تخلیقی کام کیلئے دباؤ سے پاک ماحول ناگزیر ہے’ تہمینہ افضل


فنون لطیفہ کسی بھی قوم’ علاقے اور ادارے کی پہچان ہوتے ہیں اور فنون لطیفہ کی ترویج کیلئے کام کرنے والے افراد اور ادارے قوموں کی شناخت بناتے ہیں۔موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے کھنڈرات سے ملنے والے فنون لطیفہ کے شاہکار ہی ان قوموں کی شناخت ہیں او ربودوباش کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ پیرس کی شناخت اس کی فیشن انڈسٹری ہے تو مونا لیزا ایک زمانے سے فن مصوری کے شاہکارکے طور پر دنیا میں بھر میں اپنا منفرد مقام بنائے ہوئے ہے۔آثار قدیمہ ہوں یا جدیدہ فنون لطیفہ کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ فیصل آباد میں جی سی یونیورسٹی کا” انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن” اچھوتے انداز میں فنون لطیفہ کی تعلیم دینے کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت بنائے ہوئے ہے۔ مستقبل کے آرٹسٹوں کے فن کو نکھارنے والے ”انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن ” کی انچارج کی ذمہ داری تہمینہ افضل نبھا رہی ہیں ۔ مستقبل کے فنون لطیفہ کے ماہرین کو نکھارنے کے عمل کی نگرانی کرنیوالی اس شخصیت کے ساتھ ”نیوزلائن” نے گفت و شنید کی ایک نشست رکھی۔ ان سے ہونیوالی گفتگو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو : احمد یٰسین۔ ندیم جاوید

مناسب سہولیات ملیں تو فیصل آباد کے جمالیاتی حسن کو بہت کم خرچے کے ساتھ نکھارا جا سکتا ہے اور اس شہر کو آرٹ اینڈ ڈیزائن کا شاہکار بنایا جاسکتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ اس کیلئے بہت زیادہ اخراجات کئے اور مہنگے ڈیزائن بنائے جائیں کم خرچ اور بہترین ڈیزائننگ سے اس شہر کو ایسا نکھارا جاسکتا ہے کہ باہر سے آنیوالوں کو اس شہر کی منفرد پہچان ملے۔ ہم نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہلال احمر چوک میں وال پینٹنگ کی تھی اور آج بھی یہ مقام اس منفرد کام کی وجہ سے بہترین جمالیاتی منظر پیش کرتا ہے۔ شہر کے جمالیاتی حسن کو نکھارنے کیلئے ہم اپنا کردار ہر طرح سے ادا کرنے کیلئے تیار ہیں اور اپن یمقدور بھر کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور شہر کی بلدیاتی و سیاسی قیادت تعاون کرے تو اس شہر کو جمالیاتی رنگوں میں رنگنے کیلئے ہم اپنا آج بھی تیار ہیں ۔
ایچ آر ڈی سی میںبطور ممبر بھی میری کوشش ہوتی تھی کہ کسی ایسی بلڈنگ کا ڈیزائن منظور نہ ہو جو شہر کے جمالیاتی حسن کو گہنانے کا باعث بنے۔ ایچ آر ڈی سی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بلڈنگز کے ڈیزائن پر اعتراضات سب سے زیادہ اسی حوالے سے کئے گئے اور ہم نے کسی ایسی بلڈنگ کی منظوری نہیں دی۔ دستاویزی اور عملی شکل میں کوئی فرق ہے تو اس کے ذمہ دار متعلقہ ادارے ہیں اور انتظامیہ کو اس پر ایکشن لینا چاہئے۔ ایچ آر ڈی سی کے پلیٹ فارم سے شہر کے جمالیاتی حسن کی حفاظت کیلئے ہم سے جو ہو سکا وہ ہم نے کیا۔

فیصل آباد میں فیشن اینڈ ڈیزائننگ کو فروغ دینے کیلئے ہمارے ادارے کے کردار کے سبھی معترف ہیں۔ اس ادارے کے بچے فیشن انڈسٹری میں جدت لے کر آرہے ہیں ۔ پاکستان کی اقدار کو بھی زک نہیں پہنچنے دے رہے اور فیشن میں بھی جدت لارہے ہیں۔ صرف فیشن یا ٹیکسٹائل ڈیزائننگ ہی نہیں ہمارے طلبہ پینٹنگ اور گرافکس میں بھی منفرد پہچان بنا رہے ہیں۔
فیصل آباد کی پہچان ٹیکسٹائل ہے ۔ اس کا براہ راست تعلق ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور فیشن سے ہے۔ تاہم ہمارے ادارے میںفنون لطیفہ کے بنیادی شعبے پینٹنگ کی تعلیم بھی دی جارہی ہے اور جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کیلئے گرافکس پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ہم تجرباتی تعلیم دینے کی بجائے بامقصد اور عملی کورسز کروانے پر یقین رکھتے ہیں۔ شہر کے متعدد ٹیکسٹائل یونٹس میں ہمارے ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک بھی ہمارے طلبہ کی بڑی تعداد ملک کا نام روشن کررہی ہے۔

