اختیارات کا رونا رو تے محکمہ ماحولیات نے شہریوں کی زندگی داؤ پر لگا دی


فیصل آباد (احمد یٰسین) اختیارات نہ ہونے کا رونا رو تے ہوئے محکمہ ماحولیات نے فیصل آباد کے ایک کروڑ شہریوں کی زندگی داؤ پر لگا دی۔ ماہرین فیکٹریوں کے دھویں کو انسانی زندگی کیلئے زہر قاتل قرار دے رہے ہیں اور سماجی سرگرمیوں میں رکاوٹ بننے والی سموگ کا موجب بھی یہی فیکٹریوں کا دھواں قرار دیا جا چکا ہے۔ مگر محکمہ ماحولیات دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہے ۔ صرف فیصل آباد میں دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کیخلاف 90ہزار سے زائد شکایات بغیر کارروائی پڑی ہیں۔نیوزلائن کے مطابق محکمہ ماحولیات فیصل آباد میں طویل عرصے مفت کی تنخواہیں وصول کر رہا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات شوکت حیات ہر وقت اختیارات نہ ہونے کا روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔فیصل آباد میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کیخلاف 90ہزار سے زائد شکایات پر کارروائی ہی نہیں کی گئی۔سردی کی آمد کیساتھ ہی سموگ کا عفریت منہ کھولے سماجی زندگی کو نگلنے کیلئے تیار کھڑا ہے۔مصنوعی بیداری دکھاتے ہوئے محکمہ ماحولیات نے تین فیکٹریوں کو سیل کردیا اور چند ایک کو نوٹس دیدئیے مگر شہر بھر میں دھواں اگلتی فیکٹریوں اور موٹر وہیکل عوام کیلئے عذاب بنی ہوئی ہیں ۔ ہزاروں شکایات محکمہ نے ردی کی ٹوکری کی نذر کر رکھی ہیں ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اب مصنوعی کارکردگی دکھانے کیلئے دکھاوے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں اس کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات کو اختیارات یاد آگئے ہیں سارا سال خواب خرگوش میں ڈوبے رہے اور شہر کی فضاء کو آلودہ کرنے والوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment