صحافت کا لاشہ : میاں محمد ندیم

صحافت کی آزادی اسی وقت ”خطرے“میں پڑتی ہے جب سیٹھ کے مفاد کو خطرات لاحق ہوں یا کسی بڑے”گروہ“کا کارندہ نشانے پر آجائے -ورکرکوذلیل کیا جائے‘اس کی تنخواہ روکی جائے‘وہ معاشی دہشت گردی کا شکار ہوکسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی-سیٹھ نے ٹریڈیونین میں دھڑے بندیاں کرواکر ایسا مارا ہے کہ لوگوں کے حقوق کی بات کرنے والا کارکن صحافی زندہ درگور ہوگیا ہے-تیئس برس کی خواری کا نچوڑ ہے کہ آزادی صحافت‘آزادی اظہار رائے سب فراڈ ہے -یہ موم کی ناک ہے سیٹھ مافیا جس طرف چاہے…

Read More