کلثوم کی حالت تشویشناک ‘ نواز شریف لندن میں ہی رہیں گے


اسلام آباد(نیوزلائن)بیگم کلثوم نواز کی لندن میں حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز نے وطن واپسی مؤخر کردی ہے۔ اور وہ منگل کے روز احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔نیوزلائن کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی حالت نہ سنبھلنے پر میں نواز شریف اور مریم نواز لندن میں اپنے قیام کی مدت میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں لندن میں زیرِ علاج بیگم کلثوم نواز بدستور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ڈاکٹرز وینٹی لیٹر ہٹانے یا نہ ہٹانے کا فیصلہ کل کریں گے۔ منگل کے روز احتساب عدالت میں طلبی کے پیشِ نظر نواز شریف اور مریم نواز نے واپسی کے ٹکٹ بھی کنفرم کرا لئے ہیں۔ چار روز گزر گئے، بیگم کلثوم نواز کی حالت نہ سنبھلی، سابق وزیرِاعظم کی اہلیہ بدستور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ہارلے سٹریٹ کلینک کے ڈاکٹرز کل معائنے کے بعد وینٹی لیٹر ہٹانے یا نہ ہٹانے کا فیصلہ کریں گے۔ اپنے تازہ ترین ٹویٹ میں مریم نواز نے عوام سے ایک بار پھر دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ لیگی رہنما کہتی ہیں کہ بہت آوازیں دیں، امی جواب نہیں دیتیں، دل کرتا ہے وہ آنکھیں کھولیں اور باتیں کریں۔ نواز شریف نے بھی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ کی رحمت سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شریف فیملی کی وطن واپسی بیگم کلثوم نواز کی صحت سے مشروط ہے۔ نواز شریف، حسین اور مریم نواز نے ڈاکٹرز سے دو گھنٹے طویل ملاقات کی اور باہم مشورے کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو کلثوم نواز کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر شریف فیملی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا بیگم کلثوم نواز سے پچاس سال کا ساتھ ہے، انھیں اس حالت میں چھوڑ کر جانا اقدار کے خلاف ہو گا۔ حسین نواز نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ والدہ سخت علیل ہیں، نواز شریف اور مریم نواز ابھی پاکستان نہیں جا رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر اب نواز شریف اور مریم نواز 19 جون کو احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوں گے اور وکیل کے ذریعے حاضری سے استثنی کی درخواست دیں گے۔ کلثوم نواز کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ اور ڈاکٹرز کا خط درخواست کے ہمراہ جمع کروایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بیگم کلثوم نواز کو میڈیکل ٹریٹمنٹ دے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی طبیعت میں بہتری کو مانیٹر کر رہے ہیں، تاہم ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے، کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ لائف سپورٹ مشین ہٹانے کا فیصلہ کلثوم نواز کی طبیعت میں بہتری کو مدِنظر رکھ کر کیا جائیگا۔ ہسپتال میں اپنی اہلیہ کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ سے دعا کریں، صرف دعاؤں کی ضرورت ہے، وہی ہوتا ہے جو خدا کو منظور ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم لندن پہنچے تو کلثوم نواز بے ہوش تھیں، ان سے بات نہیں ہو سکی، انھیں مصنوعی طور پر سانس دیا جا رہا ہے۔ قوم کلثوم نواز اور سب بیماروں کیلئے دعا کرے، اللہ تعالیٰ انھیں صحت دے۔ نواز شریف کے جانے کے چند سیکنڈز بعد ہی سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہسپتال میں اپنی بھابھی کی عیادت کیلئے پہنچے اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ڈاکٹرز بڑے قریب سے بیگم کلثوم نواز کا معائنہ کر رہے ہیں، ان کی صحت مستحکم ہے اور اہم جسمانی اعضا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اچھی خبر یہ ہے کہ، ان کی صحت کے حوالے سے کوئی بری خبر نہیں ہے۔ جبکہ حسین نواز نے بتایا کہ ڈاکٹرز کہتے ہیں ہم کسی قسم کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے، ان کی والدہ کی بتدریج لائف سپورٹ اتاری جائے گی۔ پیر کو ڈاکٹرز واپس ڈیوٹی پر آ کر ان کا معائنہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حق میں ہوں کہ جب تک والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہو جاتی نواز شریف ان کے پاس رہیں۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے بیگم کلثوم نواز کیلئے گلدستہ پہنچایا گیا۔ گلدستہ تحریکِ انصاف کے صدر میاں وحید الرحمان نے ہارلے سٹریٹ کلینک جا کر دیا۔ انہوں نے کلثوم نواز کے اہلخانہ کو عمران خان کی طرف سے نیک خواہشات اور جلد صحتیابی کیلئے دعا کا پیغام پہنچایا۔ دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کیلئے پھولوں کا گلدستہ بھجوایا گیا ہے اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ بلاول بھٹو نجی دورے پر لندن میں ہیں، وہ سوموار کی شام پاکستان واپس آئیں گے۔

Related posts