آئی ایم ایف – تحریر: شفقت ندیم


آئی ایم ایف نے تو ہماری آئیز کے ساتھ ساتھ ہائی بھی نکال دی ہے۔ اب تو قرضوں کا حجم ہمارے مولانا کے پیٹ کی طرح اتنا بڑھ گیا ہے کہ پوری قوم نے ہائی ڈیبٹ (مزید قرضے) کا ورد کرنا شروع کر دیا ہے۔شروع دن سے ہماری یہ روایت رہی ہے کہ ہمارے صاحبان اختیارفی الفور فارن ڈیبٹ کے لئے فوراًسامان سفر باندھ کر ایف کی جگہ سی کا استعمال عمل میں لاتے ہوئے امریکی یاترا کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں اور واپسی پربوئنگ جس جس ملک کے اوپر سے گوئنگ کرتا ہے اونچی اونچی عمارتیں اور پلازے بناتے ہوئے اپنے ملک میں لینڈ کرتے آتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کی طرح ہماری قوم نے قرضوں کی صورت میں بڑھتے ہوئے اس حجم کا درجہ حرارت بھی اب محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔انگریزی بڑی چالاک چیز ہے جس نے ایف کے آگے جی کو جگہ دی ۔ ہمارے حکمرانوں کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جب بھوک لگے، آئی ایم ایف کی جو مرضی شرائط ہوں بس فنڈزکے لئے جی جی کرنا شروع کردیتے ہیں۔
آئی ایم ایف سے اگر ہمیں جان چھڑانی ہے تو پہلے ہمیں آئی ایم ایف کا بغور جائزہ لینا پڑے گا بالکل اسی طرح جیسے جوہری عینک کو آنکھوں سے تھوڑا نیچے(تاکہ ناک کو اچھی طرح قابو کر سکے) اور نظروں کو تھوڑا اوپر کر کے پہلے سونے اور پھر سونے والی خاتون کی تسلی اس نیت سے کرتا ہے کہ مال کہیں چوری کانہ ہو۔ آئی اور ایم (میں ہوں)تو مجھے کچھ کچھ اپنے لگتے ہیں لیکن ایف کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔اب غور کرنے کی بات سب سے پہلے یہ ہے کہ دال کونسی ہے اور دال میں کالا کیا ہو سکتا ہے۔کیایہ دال ۔۔۔میری بھوک مٹانے کے لئے ہے؟میری زندگی کوبہتر کرنے کے لئے ہے؟ یامیری صحت اور تعلیم کے لئے ہے؟آخر یہ کس قسم کی دال ہے کیوں کہ بیان کردہ تینوں قسموں نے نہ تو میری بھوک مٹائی ہے، نہ میری زندگی کو کچھ بہترکیا ہے اور نہ ہی مجھے سرکاری ہسپتال و سکول میں علاج اورتعلیم کی وہ سہولیات مہیا کیں ہیں جو مجھے ملنی چاہئیں۔قرضے والی یہ دال وہ دال نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں یہ تو وہ دال ہے جو مرغا چن لیتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مرغا بھی ایک نہیں بلکہ کئی ہیں اور ستر سال سے اس دال(قرضے) کو چن چن کر کھا رہے ہیں لیکن ان کا پیٹ ہے کہ بکری کی طرح بھرتا ہی نہیں ۔ یہ ایسی خاص خصوصیت کے مرغے ہیں کہ نہ سیاہ دیکھتے ہیں اورنہ سفید جو سامنے آتا ہے کھا جاتے ہیں۔
ویسے ایف سے مراد کہیں فُول تو نہیں جو ہمیں بین الاقوامی قوتوں کی طرف سے کئی دہائیوں سے بنا یا جا رہا ہے۔فُول بننے سے بھی شائد گزارا ہو جاتا اگر ہمارے صاحبان اختیار قوم سے فاؤل نہ کرتے اورحاصل شدہ قرضہ ایسے تعمیراتی پروجیکٹس پر لگاتے جس سے نہ صرف ہماری استطا عت کار میں اضافہ ہوتا بلکہ ہماری آمدن بھی بڑھتی۔اب ہمارے پاس نہ استطاعت ہے اور نہ کار یہ دونوں چیزیں کچھ مرغوں نے مل کر ہم سے چُرالیں ہیں۔ ہم اتنے فُول ہیں کے فُول کے ساتھ ساتھ فاؤل کو بھی ہنس کر برداشت کرلیتے ہیں۔ہماری انہیں صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مغرب نے اب ہمیں اپریل فول کاتحفہ دیا ہے جسے ہم اعزاز سمجھتے ہوئے بڑے فخر کے ساتھ مناتے ہیں۔ مغرب جانتا ہے کہ ان مشرقوں کے پیٹ فل نہیں ہوتے لہذا انہیں اسی ایف کے چکر میں الجھائے رکھیں۔میری نظر میں آئی ایم ایف کا کردار تمام ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پاکستان کے لئے فولز گولڈکی طرح ہے جس کا کام ماسوائے فُول بنانے اورفاؤل کھیلنے کے اور کچھ نہیں۔اس درجہ حرارت کو کم کرنے کے لئے درخت لگانے کے ساتھ ساتھ ان مرغوں کا بھی علاج ڈھونڈنا پڑے گا تا کہ ان کی بھوک ختم ہو سکے جو ساری دال کو جھوٹی قسمیں سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔
کاش اس ایف سے مراد فری ہو ۔مطلب یہ نہیں کہ قرضہ ٹیکس فری ہو کیونکہ فری کی تو ہم موت بھی نہیں چھوڑتے۔ فری سے مراد ہم قرضہ’ فری ملک بن جائیں تا کہ ہم اور ہمارے بچے عزت و وقار کی زندگی بسر کریں۔ میں سر اُٹھا کر آئی ایم ایف کوکہہ سکوں کے اے آئی ایم ایف آئی ایم فری ۔دنیا ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے جانے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم بیرونی قرضوں سے مکمل نجات کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔

Related posts