امن کے بغیر ترقی کا خواب ممکن نہیں ہوسکتا: امینہ زمان

شعور قوموں کا اثاثہ ہوتا ہے’ اور عوامی سطح پر شعور و آگاہی کیلئے سول سوسائٹی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا سکتا۔ این جی اوز کے حوالے سے اگرچہ عوام میں منفی خیالات پائے جاتے ہیں لیکن ان غیر سرکاری تنظیموں کے مثبت کردار کو بھی نظر انداز کرنا کسی طور ممکن نہیں۔ فیصل آباد میں سماج سدھار کارروائیوں اور پسے ہوئے طبقات کی مؤثر آواز کے طور پر ایک نام تسلسل کے ساتھ سنا جاتا ہے اور سماجی کارکنوں کی بہت بڑی تعداد ان کی آواز کے ساتھ آواز ملانا اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہے۔ ذکر ہے چالیس سال سے غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ وابستہ اور لیفٹ کی مؤثر ترین آواز کے طور پر جانے جانیوالی امینہ زمان کا ۔ امینہ زمان کے ساتھ مختصر سی نشست میں سیاست اور جمہوریت کی اتار چڑھاؤ’ این جی اوز کے کردار’ شعوری انحطاط ‘ تعلیمی پستی’ خواتین و پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے تحفظ کے میکانزم بارے گفتگو ہوئی جو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو : احمد یٰسین’ ندیم جاوید

پاکستان میں نظریات کی سیاست کے دن گزر چکے’ اب یہاں صرف پیسے کی سیاست ہورہی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لیفٹ کی سیاست ملک میں نہیں رہی مگر اس بات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ دائیں بازو کی سیاست بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ دائیں بازو کی اگر کچھ شخصیات یا جماعتیں پارلیمنٹ میں نظر بھی آتی ہیں تو ا سکے پیچھے دائیں بازو کی نظریاتی سیاست نہیں شخصیات کی ذاتی کوششیں شامل ہیں۔ لیفٹ کی سیاست کو سب سے نقصان لیفٹ کے سیاسی لیڈروں نے ہی پہنچایا۔ گراس روٹ لیول پر کام ہی نہیں کیا گیا۔ عوام تک رسائی حاصل کرنے اور عوام میں اپنے نظریات پہنچانے کی بجائے لیفٹ کے سیاسی رہنماؤں نے ڈرائینگ روم سیاست کی جس کا خمیازہ آج لیفٹ کی سیاست کے خاتمے کی طرف مائل رجحان سے لگایا جا سکتا ہے۔ گراس روٹ لیول پر کام کئے بغیر لیفٹ کی کسی جماعت کیلئے کامیابی ممکن نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں پیسے کی سیاست مسلسل پروان چڑھی ہے اور اس کو ایک ایجنڈے کو طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ آج ہماراووٹر اس قدر خود غرض ہو چکا ہے کہ کھلے عام ووٹوں کا سودا کرتا ہے۔ ایک محدود طبقہ ہے جو ووٹ کی اہمیت کو سمجھتا ہے جبکہ بہت بڑی تعداد میں ووٹر کیلئے ووٹ مفادات کے بیوپار کا ”ٹول” ہے۔ ووٹ صرف اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے پیسے کا استعمال نہیں ہوتا دوسروں کے ووٹ بنک کو نقصان پہنچانے کیلئے ووٹ خریدے جاتے ہیں۔
ہمار اپورا سسٹم خراب ہو چکا ہے۔ عمران خان لوگوں کو بہت امیدیں دلا کر اقتدار میں آیا تھا۔ لیفٹ کے لوگوں کو ہی نہیں عام فہم شہریوں کو بھی عمران خان سے بہت امیدیں تھیں مگر اب تک کے پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات نے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ مہنگائی کا جن منہ کھولے سب کچھ نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ عام آدمی کیلئے زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان کے ارد گرد وہی چہرے نظر آرہے ہیں جو ماضی میں پی پی پی ‘ پی ایم ایل این’ جماعت اسلامی اور” سٹیٹس کو”کی دیگر جماعتوں کے لیڈران کے ہم رکاب ہوتی تھیں۔ ان تمام عوام نے لوگوں کو عمران خان اور پی ٹی آئی سے بددل اور سسٹم سے مایوس کیا ہے۔ خدشہ ہے کہ مایوسی کے اس سیلاب کے سامنے توانا امید کا بندھ نہ باندھا گیا تو ملک میں جمہوریت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوہرے معیارات کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے ۔ ملک ریاض سے پیسہ لے کر معافی دے دینا’ عمران خان کو بنی گالا محل ریگولرائز کرنے کا موقع دینا اور غریب لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا دینا۔ یہ ایک ہی جیسے کیسز میں انصاف کے تہرے معیار کی عکاسی ہے۔ عدلیہ کو اس سب پر سوچنا ہوگا۔ انصاف کے دوہرے معیار بدلنا ہوں گے۔ سب کیلئے ایک قانون اور قانون کی ایک تشریح کئے بغیر حالات میں درستگی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

