ایون فیلڈ ریفرنس: نواز‘ مریم ‘ صفدر کو قیدو جرمانے کی سزا


اسلام آباد(نیوزلائن) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو 10 سال قید ٗ 8ملین پاؤنڈ جرمانہ ٗ مریم نواز کو سات سال قید ٗدو ملین پاؤنڈ جرمانہ ٗ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزااور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا ہے۔جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بند کمرے میں تین جولائی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔فیصلہ سنانے سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ بند کمرے میں سنانے سے قبل فریقین کے وکلاء کو کمرہ عدالت میں طلب کیا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اور فریقین کے وکلاء کو روسٹرم پر بلایا گیا تاہم میڈیا کے نمائندے کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا ۔میڈیا نمائندوں کی جانب سے احتجاج کے بعد عدالتی عملے نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ابھی وکلاء اور جج صاحب کی ڈسکشن ہورہی ہے جب فیصلہ سنایا جائے گا تو میڈیا کو اندر بلایا جائیگاتاہم چند منٹ بعد نیب کے پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے باہر آکر بتایا کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنادیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کو 10سال قید ٗ ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال قید اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ۔نیب پراسیکیوٹر مظفر عباسی کے مطابق احتساب عدالت نے نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا ہے جبکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی حکم دیاہے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان سے متعلق سزا نہیں سنائی گئی ٗمریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے پر غلط بیانی پر شیڈول ٹو کے تحت ایک سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کی جانب سے ان کی واپسی تک فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کیلئے موخر کی تھی۔صبح 9 بجکر 40 منٹ پر جب سماعت کا آغاز ہوا تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں زیر علاج اہلیہ کلثوم نواز کی تازہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ٗمریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی حالت تشویشناک ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ 48 گھنٹے فیملی کا کلثوم نواز کیساتھ ہونا ضروری ہے لہٰذا فیصلے کو کچھ دن کیلئے موخر کردیا جائے تاہم نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کی جس کے بعد جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت11 بجے تک کیلئے موخر کردی۔ایک گھنٹے بعد عدالت نے نواز شریف کی فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ ساڑھے بارہ بجے فیصلہ سنایا جائیگا تاہم اس فیصلے کو پہلے ڈھائی بجے ٗپھر 3 بجے اور بعدازاں ساڑھے 3 بجے تک کیلئے مؤخر کردیا گیا۔عدالت کی جانب سے فیصلے کو 4 بار مؤخر کرکے اسے ساڑھے تین بجے سنانے کا وقت دیا گیا۔

Related posts