سوات میں بدھا کا مجسمہ بحال

پاکستان کے شہر سوات کے علاقے جہاں آباد میں موجود بدھا کا مجسمہ 9 سال بعد اٹالین آرکیالوجسٹس کی مدد سے بحال کر دیا گیا ہے۔ ساتویں صدی میں تیار کیا گیا یہ مجسمہ ساوتھ ایشیا کا سب سے بڑا راک سکلپچر سمجھا جاتا تھا اور 2007 میں طالبان نے ایک حملے میں اس کے چہرے کا آدھے سے زیادہ حصہ توڑ دیا تھا ۔ طالبان نے اس مجسمہ کے چہرے اور بازو پر سوراخ کر دیے تھے۔ مجسمے کے کندھے میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد پھٹ نہیں پایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دنیا بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔budhaبدھ مت مذہب کے پجاریوں، مورخین اور آرکیالوجسٹس نے بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اٹالین آرکیالوجیکل مشن جو پاکستان میں موجود تھا انہوں نے 6 سائنسی مشن کے بعد اس مجسمہ کو مکمل کیا ہے۔ مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریہ اولویری نے کہا کہ یہ ہمارا پروفیشنل اور اخلاقی فرض تھا کہ ہم سوات اور پاکستان کے ورثہ کو بحال کریں۔ اس کے لیے 2012 سے 2016 تک پانچ مشن مکمل کرنے پڑے۔ اس مشن میں حصہ لینے والے ماہرین میں دو ٹرینر، دو 3 ڈی سکین ایکسپرٹ/ٹرینر، ایک چیف ریسٹورر، پانچ لوکل ریسٹورر، دو کارپینٹرز، تین واچ کیپرز موجود تھے جنہیں 3 ڈی ایکوپمنٹ اٹلی کی یونیورسٹی آف پاڈوا نے مہیا کیے تھے۔
یہ آرکیالوجی کمیونٹی ٹورزم فیلڈ سکول پراجیکٹ کے تحت بحال کیا گیا جس کے فنڈ اٹلی حکومت نے جاری کیے تھے ۔ یہ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم آف خیبر پختونخوا اور اٹالین آرکیالوجیکل مشن کا ایک مشترکہ پروجیکٹ ہے۔ فوبیو کولمبو جو بمیان افغانستان میں کام کر چکے ہیں اور مجسموں کی تیاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کا کہنا تھا کہ وہ جہاں آباد میں کام کر کے بہت لطف محسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس کام کی تاریخ میں بہت اہمیت ہے۔ یہ ایشیا کا سب سے بڑا پتھر کا مجسمہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت یہ علاقہ بدھ مت مذہب کا مرکز ہوا کرتا تھا۔سید نیاز علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں تبت سے آنے والے بدھ مت کے پجاری یہاں سوال میں آیا کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر ایک بار پھر سیاحت کا مرکز بنے گا اور بدھسٹ سیاح بھی یہاں آیا کریں گے۔ انٹرنیشنل اور نیشنل ٹورازم کو پروان چڑھانے کے لیے بدھا کا مجسمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔بدھا کے مجسمہ کی بحالی کے بعد پہلا وفد روس سے آیا جس نے اس کلاسک مجسمہ کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی۔ایک روسی ٹورسٹ یوری زورنو نے سوات کا دورہ کیا اور بدھ کی تاریخی یادگاروں کا معائنہ کیا اور کہا کہ انہیں بدھا کا مجسمہ دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف تاریخی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس کی خوبصورتی بھی قابل دید ہے۔ انہوں نے دنیا کے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ بدھا کے اس مجسمہ کو دیکھنے ضرور آئیں اور کسی قسم کا خوف نہ کھائیں کیونکہ اب اس شہر میں امن مکمل طور پر بحال ہو گیا ہے۔ایک اور روسی سیاح جو ماسکو کا ٹور ایجنٹ ہے اور روسی سیاحوں کو پاکستان لاتے ہیں کو بھی یہ مجسمہ بہت پسند آیا اور پاکستان میں امن کی بحالی پر بھی انہوں نے تسلی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں سکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ ہم جہاں بھی گئے آرمی افسران ہمارے ساتھ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحوں کے لیے ایک خوبصورت جگہ ہے۔
گلگت بلتستان کے رہائشی عبد الباری نے کہا کہ پاکستان کا شہر سوات بہت خوبصورت شہر ہے اور اس میں قدیم بدھ مت کے مجسمے موجود ہیں جواس شہر کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ اس وادی کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ دنیا بھر کے ٹورسٹ اس شہر کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ پاکستان میں ٹورازم کو بڑھانے کے لیے سیاحت کو پروموٹ کرنا چاہیے۔

Related posts