عوام باہر نکل آئیں: جیل جانے کیلئے تیار ہوں‘ نواز شریف


لندن (نیوزلائن) مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اہلیہ کے ہوش میں آتے ہی وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپنی جدو جہد جیل سے بھی جاری رکھونگا ۔ عوام 25 جولائی کو ووٹ دے کر ان کیخلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنادیں ٗ ہاں میں ہاں نہ ملانے اور خوشامد نہ کر نے پر مجھے اور بیٹی کو سزا سنائی گئی ٗ مکروہ کھیل کا حصہ بننے والوں کو پچھتانا پڑے گا ٗ کوئی سیاسی پناہ نہیں لے رہا ٗ فیصلے کے بعد آئینی اور قانون حقوق استعمال کرونگا ۔ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ استغاثہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا۔ یہ سزائیں انشاء اللہ میری جدوجہد کا راستہ نہیں رو ک سکتیں ٗ وقت بد ل چکا ہے ٗ قوم آئین اور قانون کو جوتوں تلے روندنے والوں کا محاسبہ کریگی ٗ اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک اس ملک میں رہنے والوں کو آزادی نہیں مل جاتی۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ معلوم تھا کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں ٗ مجھے پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جائینگے ٗ یہ ایک مشکل جدو جہد تھی ٗ اس سارے دورانیہ میں ایک مرتبہ نہیں ٗ دومرتبہ نہیں ٗ متعدد بار مجھے پیغام دیا گیا کہ میں اور مریم نواز ملک چھوڑ کر لندن چلے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ چند ماہ قبل جب میں لندن میں تھا تو مجھے یہ پیغام ملا کہ آپ پاکستان واپس نہ آئیں اور اپنی اہلیہ کا علاج کروائیں اور کیس خود بخود دم توڑ جائیگا ۔ نوازشریف نے کہا کہ گوکہ میری ذات کیلئے یہ راستہ آسان تھا مگر میں نے بات نہیں مانی ٗ اپنے لئے نہیں سوچا او ر میں نے اپنی بیٹی کیلئے نہیں سوچا ۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ اس گھناؤنی سازش میں شریک افراد کون ہیں ؟ ان افراد نے صرف اداروں کو پامال کیا بلکہ آئینی حلف سے غداری کے بھی مرتکب ہوئے ہیں ۔نوازشریف نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اندھی طاقت کے بل بوتے پر یہ لوگ بچ جائیں گے تو وہ جان لیں کہ وقت بدل چکا ہے ٗ آئین اور قانون کو جوتوں تلے روندنے والوں کا نہ صرف قوم محاسبہ کرے گا بلکہ ان کے سیاسی آلہ کار بننے والوں کا بھی محاسبہ ہوگا ۔ گرفتاری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ 1999ء میں چودہ ماہ جیل میں رکھا گیا ٗ ایک قلعہ میں بند کر دیا ٗ طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزا ہوئی ٗ اس تاریخ کو بدلنا ہے یا نہیں بدلنا ؟ٗ ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو پوری قوم کو باہر نکلنا چاہیے ٗ کیا سول سوسائٹی ٗ کیا میڈیا ٗ کیا سیاسی لوگ ٗسب کو باہر آجانا چاہیے ۔ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے ٗ یہ قربانی مانگتا ہے اور وہ میں قربانی دینے کیلئے تیار ہوں ٗ پاکستانی قوم میرا ساتھ دے ٗ آنے والی نسلوں کیلئے جھنڈا اپنے ہاتھ میں اٹھایا ہے ٗجدوجہد میں ساتھی بنو ٗ ملک کو آزاد کرائیں ٗ زنجیروں کو توڑنا ہے ٗ ان زنجیروں کو کاٹنا ہے ٗ مجھے اکیلا مت چھوڑیں ٗ آئیں پاکستان کو بدلیں ٗ یہ نیا پاکستان ہوگا ٗ نیا سورج کا طلوع ہوگا اس دن کا ہمیں انتظار ہے ٗ آج وہ دن آچکا ہے اب اس کا کیا انتظار کریں ٗ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور مارچ کریں ٗ پاکستان بدلے گا تو خوشحالی آئیگی ۔ایک سوال پر نوازشریف نے کہاکہ جو لوگ اپنے حلف کی خلاف ورزی کررہے ہیں اداروں کو خود ان کا نوٹس لینا چاہیے ٗ پاکستانی عوام سیاست میں مداخلت بر داشت نہیں کرینگے ۔

Related posts