اعلیٰ نسل کے دانشور کا 29 سال قبل کا ارشاد

رفیع رضا کا شکریہ کہ انہوں نے یاد دلایا لگ بھگ 29 سال قبل اس ملک کے سب سے اعلیٰ نسل کے دانشور اور ….جیسے منہ والے صحافی ادیب شاعر سابق سفارتکار اور حاضر سروس چیئرمین پی ٹی وی عطاءالحق قاسمی نے ارشاد فرمایا تھاکہ ہرمہینے کے مخصوص ایام میں عورت نماز پڑھ سکتی نہ قرآن ، تو پھر حکمران بن کر ان مخصوص دنوں میں وہ اہم فیصلے کیسے کرسکتی ہے؟ ایام مخصوصہ میں کئے گئے تمام فیصلے مکروہ ہوں گے اور اس کی وجہ سے پورے ملک پر…

Read More

پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے ‘کبھی ختم نہیں ہو سکتی

حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے نتائج کو بنیاد بنا کر ملکی میڈیا اورسوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ تاثر پیش کرنے کی بھرپورانداز میں کوشش کی جاری ہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی خدانخواستہ ختم ہو چکی ہے، بات محض تنقید تک رہتی تو بھی کچھ مضائقہ نہ تھا، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اورسخت سے سخت ناقدین کی آراء کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتی…

Read More

مسلم لیگ (ن) کو فی الوقت ”صاف ستھری“ قیادت درکار ہے

تقریباً 25 سے 44اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل ایک گروپ ہے۔ برطانوی دور میں جب اس خطے میں پارلیمان جیسی کوئی شے متعارف ہوئی تھی،اس زمانے سے ان افراد کے خاندان سیاست میں ہیں۔ ان کے”آبائی حلقے“ ہیں۔یہ راجپوتوں یا جاٹوں کے ”سردار“ وغیرہ بھی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ”سرداری“ کا بھرم برقرار رکھنے کے لئے مگر ضروری ہے کہ ان کے علاقے کا ایس پی ان کا فون فوراََ سنے۔ اپنے حلقے میں مختلف امور سرانجام دینے والے سرکاری افسروں تک رسائی کو یقینی بنانے کی خاطر ہی…

Read More

میرا قصور کیا ہے۔۔۔؟

قبروں سے تاریک شاہی قلعے کے عقوبت خانوں کے باہر’ دوزخ ‘سے مستعار مستعد اہلکاراس قدر ’ڈیوٹی فل‘ ہیں کہ پرندے اڑنے پر بھی ضیائی اقتدار کیلئے خطرہ محسوس کرتے ہیں ،میں باہر ضیائی اقتدار کو سہارا دینے والوں کی شکلیں نہیں دیکھ سکتا لیکن چشمِ تصور میں مجھے سب کے سب بیوقوف کہتے اور ٹھٹھے لگاتے محسوس ہوتے ہیں جن پر مجھے غصہ نہیں ترس آتا ہے،میں شدید دکھ اور کرب میں مسکرا دیتا ہوں اور ان کیلئے بمشکل ہلنے والے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں اور مجھے…

Read More

مرثیۂ سیاست

دورِ زوّال ہے ورنہ میرزا داغؔ دہلوی زندہ ہوتے تو دہلی کی تباہی پر جس طرح کا شہرآشوب مسدّس انہوں نے لکھا تھا وہ آج تحریر کرتے تو موجودہ سیاست کا حال سننے والے دل تھام کر ہی اسے سن پاتے۔ الطاف حسین حالیؔ کا دور ہوتا تو وہ ”دہلی مرحوم‘‘ یا ”مدّوجزر اسلام‘‘ جیسا قومی مرثیہ لکھ دیتے۔ حضرت علامہ اقبالؔ ہوتے تو ”صقلیہ‘‘ اور ”گورستان شاہی‘‘ جیسے قومی مرثیے کو یوں لکھتے کہ مرثیہ کا دورِ خلیقؔ و ضمیرؔ اور زمانۂ انیسؔ و دبیرؔ زندہ ہو جاتا مگر…

Read More