادہندہ ہے ۔پی ٹی آئی رہنما چوہدری اشفاق کی فیملی کا ملکیتی چن ون سٹور ڈیڑھ کروڑ روپے کا ٹیکس ڈیفالٹر ہے۔ انجمن تاجران سٹی کے صدر خواجہ شاہد رزاق سکا کی ملکیتی کارس پینٹ انڈسٹری پچاس لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس نادہندہ ہے۔فیصل آباد ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے چیئرمین عمر نذر شاہ کی ملکیتی حسن لمیٹیڈ رواں سال میں ساٹھ لاکھ روپے کی ٹیکس ڈیفالٹر ہے۔ کریسنٹ ٹیکسٹائل ملز70لاکھ ‘صداقت ٹیکسٹائل پچاس لاکھ ‘ رفیق سپننگ پچپن لاکھ‘ چنار شوگر ملز ڈیڑھ کروڑ‘ آدم جی ٹیکسٹائل پچپن لاکھ‘ فائیو سٹار ٹیکسٹائل انڈسٹریزپچپن لاکھ‘ الحمرا فیبرکس پچپن لاکھ‘ مسعود ایمپیکس پچاس لاکھ‘ پاور کیمیکل انڈسٹری اڑھائی کروڑ جبکہ ستارہ حمزہ پرائیویٹ لمیٹیڈ پونے دو کروڑ روپے‘ نوید نواز ٹیکسٹائل ساٹھ لاکھ‘ غفور بشیر پرائیویٹ لمیٹیڈ پچپن لاکھ روپے کے ٹیکس نادہندہ ہیں۔جی سی یونیورسٹی فیصل آباد دو کروڑ‘ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈیڑھ کروڑ ‘ نیشنل سیونگ سنٹر ساڑھے تین کروڑمیونسپل کارپوریشن ایک کروڑ‘ سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی ایک کروڑ‘ ایف ڈی اے دوکروڑ‘ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد 90لاکھ ‘ پی ایچ اے فیصل آباد پچاس لاکھ روپے کی ٹیکس نادہندہ ہے۔ ریجنل ٹیکس آفس فیصل آباد بااثر ٹیکس نادہندگان سے رواں سال کے ساڑھے 6ارب روپے کا ٹیکس وصول کرنے کیلئے متعدد اقدامات کرچکا ہے۔ مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں مل سکی۔

Related posts