اربوں کا پراپرٹی فراڈ کرنیوالے ’’چن ون گروپ‘‘ کا نیا پراجیکٹ لانچ



فیصل آباد (احمد یٰسین ) اربوں روپے کا پراپرٹی فراڈ کرنے اور نیب تحقیقات بھگتنے والے چن ون گروپ نے اپنے گزشتہ پراپرٹی منصوبوں کو ادھورا ہی چھوڑتے ہوئے ایک نیا منصوبہ لانچ کردیا ہے ۔ چن ون گروپ کے سابقہ منصوبوں کے تناظر میں نئے منصوبے کے حوالے سے بھی خدشات لے رہے ہیں ۔ گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جانیوالے چن ون گروپ کے مالکان کے خلاف نیب تحقیقات جلد مکمل کرنے اور ان سے لوٹی گئی دولت واپس لینے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔ جبکہ پرانے منصوبوں کی عدم تکمیل تک اس گروپ کے تمام افراد کے نئے پراپرٹی منصوبے شروع کرنے پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق چن ون گروپ نے چند سال قبل ’’کولاہ‘‘کے نام سے ایگزیکٹو فلیٹس بنانے کا اعلان کیا مگر شہریوں سے اربوں روپے اکٹھے کرنے کے باوجود چن ون گروپ نے لاہور ‘ اسلام آباد اور فیصل آباد میں اس منصوبے پر کام ہی شروع نہ کیا۔ فیصل آباد میں صرف چھے ماہ میں فلیٹس بنانے کا اعلان کرنے والوں نے کئی سال گزرنے کے باوجود اس کو مکمل نہ کیا۔ لاہور اور اسلام آباد میں منصوبے کیلئے ابتدائی اقدامات بھی نہ کئے گئے۔ اربوں روپے کا فراڈ سامنے آنے پر نیب نے اس معاملے کی انکوائری شروع کردی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ چن ون گروپ کے سرکردہ افراد سیاسی تحفظ لے کر حکومتی اداروں سے بچتے رہے ہیں اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے ہی فراڈ پر فراڈ کررہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں ۔۔ پی ٹی آئی رہنما کے چن ون گروپ کا اربوں روپے کا پراپرٹی فراڈ۔

ذرائع کے مطابق چن ون گروپ ایک معروف صنعتی ادارے چناب لمیٹڈ کا ذیلی ادارہ ہے اور دونوں گروپوں کے ذمہ داروں میں معروف صنعتکار میاں محمد لطیف ‘ پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری اشفاق ‘ مسلم لیگ ق کے سابق ایم این اے میاں فرحان لطیف ‘ کاشف اشفاق‘ میاں جاوید اقبال شامل ہیں جبکہ ’’کولاہ‘‘ کے پراجیکٹ میں ان کے ساتھ معروف آرکیٹیک شاہ نواز بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے اس حوالے سے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کررکھی ہیں جبکہ چن ون گروپ کے ذمہ داران اپنا بزنس اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے نیب کے شکنجے سے بچنے میں سرگرم ہیں۔ ذرائع کے مطابق چن ون گروپ کے سابق پراپرٹی پراجیکٹ ابھی نامکمل ہیں اور ان کے اربوں روپے کے فراڈ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں کہ ایسے میں انہوں نے اوکاڑہ میں چن ون مال کے نام سے نئے منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ اس پر بھی چن ون گروپ نے کام بھی شروع نہیں کیا اور ابتدائی اقدامات بھی نہیں کئے کہ ایک مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ مل کر لوگوں سے رقوم کی وصولی کرنا شروع کردی ہے۔ لوگوں سے بھاری رقوم اکٹھی کی جارہی ہیں جبکہ مال کے نام پر ابھی سائٹ پرایک اینٹ بھی موجود نہیں ہے۔اوکاڑہ کی انتظامیہ نے ابھی تک اس منصوبے کی منظوری بھی نہیں دی۔ اس صورتحال پر بزنس حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ چن ون گروپ کے ذمہ داران کے سابقہ پراپرٹی فراڈ اور اربوں روپے کی نیب تحقیقات کے تناظر میں چن ون مال اوکاڑہ کے حوالے سے بھی خدشات پائے جارہے ہیں۔ چن ون مال کے معاملات اور چن ون گروپ کے سابقہ پراپرٹی فراڈ اور نیب تحقیقات کے حوالے سے چن ون گروپ کے ذمہ داران کا موقف جاننے کیلئے میاں لطیف‘ چوہدری اشفاق‘ فرحان لطیف اور کاشف اشفاق سے الگ الگ رابطہ کیا گیامگر کسی ایک نے بھی اس حوالے سے اپنا موقف دینا گوارا نہ کیا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں ۔۔ چن ون اور چناب لمیٹڈ33کروڑ روپے کے ٹیکس نادہندہ نکلے ۔

Related posts