ایف ڈی اے نے راتوں رات 3درجن کالونیوں کی منظوری دیدی


فیصل آباد(نیوزلائن)ایف ڈی اے نے راتوں رات تین درجن سے زائد کالونیوں کی منظوری دیدی۔ ایف ڈی اے کی منظور رکردہ رہائشی سکیموں میں میں سے پچاس فیصد سے بھی زائد کالونیاں خود ایف دی اے کے بنائے گئے قوانین پر پورا نہیں اترتیں۔ ان کی منظور کیسے ہو گئی اس حوالے سے ایف ڈی اے حکام خاموش ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے راتوں رات تین درجن سے زائد رہائشی سکیموں کی اچانک منظوری دینے کا اعلان کردیا ہے۔ منظور کی گئی رہائشی سکیموں میں سے متعدد خود ایف ڈی اے کے بنائے قواعد پر ہی پورا نہیں اترتیں۔ منظور کسی خوف کی وجہ سے ہوئی ‘ ان کی منظوری کیلئے ایف ڈی اے حکام نے نذرانے لئے‘ یا کسی غفلت اور لاپرواہی کو چھپانے کیلئے حکام نے منظوری کا ڈرامہ کیا اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آپائیں۔ نیوزلائن کے مطابق چند روز قبل تک ایف ڈی اے ریکارڈ ظاہر کررہا تھا کہ فیصل آباد میں صرف 64رہائشی سکیمیں منظور شدہ ہیں۔ اچانک ایف ڈی اے نے اعلان کیا کہ فیصل آباد میں 103سکیمیں منظور ہو گئی ہیں۔ 39سکیمیں کب منظور ہوئیں۔ اچانک ان کی منظوری کا اعلان کیسے ہو گیا۔ نئی منظور کی گئی سکیموں میں سے کئی سال ہا سال سے غیر منظور شدہ تھیں ۔ ان میں سے متعدد سکیمیں ایسی ہیں جن میں بنیادی سہولیات تک ناپید ہیں۔ اکثریتی سکیموں میں قبرستان تک کیلئے جگہ مختص نہیں کی گئی جبکہ رہائشی سکیموں کے قواعد میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قبرستان کیلئے اراضی مختص کئے بغیر ہی کالونی کی منظوری دیدی گئی ہو۔ ذرائع کے مطابق سابق ڈی جی ایف ڈی اے یاور حسین کے او ایس ڈی بنائے جانے کے احکامات سامنے آنے اور ان کے چارج چھوڑنے کے درمیانی عرصہ میں اچانک درجنوں کالونیوں کی منظوری سامنے آئی ہے جو کہ معاملات کو مشکوک بنا رہی ہے۔ نئی منظور کردہ سکیموں میں سے متعدد کے نقشہ جات بھی کلیئر نہیں ہیں ۔ بعض کے اصل نقشے ہی ایف ڈی اے کے ریکارڈ میں نہیں ہیں۔ نامکمل ریکارڈ اور برس ہا برس کے کیس کے باوجود اچانک ان کا ریکارڈ کیسے مکمل ہو گیا اور ان پر برسوں سے عائد اعتراضات یاور حسین کے چارج چھوڑنے سے چند لمحات پہلے کیسے دور ہو گئے یہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اچانک اتنی بڑی تعداد میں کالونیوں کی منظوری کے حوالے سے ایف ڈی اے ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ سمیت کوئی آفیسر جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔

Related posts