انصاف کی پہلی سیڑھی عدالتیں نہیں ‘تھانہ ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نعرے تو بہت لگاتی رہی مگر تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ پولیس کاخوف کم ہوا نہ پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان لنک ختم ہوسکا۔ عام آدمی آج بھی تھانے جانے سے ڈرتا ہے۔ سفارش اور رشوت کے بغیر کسی کی تھانے میں شنوائی نہیں ہوتی۔ اس سب کو بدلے بغیر عوام کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاسکتی۔ حکومت اگر عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا چاہتی ہے تو تھانہ کلچر کی تبدیلی پر فوکس کرے۔ باقی تمام معاملات خود ہی بتدریج ٹھیک ہوتے جائیں گے۔
پاکستان میں ایک سازش کے تحت نظام تعلیم کو تباہ اور تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں نجی سکولز مافیا ”تعلیم برائے فروخت” کے بورڈ لگا کر لوگوں کو پھانسنے کی کوشش کررہا ہے۔ چند ایک بہت اچھے پرائیویٹ سکولوں کے سوا تمام پرائیویٹ سکول بیگار کیمپ بنے ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن تو بہت دور تعلیم نام کی بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ دڑبہ نما پرائیویٹ ٹ سکولوں میں ان پڑھ اور ناہل ٹیچرز بچوں کو بگاڑنے کیلئے سرگرم ہیں۔ پرائیویٹ سکولز مافیا نے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرکے ایک سازش کے تحت سرکاری سکولوں کا نظام درہم برہم کیا ہے۔ اس سب کے باوجود آج بھی سرکاری سکولوں کے اساتذہ پرائیویٹ سکولوں کے ”ٹیچرز ”کی نسبت زیادہ محنتی’ زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ قابلیت والے ہیں۔ سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر بھی پرائیویٹ سکولوں کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ حکومت کو فروغ تعلیم کیلئے سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانا ہوگا۔اور پرائیویٹ سکولز مافیا کو قوادوضوابط کا پابند بنانا ہوگا۔صرف سکول ہی نہیں اب تو سرکاری کالجوں کو تباہی کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ سرکاری کالجوں کو مہنگا کرکے اور ان کے حوالے سے عوام میں بداعتمادی پھیلا کر کس کی خدمت کی جارہی ہے یہ سب پر عیاں ہے۔

امن کے بغیر ترقی کا خواب ممکن نہیں ہوسکتا۔ ملکوںکی دوستیاں بدلی جاسکتی ہیں مگر کوئی ملک اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے انڈیا کو امن کا پیغام دے کر اچھا اقدام اٹھایا ہے۔ فتح اور فاتح سے قطع نظر جنگ کسی ایک کا نقصان نہیں کرتی۔ جنگوں میں دونوں طرف کا نقصان ہوتا ہے۔ اس سے بچنا ہی چاہئے۔ امن کی خواہش سے زیادہ کوئی اچھی بات نہیں۔ ہمیں بھارت کے ساتھ مستقل امن کی راہ تلاش کرنا ہوگی۔ صرف بھارت ہی نہیں اپنے دیگر ہمسائیوں کے ساتھ بھی امن کے ساتھ رہنے کی پالیسی اپنا ہوگی۔ ملک میں امن قائم نہ ہوسکا تو سی پیک جیسے منصوبے بھی ہمیں ترقی کے زینے پر نہیں لے جاسکیں گے۔
این جی اوز ملک دشمن نہیں ہیں۔ این جی اوز کے بھیس میں اگر کوئی ملک دشمنی کررہا ہے تو اس کو تلاش کرکے اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے مگر سب کو ایک ہی رسی سے باندھ دینا کسی طور درست طرزعمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ این جی اوز صرف یہ تنظیمیں ہی نہیں ہیں جو ڈویلپمنٹ سیکٹر یا حقوق کے تحفظ کی آواز بن کر کام کررہی ہیں۔ یہ کالعدم قرار دی جانیوالی تنظیمیں بھی تو این جی اوز یا غیرسرکاری تنظیمیں ہی ہیں۔ ملک دشمنی میں جو بھی ملوث ہو اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے مگر بلاوجہ کسی کو تنگ کرنا بھی درست نہیں ہے۔ ملک میں بہت سی این جی اوز بہت اچھا کام کررہی ہیں ۔ پسے ہوائے طبقات کے حقوق کی آواز بلند کرنا کیسے غلط قرار دیا جاسکتاہے۔ ہمارا آئین خواتین ‘ اقلیتوں اور دیگر مظلوم طبقات کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین پر مکمل طور پر عمل کرنے کا مطالبہ کرنا غلط تو نہیں قرار دیا جاسکتا۔ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے اور آئین و قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں روا رکھنا چاہئے۔

Related posts