زرداری صدر فائنل‘ وزارت عظمیٰ کیلئے سات ناموں پر غور


اسلام آباد(حامدیٰسین)اقتدار کی غلام گردشوں میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری کا نام اگلے صدر مملکت کیلئے فائنل کئے جانے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ وزارت عظمیٰ کیلئے کئی نام زیرغور ہیں مگر ان میں عمران خان اور شہباز شریف دونوں شامل نہیں ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق مقتدر حلقوں میں 25جولائی کے بعد کے سیٹ اپ پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔’’دوست‘‘ چاہتے ہیں کہ اگلا سیٹ اپ ایسا بنایا جائے کہ اس کا تاثر بھی اچھا ابھرے جبکہ ان کے مقاصد بھی پورے ہو جائیں۔ ’’دوست ‘‘ احباب پیپلزپارٹی کو بھی مکمل آؤٹ نہیں کرنا چاہتے جبکہ پی ٹی آئی کو بھی اکاموڈیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو اقتدار دینا بھی پڑا تو عمران خان کو وزیراعظم کے طور پر کوئی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہورہا۔پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ قابل قبول شخصیت شاہ محمود قریشی کی سامنے آئی ہے۔ ان کے بعد کوئی نام لیا جا رہا ہے تو وہ سابق چیئرمین سینٹ اور سابق نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ پی ٹی آئی میں کوئی شخصیت وزارت عظمیٰ کیلئے قابل قبول نہیں سمجھی جارہی۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا نام بھی لیا جا رہا ہے مگر اس کیلئے چوہدری نثار کو اپنے خاموش گروپ کی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ ان کی پرفارمنس کے مطابق ہی ان کا کردار فائنل ہو گا۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ابھی تک ’’دوستوں‘‘ کی گڈ بک میں شامل ہیں۔ مخلوط قومی حکومت میں انہیں بھی قابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔ قومی حکومت کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو قبول نہیں کیا جا رہا۔ نواز شریف کا بیانیہ ان کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بنا ہوا ہے۔ میاں شہباز شریف کے علاوہ بھی مسلم لیگ ن کی کسی دوسری شخصیت پر غور نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کی سربراہی کیلئے پی پی پی کے بھی دوناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی کی دوڑ میں قمرالزماں کائرہ اور مخدوم احمد محمود کے نام بھی سامنے آئے ہیں لیکن اس کیلئے پی پی پی کی انتخابی صورتحال اور غیرمعمولی کامیابی شرط ہوگی۔ ’’دوستوں‘‘ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی صورتحال اور بلوچستان ‘ خیبر پختونخواہ اور سندھ کی صورتحال کے تناظر میں آصف علی زرداری صدر مملکت کیلئے ہاٹ فیورٹ ہیں۔ بطور صدر ان کے سابق پانچ سالہ دور سے بھی ’’دوست ‘‘ مطمئن ہیں۔

Related posts