پنجاب پولیس نے بلاول بھٹو کے قافلے کو زبردستی روک لیا


ملتان(نیوزلائن)پنجاب پولیس نے بلاول بھٹو کے قافلے کو اوچ شریف میں داخلے ہونے سے زبردستی روک دیا ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے اوچ شریف کے باہر پی پی پی کے قافلے کو گھیر لیا اور قافلے میں شامل تمام گاڑیوں کی چابیاں نکال کر پی پی پی کے قائد کو اوچ شریف کے باہر ہی رکنے پر مجبور کردیا۔ پیپلزپارٹی نے پنجاب پولیس کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے مخصوص پارٹی کی حمائت کے مترادف قرار دیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے قافلے کوجنوبی پنجاب کے اہم شہر اوچ شریف کے باہر روک لیا گیا ہے۔ بلاول کے قافلے کو پنجاب پولیس کی نفری نے روکا ہے اور پولیس فورس کی قیادت ایک ڈی آئی جی عہدہ کا آفیسر کررہا تھا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے پی پی پی کے قافلے کو اوچ شریف کے باہر روکا اور قافلے میں شامل تمام گاڑیوں کی چابیاں زبردستی نکال لیں اور قافلے کو آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ موقع پر جیالوں کی پولیس کیساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم بلاول بھٹو نے جیالوں کو پولیس کیساتھ جھگڑنے سے منع کردیا ۔ قافلہ کئی گھنٹوں سے اوچ شریف کے باہر ہی رکا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پولیس کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے شفاف انتخابات کے منافی قرار دیا ہے۔ پی پی پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا قافلہ روکنے والے ڈی آئی جی کا بھائی ملتان میں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہا ہے ایسے میں پنجاب پولیس کو کیسے غیرجاندار قرار دیا جا سکتا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم چلانا ہر امیدوار کا حق ہے، پنجاب پولیس بدمعاشی بند کرے۔بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب میں مہم چلانے سے خائف قوتیں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہیں۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے بلاول بھٹو کے قافلے کو روکنا سراسر دھونس ہے،پیپلزپارٹی کے ضبط کو مت آزمایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نگران حکمران حوش کے ناخن لیں،بلاول کا راستہ روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول جیالوں کا رہنما ہے اور جیالے راستہ بنانا جانتے ہیں،پنجاب کو پیپلزپارٹی کیلئے نو گو ایریا نہیں بنایا جا سکتا۔

Related posts