ایف آئی اے فیصل آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالحفیظ چوہدری کا خصوصی انٹرویو

ملک میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کا قل قمع کرنے کے حوالے سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پولیس اور نیب کی طرح ایف آئی اے محدود سرکل میں کام کرنے والا ادارہ نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار بہت سے قوانین اور شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ پولیس کی طرح صوبائی حدود اور نیب کی طرح قومی خزانے کو نقصان پہنچانے جیسے عوامل کی حدود بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ ایف آئی اے پولیس کا کردار بھی اداکرتی ہے اور نیب’ انٹی کرپشن ‘ انٹیلی جنس’ کسٹم اور متعدد دیگر اداروں جیسے اختیارات بھی اسے حاصل ہیں۔ اس کا سیٹ اپ ملک بھر میں ہونے اور اختیارات کا دائرہ کار بھی پاکستان کے تمام علاقوں میں یکساں ہونے کی وجہ سے اسے منفرد اہمیت حاصل ہے۔ فیصل آباد میں ایف آئی اے کا ریجنل سیٹ اپ قائم ہے اوران دنوں اس کے ریجنل سربراہ کے طور ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالحفیظ چوہدری خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیوز لائن نے ان سے ایف آئی اے کے سیٹ اپ ‘ ورکنگ اور اقدامات کے حوالے سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو : احمد یٰسین ‘ ندیم جاوید

ایف آئی اے عوام کی خدمت کرنے والا اور سروسز فراہم کرنے والا اداراہ ہے۔ کسی قانون پسند شہری کو ایف آئی اے سے ڈرنے یا ایف آئی اے آفس آتے ہوئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم عوام کی ہی خدمت کرنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم عوام کی ہرممکن خدمت سرانجام دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں تاہم جرائم پیشہ عناصر کیلئے ہمارے پاس کوئی رعائت نہیں ہے۔ جو قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف ہم قانون کا شکنجہ کس دیں گے۔
ہمیں عوام میں ایف آئی اے کا امیج بھی بہتر بنانا ہے اور قانون کے دائرہ کار کے مطابق ایف آئی اے کی کارکردگی بھی بہتر بنانا ہے۔ عوام اپنے وفاقی اداروں کے حوالے سے کرپشن’ رشوت ستانی اور دیگر مسائل کے حوالے سے کوئی بھی شکائت ہے تو ایف آئی اے میں آئیں ان کی ہر ممکن داد رسی کی جائے گی۔ کرپشن کرنے والے ملک کا ناسور ہیں وہ کسی بھی محکمے سے ہوں انہیں کسی قیمت پر معافی نہیں دی جاسکتی۔ صوبائی محکموں میں کرپشن و رشوت ستانی کے حوالے سے محکمہ انٹی کرپشن سرگرم ہے تو وفاقی محکموں کے حوالے سے یہی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے اور ہم اپنی ذمہ داری نبھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ ماضی میں ایف آئی اے کا کردار انتہائی محدود رہا ہے جبکہ عوام میں اس کے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ ہمیں ان غلط فہمیوں کو دور بھی کرنا ہے اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے پر بھی فوکس رکھنا ہے۔

ایف آئی اے کو پاکستان پینل کوڈ کے تحت کام کرنے کا بھی اختیار ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 فارنرز ایکٹ 1946′ انٹی کرپشن ایکٹ 1947′ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ ایکٹ 1950′ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947′ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962′ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965′ کسٹم ایکٹ 1969′ فارن ایکسچینج ریگولیشن 1972′ فارن ایسٹ ڈیکلریشن ریگولیشن 1972′ پاسپورٹ ایکٹ 1974′ ڈرگز ایکٹ 1976′ امیگریشن آرڈیننس 1979′ انٹی ٹیررازم ایکٹ 1997′ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کا آرڈیننس 2002′ نادرا آرڈیننس 2002′ الیکٹرانک ٹرانسمیشن آرڈیننس 2002′ ٹیلی گراف ایکٹ 1885′ کاپی رائٹ آرڈیننس 1962′ انٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010′ الیکٹریسٹی ایکٹ 1910′ الکٹرانک کرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016اور انسانی اعضاء کی غیرقانونی ٹرانسپلانٹ روکنے کا ایکٹ 2010کے علاوہ متعدد دیگر قوانین کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار بھی ایف آئی اے کو حاصل ہے۔ اس تمام قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایف آئی اے کا کردار محدود نہیں ہے تاہم ماضی میں اس کی کارکردگی کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کے مطابق اس کا کردار انتہائی سرگرم نہیں رہا۔ مگر موجودہ حکومت نے ایف آئی اے کو ایکٹو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف آئی اے کو احکامات دئیے گئے ہیں کہ اپنے دائرہ اختیار میں ہونے والے ہر قسم کے جرائم کی روک تھام کیلئے سرگرم رہے اور قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کو معاف نہ کیا جائے۔ ہمیں قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے احکامات دئیے گئے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو ہر قیمت پر نبھائیں گے۔

بوگس اکاؤنٹس اور غیرقانونی بنک ٹرانزیکشن ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ فیصل آباد میں اس حوالے سے انکوائری شروع کررہے ہیں ۔ بوگس اکاؤنٹ بنانے یابوگس اکاؤنٹس کو اپنے کاروبار کیلئے استعمال کرنے میں کوئی بھی ملوث ہوا تو اس کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں گے جبکہ بوگس اکاؤنٹس بنانے اور استعمال کرنے میں ملوث بنک عملے کے خلاف بھی قانونی کارروائی یقینی بنائیں گے۔
انسانی سمگلنگ کی روک تھام یقینی بنانے پر ہم خصوصی فوکس کئے ہوئے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کسی بھی ذریعے سے کی جارہی ہو ہم اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے۔ حال ہی میں ہم نے بلوچستان کے راستے 26نوجوانوں کو ایران اور ترکی سمگل کئے جانے کی ایک بڑی کوشش ناکام بنائی ہے۔ سمگل کئے جانے والے نوجوان ہماری حراست میں ہیں جبکہ انہیں لے جانے والے لوگ بھی ہم پکڑ رہے ہیں۔ اس دھندے میں ملوث ایجنٹس اور ان کے سرپرستوں کیخلاف بھی اقدامات کررہے ہیں اور بہت جلد یہ سب قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
ایف آئی اے کے اشتہاریوں کی گرفتاری یقینی بنانے کیلئے بھی ہماری فورس سرگرم ہے۔ اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے جدیدٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے جبکہ بیرون ملک بھاگ جانیوالے بڑی اشتہاریوں کی واپسی اور گرفتاری کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

Related posts