الیکشن کیلئے تعینات تھانیدار کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کرنے لگے



فیصل آباد (عاطف چوہدری) پولیس افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ضلع بھر کے پولیس اسٹیشنز میں بھاری پیمانے پر کرپشن ہونے کا انکشاف ہوا ہے، الیکشن تعیناتی کا بہانہ بنا کر نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز اور محرران موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کھلے عام ،، مک مکا اور رشوت،، لینے میں مصروف ہیں، جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کی بجائے تھانوں میں انھیں پورا پروٹوکول دیا جا رہا ہے، گزشتہ دنوں دو تھانوں کی پولیس نے کرپشن کے عالمی ریکارڈ توڑے ہوئے ڈکیتی کی ملزمہ اور منشیات فروش کو کئی گھنٹے تھانے میں پروٹوکول دینے کے بعد بھاری رشوت لے کر رہا کر دیا، ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکم پر ضلع فیصل آباد میں نئے تعینات ہونے والے اعلی پولیس افسران سے لے کر محرران تک اپنی تعیناتی کو الیکش تک سمجھ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن ختم ہوتے ہی ہمیں دوبارہ تبدیل کر دیا جائے گا، اس لئے پولیس افسران و ماتحتان موقع کی مناسبت سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہیں، ضلع بھر کے پولیس اسٹیشنز میں رشوت کے لئے کھلے عام بارکیننگ کی جاتی ہے، تھانوں میں تعینات محرران اپنے بیٹ انچارج، گشتی پارٹیوں، یوسی و ایگل اسکواڈ سے صاف لفظوں میں رشوت طلب کرتے پائے گئے ہیں، تھانوں میں ملزمان کو خصوصی پروٹوکول دیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ رقم بطور رشوت مل سکے، تھانوں میں کھلے عام ملزمان سے لین دین کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام تھانے ،، ٹاوٹوں ،، کے نرغے میں ہیں، ذرائع کے مطابق تھانہ ساندل بار کے علاقہ نڑوالا بنگلہ میں16 جولائی کی صبح ایک خوبرو حسینہ اپنے نوجوان ساتھی اور کمسن بچے کے ساتھ گھر کرایہ پر لینے کے بہانے ایک گھر میں داخل ہوئی اور گھر سے 60 ہزار مالیت سے زائد کا موبائل فون لے کر فرار ہوگئے، اہل علاقہ نے فوری طور پر ملزمان کا پیچھا کر کے خاتون کو قابو کر کے ساندل بار پولیس کے حوالے کر دیا ، پولیس نے مزکورہ چورنی کو بیس گھنٹے سے زائد تھانے میں رکھ کر پروٹوکول دیا اور بعد ازاں اس کے پیچھے آنے والے افراد سے بھاری رشوت اور چوری کیا ہوا موبائل لے کر لڑکی کو چھوڑ دیا، سی پی او آفس کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود رشوت خور پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی، اسی روز رات کو تھانہ بٹالہ کالونی پولیس کے ایگل اسکواڈ اہلکاروں نے ستیانہ روڈ پر گیٹ چوک کے قریب ناکہ لگا کر چیکنگ کے دوران شہباز نامی منشیات فروش کو 200 گرام سے زائد چرس اور چالیس ہزار سے زائد رقم سمیت گرفتار کر کے اے ایس آئی اسلم کے حوالے کردیا اور مال مقدمہ بھی اس کے حوالے کر دیا، جبکہ اسلم نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے ایس ایچ او کے کار خاص غلام مصطفیٰ کے ساتھ مل کر ملزم کی رہائی کے عوض رشوت کے لئے بارکیننگ شروع کر دی، بٹالہ کالونی پولیس غلام مصطفی کے ذریعے رات بھر ملزم کو ملنے کے لئے آنے والوں کو ایک لاکھ کے عوض ملزم کی رہائی آفر کرتی رہی، رات بھر پولیس ملزم کے نخرے اٹھاتی رہی، بعد ازاں ملزم کو پندرہ گھنٹے سے زائد وقت تحویل میں رکھ کر بھاری رشوت کے عوض رہا کر دیا گیا، جبکہ رابطہ کرنے پر ایس ایچ او سمیت بٹالہ کالونی پولیس ملزم کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ۔

Related posts