فیصل آباد کی بیوروکریسی پر رانا ثناء اللہ کا مکمل کنٹرول برقرار

فیصل آباد(احمد یٰسین)کمشنر ‘ ڈپٹی کمشنر ‘ سی پی او سمیت فیصل آباد کی بیوروکریسی پر شہباز شریف دور میں نائب وزیر اعلیٰ کا درجہ رکھنے سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کا کنٹرول آج بھی قائم ہے۔ نہ صرف صوبائی محکموں بلکہ ضلعی محکموں اور بلدیاتی اداروں میں بھی رانا ثناء اللہ کی مالا جپنے والے براجمان ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں رانا ثناء اللہ بلاشرکت غیرے اقتدار کے تمام ایوانوں پر براجمان ہیں۔ سول بیوروکریسی سے لے کر پولیس تک نیچے سے اوپر سب رانا ثناء اللہ کی مالا جپنے والے بیٹھے ہوئے ہیں۔رانا ثناء اللہ کی سفارشی پرچی آج بھی ہر محکمے میں تھرتھلی مچ جاتی ہے اور تمام میرٹ تہہ و بالا کردئیے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام انتخابات کے دوران اعلیٰ افسران تو ایک طرف تھانیداروں‘ پولیس اہلکاروں‘ پٹواریوں‘ محکمہ تعلیم‘ صحت‘ ریونیو‘ میونسپل کارپوریشن‘ ضلع کونسل سیکرٹریٹ ‘ یونین کونسلزسٹاف کا غیر جانبدار رہنا ممکن ہی نہیں ہو پائے گا۔ نیوزلائن کے مطابق کمشنر فیصل آباد مومن آغا کو رانا ثناء اللہ خاں کا خاص اور قابل اعتماد آدمی سمجھا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سلمان غنی بھی رانا ثناء اللہ کے انتہائی قریب ہیں۔ سی پی او اطہر اسماعیل کو خود رانا ثناء اللہ نے فیصل آباد لگوایا۔ڈی جی ایف ڈی اے یاور حسین کو رانا ثناء اللہ نے پہلے پی ایچ اے میں تعینات کروایا اور پھر طویل عرصہ سے ایف ڈی اے میں لا کر اپنے پسند کے مطابق کام لئے جاتے رہے۔ ایس ایس پی آپریشن رانا معصوم بھی رانا ثناء اللہ کے خاص آدمی سمجھا جاتا ہے۔عدالت عظمیٰ کی مداخلت سے سبکدوش ہونیوالے سابق وی سی جامعہ زرعیہ رانا اقرار کو غیرقانونی تعیناتی کے باوجود رانا ثناء اللہ کی پشت پناہی سے نو سال تک زرعی یونیورسٹی سے ہٹا نہیں سکا۔ زرعی یونیورسٹی میں بہت بڑی تعداد میں اساتذہ اور عملہ رانا ثناء اللہ کا بھرتی کروایا گیا ہے جو انہوں نے رانا اقرار کے ذریعے ہر قسم کے میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھرتی کیا۔ یہ بات بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کو رانا ثناء اللہ اور عابدہ حسین کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ سیٹ ملی ۔ورکس ڈیپارٹمنٹ میں ہو یا محکمہ انہار‘ سوشل ویلفیئر ہو یا بیت المال‘ تعلیم ہو یا صحت ‘ تمام صوبائی محکموں میں فیصل آباد میں تعیناتی کیلئے رانا ثناء اللہ کی منظوری لازمی قرار دی جاتی تھی۔ کمشنر آفس کے چپڑاسی سے لے کر کمشنر تک تمام رانا ثناء اللہ کی سفارش پر لگائے گئے ہیں۔ تمام تھانوں میں رانا ثناء اللہ کی خصوصی سفارش پر تھانیدار تعینات کئے گئے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ صحت میں رانا ثناء اللہ کی سفارش کے بغیر دس سالوں میں کسی کو بھرتی کیا گیا ہے نہ کوئی تعیناتی ان کی ’’سفارشی چٹ ‘‘کے بغیر ہوئی ہے۔ فیصل آباد کے تمام پٹواری صبح و شام رانا ثناء اللہ کے گھر کا پانی بھرتے نظر آتے تھے۔ میونسپل کارپوریشن کا تمام عملہ رانا ثناء اللہ کے خاص ساتھی نواز ملک کی مرضی سے لگایا گیا ہے۔ انتخابات میں بیوروکریسی کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ الیکشن کا تمام عملہ سرکاری محکموں سے جائے گا۔ پریزائیڈنگ عملہ میں سے اکثریت محکمہ تعلیم سے لی جائے گی ۔ محکمہ تعلیم میں رانا ثناء للہ کے بغیر دس سالوں میں ’’پتہ تک نہیں ہلا‘‘۔ ایسے حالات میں شفاف الیکشن نگران حکومت کیلئے بہت بڑے امتحان سے کم نہیں ہو گا۔ فیصل آباد میں رانا ثناء اللہ کا بیوروکریسی پر سے کنٹرول ختم کرنا نگران حکومت کیلئے ممکن ہو گا اور نہ ان کے مخالف امیدواروں کیلئے افسرشاہی اور سرکاری ملازمین کی درپردہ ہمدردیوں کا مقابلہ کرنا آسان ہوگا۔

Related posts