پشاورمیں خودکش حملہ:اے این پی رہنما ہارون بلور سمیت 20شہید


پشاو ر(نیوزلائن)پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے دھماکے سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور بشیر بلور کے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20افراد شہید اور 30سے زائد افراد زخمی ہوگئے ٗزخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کاخدشہ ہے ٗ واقعہ کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ۔سابق صدر آصف زرداری ‘ بلاوال بھٹو‘عمران خان‘ شہباز شریف ‘ مولانا فضل الرحمان و دیگر سیاسی و حکومتی شخصیات نے پشاور دھماکے پر شدید غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں اس وقت ہوا جب ہارون بلور کارنر میٹنگ میں داخل ہوئے اور اسٹیج کی طرف جارہے تھے کہ خودکش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا۔دھماکے کے نتیجے میں بشیر بلور کے بیٹے اور اے این پی کے پی 78 کے امیدوار ہارون بلور سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ہارون بلور کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور اللہ کو پیارے ہوگئے ۔سی سی پی او پشاور قاضی جمیل کے مطابق ہارون بلور کی کارنر میٹنگ کے دوران بم دھما کے میں 12 افراد جاں بحق اور تقریباً 30 افراد زخمی ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکا رات 11 بجے کے قریب کے ہوا اور اس حوالے سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔ پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کے اہلخانہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کا نشانہ اے این پی کے امیدوار ہارون بلور ہی تھے ۔نجی ٹی وی کے مطابق جلسہ گاہ میں ان کے بیٹے بھی ان کے ہمراہ تھے تاہم دھماکے میں دانیال بلور محفوظ رہے ۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد خدشے کا اظہار کیا کہ واقعہ خودکش حملہ ہوسکتا ہے۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے افراد نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیکر شواہد اکٹھے کئے ۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ خود کش تھا، ہارون بلور تقریب کے مہمان خصوصی تھے ان کے پہنچنے پر حملہ آور نے ان کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔عینی شاہد کے مطابق خود کش حملہ آور کا سر ہمارے گھر کی چھت پر آگرا تھا۔دھماکے کے دیگر زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر کے ہسپتال ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔بم ڈسپوزل یونٹ نے واقعے کو خودکش حملہ قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی۔قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اچھے معیار کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال ذوالفقار علی بابا خیل نے بتایا کہ ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور محفوظ ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ہارون بلور کے چچا اور قومی اسمبلی کے امیدوار الیاس بلور اور اے این پی کے سیکریٹری جنرل میاں افتخار سمیت مقامی قیادت ہسپتال پہنچی اور ہارون بلور کے جسد خاکی کو لواحقین کے حوالے کیا گیا اور ان کے گھر منتقل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ہسپتال میں سیکیورٹی کے پیش نظر پاک فوج کے اہلکاروں کو بھی تعینات کر دیا گیا ۔اے این پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد دھماکے اطلاع ملتے ہی ہسپتال پہنچی اور وہاں احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی۔دوسری جانب نگران وزیراعظم ناصرالملک نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔چیئرمین پی پی بلاول بھٹوکی طرف سے اے این پی کے جلسے میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن دہشت گردی کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اے این پی کی کارنر میٹنگ میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر دہشتگردی سے پاکستان اور جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وطن کو دہشتگردی سے محفوظ کرنا سب کی ذمہ داری ہے، پیپلزپارٹی دہشتگردی کے شکار ہر پاکستانی کے ساتھ کھڑی رہیگی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے دشمن دہشتگردی کے ذریعے ملک اور جمہوریت پر حملہ آور ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کتنے ہی شدید ہوں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ اور صدر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی گئی۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں شہباز شریف نے ہارون بلور کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ سوگواران کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل ادا کرے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت سے ہمارے دہشت گردی کے خلاف عزم مزید پختہ ہوا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے بہت کام کیا ہے اور ملک میں امن قائم کیا ہے۔انہوں نے ہارون بلور کی شہادت کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ایسے واقعات ہمارے عزم اور حوصلہ کو متزلزل نہیں کرسکتے۔قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے بھی خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد جمہوریت کا راستہ روکنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کل بھی ناکام ہوئے تھے اور آج بھی ناکام ہوں گے، ہم سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔خیال رہے کہ ہارون بلورپشاور میں 22دسمبر کو 2012 میں خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے اے این پی کے سینئر رہنما بشیر بلور کے صاحبزادے ہیں ۔یاد رہے کہ 7 جولائی کو کے پی کے ضلع بنوں کے علاقے تختی خیل میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے انتخابی امیدوارکے قافلے پر بم دھماکے سے امیدوار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق ایم ایم اے کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ 89 کے امیدوار شیرین مالک انتخابی مہم میں مصروف تھے کہ قافلے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں شرین مالک سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔

Related posts