کوالٹی ایجوکیشن ایک مشکل سوال ہے مگر ہم اپنے تائیں ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ کوالٹی ایجوکیشن ممکن بنائی جا سکے۔ بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس تسلسل کے ساتھ کروائے جارہے ہیں۔ بورڈ میں اپنی اپنی فیلڈ کے بہترین میسر ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ بورڈ نصاب کا مجموعی اور کورسز کا بھی جائزہ لیتا ہے ۔ ماہرین کی آراء کی روشنی میں نصاب کو جدید سے جدید بنانے کی کوشش کرتے ہیں کورسز میں تبدیلیاں بھی کی جارہی ہیں۔ کورسز کو عالمی معیار کا بنانے کیلئے جدید علوم پر فوکس ہے اور ہر شعبے میں آ نیوالی جدت اور معیار کو کورسز میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوالٹی ایجوکیشن کے تناظر میں ہی طلبہ کو کسی بھی قسم کے امتیازات سے بالا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ نصاب میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں جو کسی بھی طرح کے امتیازات کو جنم دے، اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کرتے ہیں اور رٹے رٹائے اسباق پڑھانے کی بجائے ریسرچ ورک اور عملی کام کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مختلف بحرانوں کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو نقصان پہنچا ہے تاہم فیشن انڈسٹری اور اپیرل سیکٹر نے ترقی کی ہے۔ اس کے علاوہ برانڈنگ بھی پہلے سے زیادہ ہورہی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں برانڈز نام کی کوئی چیز ہی نہیں ملتی تھی۔ غیرملکی برانڈز کے پہناوے ہی معیاری گردانے جاتے تھے تاہم گزشتہ ڈیڑھ سے دو دہائیوں کے دوران برانڈز کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے اور ہر برانڈ ہی اپنی جگہ انفرادیت رکھتا ہے۔

فنون لطیفہ کے کام کا تخیل سے براہ راست تعلق ہے۔ اچھے تخیل والے افراد فنون لطیفہ میں نمایاں مقام بناتے ہیں۔ تخلیقی کام ہمیشہ ذہنی آزادی اور دباؤ سے پاک ماحول مانگتا ہے۔ہم نے اپنے ادارے میں تخلیقی ماحول رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ماحول کا ہی اعجاز ہے کہ ہمارے طلبہ اپنے اپنے فن میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کا الگ تھلگ ہونا اور باقی ڈیپارٹمنٹس سے ہٹ کر ہونا بھی ہمارے فن اور ماحول کیلئے سازگار ثابت ہورہا ہے۔شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی ہمارے انسٹی ٹیوٹ کے بچوں کو مختلف سامان کی خریداری میں سہولت رہتی ہے اور ان کے کام کا زیادہ حرج نہیں ہوتا۔ آزاد ماحول میسر آنے سے بھی انہیں اچھے فن پارے تشکیل دینے میں سہولت ملتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آزاد ‘ دباؤ سے پاک اور تخیلاتی ماحول انہیں مستقبل میں بھی میسر رہے تاکہ وہ بہتر سے بہتر کام کرسکیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی طرح ہمارا ادارہ بھی مال روڈ کے سنگم پرواقع ہے ۔ وہ لاہور کے مال روڈ پر ہے تو ہم فیصل آباد کے مال روڈ پر ہیں۔ شہر کے عین وسط میں ہونے کی وجہ سے یہ فیصل آباد کی پہچان اور انفرادیت پیش کرتا ہے۔

فیصل آباد میں ہنرمند افراد کی کمی نہیں ہے۔ سوشل ویلفیئر کا صنعت زار سمیت متعدد ادارے ہنرمندی کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ ہنرمندی کو جدید فیشن اور انفرادیت کا رنگ دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمارے ادارے اور ان ہنرمند اداروں کے اشتراک سے زیادہ اچھے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ہنرمندی اور فیشن و تخیل کا امتزاج بہترین نتائج دے سکتا ہے جو یقینی طور پر ملک کیلئے سود مند ثابت ہوگا۔
فیصل آبادکی پہچان ہی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے۔ حکومتی اداروں کو اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ‘ ڈیزاننگ سیکٹر اور فیشن انڈسٹری کا اشتراک کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس سے ہماری انڈسٹری کو بھی ترقی ملے گی اور ملک کا نام بھی روشن ہوگا۔
آرٹ کونسلز اور میوزیم بھی فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے ہی بنائے جاتے ہیں۔ فیصل آباد آرٹس کونسل کے ذمہ داران کو بھی فنون لطیفہ کے میدان میں جدید تعلیم کے ساتھ آنیوالے نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔اس تناظر میں آرٹ کونسل اور ہمارے انسٹی ٹیوٹ کا اشتراک بھی آرٹ کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے

Related posts