آبادی پر کنٹرول کئے بغیر کوالٹی ایجوکیشن ممکن نہیں : ڈاکٹر زہرہ بتول

انٹرویو : احمد یٰسین
معاشرت انسان کی سرشت میں شامل ہے اور طرز معاشرت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ سائنس بن چکی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے اس معاشرتی سائنس کے اسرار ورموز سے آگاہی وقت کی ضرورت ہے۔دور جدید میں سماج سدھار کے علم کا صرف ایک پہلو سے جائزہ نہیں لیا جا رہا بلکہ ہر پہلو سے الگ الگ اور سب کا ہمہ جہتی مطالعہ بھی کیا جا رہا ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے سماج سدھار کے علم سوشل سائنسز کے متعدد پہلوؤں کو الگ الگ پڑھانے کا انتظام کررکھا ہے۔ سوشل سائنسز کے اہم جزو” سوشیالوجی” کا الگ سے ڈیپارٹمنٹ بھی قائم ہے۔ سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی چیئرپرسن ڈاکٹر زہرہ بتول سے مختلف حوالے سے گفتگو نذر قارئین ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی آبادی ہے تو یہی آبادی اس کی کمزوری بھی بنتی جارہی ہے۔ آبادی میں انتہائی تیزی کے ساتھ ہونے والا اضافہ ملکی وسائل اور مسائل کے درمیان تفاوت کو فروغ دے رہا ہے۔ آبادی میں انتہائی تیزی کے ساتھ اور مسلسل ہونے والا اضافہ حکومتی پلاننگ کو بھی کامیاب نہیں ہونے دے پا رہا۔ کسی بھی شعبے میں منصوبہ بندی کا انحصار پاپولیشن پر ہی ہوتا ہے اور اگر آبادی میں اضافی کنٹرول میں ہی نہ آئے تو وسائل کا کم ہونا یقینی ہو جاتا ہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ نوجوان ہماری آبادی کا 51فیصد ہیں۔ یوتھ کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرکے ہم انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ مگر اس کو مثبت سرگرمیوں کیلئے استعمال یقینی بنانا بھی لازم ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں یوتھ کو فارغ بٹھائے رکھنے سے مسائل بھی پید اہورہے ہیں۔ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ہوگا۔ نوجوانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ کاروباری مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ انہیں ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ انہیں ملکی ترقی کے عمل میں حصہ دار بنانے کی موثر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
کوالٹی ایجوکیشن کا معاملہ بھی آبادی کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے۔ جتنی بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں ‘ کالجوں میں داخلے ہو رہے ہیں ایسے میں کوالٹی ایجوکیشن ممکن ہی نہیں ہے۔ سو کی کلاس میں ایک ٹیچر کیسے کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنا سکتا ہے۔ یونیورسٹی سطح پر بھی پچاس سے ساٹھ کی کلاس بن رہی ہے۔ ایسے میں ایک ٹیچر سب طلبہ پر انفرادی توجہ دے ہی نہیں سکتا۔ کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے ہی ایک معاملہ انفراسٹرکچر کا بھی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی محدود تعداد میں جب آبدی کے بڑے حصے کو تعلیم دینا بھی ضروری ہو تو داخلہ زیادہ رکھنا ہی پڑتا ہے۔ یہ بھی حکومت کا مثبت اقدام ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کالج و یونیورسٹی سطح کی تعلیم دینے کے مواقع پیدا کررہی ہے۔ اس سے عوامی سطح پر شعور میں اضافہ ہورہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی پرکنٹرول اور انفراسٹرکچر میں اضافے سے کوالٹی ایجوکیشن یقینی ہوتی جائے گی۔ ہم اپنے طور پر کوشش کررہے ہیں کہ کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنائی جا سکے ۔ ہر کسی کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب کے احساس ذمہ داری لینے سے ہی معاملات ٹھیک ہوں گے۔

سوشیالوجی بہت اہم علم ہے۔ یہ انسان کو دنیا کے ساتھ چلنے اور معاشرے میں جینے کا ہنر دیتا ہے۔ سوشیالوجی کا لفظ ہی سوسائٹی سے مربوط ہے۔ ایسا شعبہ جو سوسائٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سوسائٹی میں جینے کا ‘ اس کے اسرارورموز کا علم دیتا ہے اور سوسائٹی میں زندہ رہنے کے گر سکھاتا ہے۔ سوشیالوجی سمیت سوشل سائنسز کے تمام سیکٹرز میں زیادہ سے زیادہ ریسرچ یقینی بنانی چاہئے۔ ریسرچ کلچر سے ہی ان علوم میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔
ہم اپنے شعبے میں ریسرچ کلچ کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ میں یہاں چارج سنبھالتے ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا شروع کروائی۔ ایم فل کی سطح پر بھی ریسرچ اور جدید ریسرچ پر فوکس کیا جارہا ہے۔ ریسرچ کرنے کے ساتھ اس کا معاشرے کے ساتھ لنک بھی ضروری ہے۔ ہم اپنے تمام ریسرچ سکالرز کو معاشرے میں جاکر کام کرنے پر زور دیتے ہیں۔ یقینی بناتے ہیں کہ وہ اس کیلئے خود سوسائٹی میں جائیں اور سوسائٹی کے متعلقہ سیکٹرز کا خود حصہ بن کر تحقیق کرے۔ اسی صورت میں ہی ریسرچ کا فائدہ بھی ہوگا اور ریسرچ کے عملے نتائج بھی حاصل ہو سکیں گے۔

Related posts