ایم ڈی پارکنگ کمپنی کی غفلت : پارکنگ پلازہ سفید ہاتھی بن گیا


فیصل آباد(احمد یٰسین)ایم ڈی پارکنگ کمپنی ام لیلیٰ نقوی کی نااہلی‘ غفلت ‘ لاپرواہی اور سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے چہیتے سابق ڈی سی او فیصل آباد نورالامین کی ’’ہٹ دھرمی‘‘ پالیسیوں کی وجہ سے فیصل آباد پارکنگ پلازہ سفید ہاتھی بن گیا۔ ضلعی حکومت سے 25کروڑ روپے کا قرض‘ شہریوں سے کروڑوں روپے کی رقوم صرف نقشہ دکھا کر اکٹھی کرنے اور شہر میں بے ہنگم و غیرقانونی پارکنگ کی کھلی چھوٹ ملنے کے باوجود ایم ڈی پارکنگ کمپنی پارکنگ پلازہ کی تعمیر مکمل کرنے میں ناکام رہیں۔ نااہلی چھپانے کیلئے پلازے کی تعمیر کا’’ مدّا ‘‘دوسروں پر ڈالنے کی روش اپنا لی۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی سابق ضلعی حکومت نے فیصل آباد میں پارکنگ پلازہ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ بیرون چنیوٹ بازار مجوزہ طور پر بننے والے منصوبے کوپنجاب حکومت کی امداد کے بغیر مکمل کیا جانا تھا۔ سابق صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ کے چہیتے سابق ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل نے رانا ثناء اللہ کی مدد سے منصوبے کو پنجاب حکومت سے منظور کروایا اور ہٹ دھرمی پالیسی اپناتے ہوئے اس کی تعمیر کی ذمہ داری اپنی چہیتی ایم ڈی فیصل آباد پارکنگ کمپنی کو سونپ دی۔ نور الیمین مینگل نے ام لیلیٰ نقوی کو غیرقانونی طریقے سے اور بغیر قواعد و ضوابط کو پورا کئے ایم ڈی فیصل آباد پارکنگ کمپنی تعینات کیا۔ اس حوالے سے پنجاب سیکرٹریٹ میں ایک انکوائری ابھی تک زیر التوا ہے۔ ایم ڈی پارکنگ کمپنی کو پلازے کی تعمیر کی ذمہ داری نبھانے کیلئے شہر میں پارکنگ کے تمام معاملات کی ذمہ داری سونپ دی گئی ۔نورالامین مینگل نے پارکنگ کے حوالے سے ایم ڈی پارکنگ کمپنی کو کھلی چھوٹ دیدی۔ مینگل‘ نقوی اتحاد نے اس صورتحال سے خوب فائدہ بھی اٹھایا۔ شہر میں سینکڑوں غیرقانونی پارکنگ پوائنٹس بنائے۔میونسپل کارپوریشن کے قانونی پارکنگ پوائنٹس پر بھی اس اتحاد نے قبضہ کرلیا ۔کارپوریشن اور ضلع کونسل کی زمینوں پر قبضہ کرکے پارکنگ کروائی گئی۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کے پارکنگ سٹینڈز پر پولیس کی مدد سے قبضہ کیا گیا۔ الائیڈ ہسپتال کی پارکنگ پر قبضہ کیا گیا۔ شہر کی متعدد سڑکوں اور بازاروں کو پارکنگ میں بدل دیا گیا۔ قانون کی رو سے پارکنگ کمپنی پابند تھی کہ منافع کا نصف متعلقہ ادارے کو ادا کرتا جس کی زمین و ہ استعمال کر رہا تھا ۔مگر آج تک ایم ڈی پارکنگ کمپنی نے میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل سمیت کسی ایک بھی ادارے کو منافع میں سے اس کا حصہ ادا نہیں کیا۔قانون اور قواعد پامال کرکے شہر کو حسن تباہ کرنے والے مینگل ‘نقوی اتحاد نے صرف ایک ذمہ داری نبھانے کا اعلان کیا اور وہ فیصل آباد پارکنگ پلازہ کی تعمیر کا تھا۔ ایم ڈی فیصل آباد پارکنگ کمپنی پر خصوصی مہربانی کرتے ہوئے نورالامین مینگل نے پارکنگ پلازہ کی تعمیرکے نام پر کمپنی کوغیرقانونی طور پر25کروڑ روپے کا قرض بھی دیا اور اس میں سے بھی ایک پائی ایم ڈی نے کئی سال گزر جانے کے باوجود واپس نہیں کی۔ پارکنگ پلازہ میں دفاتر کی الاٹمنٹ کے نام پر پارکنگ کمپنی نے شہریوں سے بھی کروڑوں روپے اکٹھے کئے اور آج تک اس کا بھی حساب دینے کو تیار نہیں ہیں۔ پارکنگ پلازہ کی بیسمنٹ بھی تیار نہیں ہو سکی اور ضلع حکومت سے لئے گئے 25کروڑ بھی غائب ہیں جبکہ شہریوں سے اکٹھی کی گئی رقوم بھی پراسرار طور پر غائب کر لی گئی ہیں۔ شہر میں بے ہنگم اور بے دریغ و غیر قانونی پارکنگ سے اکٹھی کی گئی رقوم کا بھی کوئی پتہ نہیں چل رہا ۔کروڑوں روپے اکٹھے کرنے کے باوجود ایم ڈی فیصل آباد پارکنگ کمپنی پارکنگ پلازہ کو مکمل نہیں کر پائیں جبکہ اس کی تعمیراتی مدت کا خاتمہ ہوئے بھی ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے ضائع کرکے بھی ایم ڈی پارکنگ کمپنی جوابدہی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ پارکنگ پلازے کی تعمیر بارے اپنی ذمہ داری نبھانے کی بجائے مزید فنڈز کا مطالبہ کئے جارہی ہیں۔ ریونیو ذرائع کے مطابق مینگل ‘ نقوی اتحاد نے قواعد کی رو سے پارکنگ پلازہ کیلئے مختص میونسپل کارپوریشن کی استعمال کی گئی اراضی کی قیمت بھی ابھی تک ادا نہیں کی جبکہ ریونیو قانون کے مطابق زمین کی قیمت ادا کرنے تک پارکنگ کمپنی اس پر پلازہ کی تعمیرشروع کرنے کی بھی مجاز نہ تھی۔ قانون سے کھلواڑ اور کروڑوں روپے کا ہیر پھیر کرنے کے بعد ایم ڈی پارکنگ کمپنی ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ اختیار اور کسی دوسرے محکمے میں بھاگنے کیلئے پر تول رہی ہیں ۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اس منصوبے کیلئے ابتدا میں ہی فنڈز دینے سے انکار کرچکی ہے ۔ضلع کونسل کو اس منصوبے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔ ایم ڈی پارکنگ کمپنی کروڑوں روپے خرچ اور ادھر ادھر کرکے راہ فرار اختیار کررہی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن ملکیت کی دعویدار ہے اور مکمل کنٹرول کا مطالبہ کررہی ہے۔ رجسٹریشن کے نام پر پارکنگ پلازہ کیلئے رقوم دینے والے شہری واپسی کیلئے متعلقہ اتھارٹی تلاش کررہے ہیں۔ تعمیراتی کمپنی کو دیا گیا پانچ کروڑ روپے کا چیک باؤنس ہو چکا ہے ۔ پارکنگ پلازہ کے سفید ہاتھی سے سب ہی بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بغیر منصوبہ بندی اور قانونی تقاضے پورے کئے بغیر منصوبے پر شہریوں اور سرکار کے کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ۔ جگہ کی ملکیت اور پارکنگ کمپنی کا کردار الگ سے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔قیمتی سرکاری اراضی کاغیرقانونی اور غیر ضروری استعمال الگ سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔

Related posts