اقتدار کی جنگ : زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سیاسی اکھاڑہ بن گئی


فیصل آباد (احمد یٰسین) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ملک کے پڑھے لکھے ترین طبقہ نے اقتدار کی جنگ عروج پر پہنچا دی۔ پی ایچ ڈی سکالرز کی حصول اقتدار کیلئے جنگ کی وجہ سے ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہونیوالی جامعہ زرعیہ فیصل آباد سیاسی اکھاڑہ بن گئی ہے ۔ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا ء اللہ نے بھی یونیورسٹی کو سیاسی اکھاڑہ بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ یونیورسٹی کے انتظامی معاملات متاثر ہونے سے تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیاں بھی درہم برہم ہورہی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں حصول اقتدار کیلئے ملک کے پڑھے لکھے ترین افراد میں جنگ اپنے عروج پر ہے۔ انا کے خول میں قید پی ایچ ڈی سکالرز کئی دھڑوں میں منقسم ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے سرگرم اور اس کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تلے بیٹھے ہیں۔زرعی یونیورسٹی کے سینئر ترین ریسرچ سکالرز ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اقتدار کی غلام گردش میں اپنا کردار مضبوط بنانے کیلئے عدالتوں کا سہارا لینے سمیت ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ یونیورسٹی کے سینئر ترین اساتذہ نے جامعہ کی انتظامیہ کیخلاف درجنوں مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں دائر کررکھے ہیں۔ چند روز قبل بھی ایسے ہی ایک کیس میں عدالت عالیہ نے یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر کو کام کرنے سے روکدیا ۔یہ مقدمہ ایک سینئر ریسرچ سکالر نے دائر کر رکھا تھا۔ وی سی کو عدالت عظمیٰ سے رجوع کرکے حکم امتناعی لینا پڑا۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جامعہ زرعیہ کے سینئر اساتذہ نے ایک دوسے کیخلاف اور یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف درجنوں مقدمات دائر کررکھے ہیں ۔ جو انتظامیہ اور اساتذہ کا وقت ضائع کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ماضی میں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے بھی سابق وی سی ڈاکٹر اقرارکیخلاف عدالتوں میں کیس دائر کئے رکھے اور انہیں ٹف ٹائم دینے کی کوشش میں رہے۔ اب ایسی ہی صورتحال کا سامنا انہیں خود کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالتوں میں یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف درجنوں کیسز زیر التوا ہیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ایک دوسرے کونیچا دکھانے اور یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کے مالک بننے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ تحقیق و تدریس کا مقدس فریضہ نبھانے والوں نے اس پیشے کے تقدس کو مجروح کرتے ہوئے صرف یونیورسٹی کے خزانے پر براجمان ہونے کو ہی اپنا مطمع نظر بنا لیا ہے۔ اساتذہ اور انتظامی افسران کے ایک دوسرے کیخلاف اور یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف کیسز کی وجہ سے یونیورسٹی میں انتظامی امور بھی متاثر ہورہے ہیں جبکہ تدریسی سرگرمیوں اور ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

Related posts