ایک لفظ بولے بغیر مشرف کی ”اصلی” جمہوریت کا فلسفہ سمجھا دیا

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر چار

مجھے بال کی کھال اتارنے اور ایشوز پر سوچنے کی عادت شمس الاسلام ناز نے ڈالی۔وہ مجھے سمجھانے کیلئے سوال پر سوال کرتے ۔ پھر میرے دئیے گئے جوابات کے باری باری جواب دیتے۔ معاملات کو گہرائی تک سوچنے اور پس منظر و پیش منظر کے تناظر میں سوچنے کی تلقین ۔ اس کا اغاز بھی انتہائی دلچسپ انداز میں ہوا۔ مرحوم غلام محی الدین میرا پہلی ملاقات سے ہی دوست بن گیا تھا۔ مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھنا لگا۔ پریس کلب کے عظیم الشان مگر کھنڈر نما ڈھانچے کے سامنے واقع ”ڈان” کے دفتر میں بیٹھے غلام محی الدین اور میں بحث کررہے تھے کہ مشرف کی حکومت کتنی جمہوری ہے۔ اپنی کم علمی کی وجہ سے میں مشرف کے ریفرنڈم کی حمائت کئے جا رہا تھا۔”مشرف کا ریفرنڈم بھی تو الیکشن ہی ہے۔ عوام ووٹ دیں گے ہی اسے”۔ یہ میرے الفاظ تھے جو شائد شمس الاسلام ناز نے باہر سے اندر آتے ہوئے سن لئے تھے۔ ”بیٹا اندر آجاؤ یہ تمہیں سمجھا نہیں سکے گا”یہ الفاظ مجھے کہے اور محی الدین سے مخاطب ہوئے”اندر لے آؤ اسے بھی”۔
اب ہم ”ڈان” کے آفس کے پچھلے کیبن میں بیٹھے تھے ۔شمس الاسلام ناز کے بار میں بہت کچھ سن چکا تھا۔ کئی مرتبہ انہیں دیکھا بھی تھا مگر دوبدو یہ پہلی ملاقات تھی۔ اپنے طبعی بے فکرے پن کی وجہ سے گھبرا تو نہیں رہا تھا مگر منتظر تھا کہ باہر جس بات پر انہوں نے لقمہ دیا تھا وہ خود ہی اس پر بات کریں۔ مگر وہ تو میرا انٹرویو لینے بیٹھ گئے۔ میری ذات کے حوالے سے پے در پے سوالات کئے جارہے تھے۔ میرے فیملی بیک گراؤنڈ سے لے کر تعلیم تک سب کچھ ہی پوچھتے رہے۔ میرا انٹرویو طویل ہی ہوتا گیا۔ اس دوران ہی محی الدین س کچھ کھانے پینے کیلئے منگوانے کا بھی کہہ دیا۔
کیا ”صبیحہ شکیل ” کو جانتے ہو۔ میرے انٹرویو کے دوران پہلا سوال پوچھا جو میری ذات یا فیملی سے ہٹ کر تھا۔ میرا جواب تھا”جی نام سنا ہے۔ مگر کبھی ملا نہیں ہوں”۔”صالح محمد نیازی کو جانتے ہو”۔ یہ سوال بھی میرے لئے غیر متوقع تھا اور جواب بھی پہلے والا ہی تھا۔ ان کا برجستہ فقرہ بھی میرے لئے حیران کن تھا”شکر ہے تم نے نام تو سنا ہوا ہے۔ یہاں تو تم جیسے نوجوان جرنلسٹوں نے یہ نام بھی کبھی نہیں سنے ہوتے”۔جی میں ان کو دیکھا بھی ہوا ہے مگر تب میں بہت چھوٹا تھا۔میرے ان الفاظ پر انہوں نے غور سے مجھے دیکھا۔پہلی بار مجھے لگا کہ غصے سے گھور رہے ہیں۔ گھورتے ہوئے بولے”رانا احمد علی تمہارا چچا لگتا ہے”۔” نہیں جی۔ تایا ہیں”۔ میں نے جواب تو دیدیا مگر تذبذب میں تھا کہ انہوں نے کیسے اندازہ لگایا۔” تو میرا اندازہ ٹھیک نکلا۔ اپنے ابو سے پولیس کی کام چھوڑ ہڑتال کے بارے میں سنا ہے کبھی۔ نہیں سنا تو آج گھر جا کر پوچھنا”۔ میں حیرت کے پہلے جھٹکے سے نہیں نکلا تھا کہ انہوں نے حیرت کا دوسرا جھٹکا دیا۔ قریب بیٹھے محی الدین نے بھی چونک کر انہیں دیکھا۔ پھر مجھے دیکھامگر سوال شمس الاسلام ناز سے ہی کیا ”سر پولیس میں بھی کوئی ہڑتال ہوئی تھی”۔ ”پرانی بات ہے۔ اس ہڑتال کا تو یہ بھی بتا سکتا ہے’ پھر کبھی اسی سے پوچھ لینا”۔
ریفرنڈم کی پولنگ کب ہے۔شمس الاسلام ناز کا اگلا سوال ٹاپک تبدیل کرنے والا تھا۔ دو دن بعد ہی تو پولنگ تھی۔ تاریخ بتائی تو بولے ۔” کبھی ووٹ تو نہیں ڈالا ہو گا تم نے۔ اس دفعہ ووٹ ڈالو۔ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالو۔ گھر سے نکلو تو راستے میں جتنے بھی پولنگ سٹیشن آئیںان میں ووٹ ڈالتے آنا۔ اب اگلی ملاقات ہماری ریفرنڈم کے بعد ہی ہوگی”۔یہ میرے لئے جانے کا اشارہ تھا۔ غلام محی الدین مرحوم نے بھی مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ باہر آکروہ مجھ سے تین دہائیاں پہلے ہونے والی پولیس کی ہڑتال کا پوچھ ہی رہا تھا کہ اندر سے کیبن کی لکڑی کی دیوار کھٹکھٹانے کی آواز آئی ۔ وہ اندر اور میں باہر نکل آیا۔

حسب الحکم مشرف کے ریفرنڈم میں نہ چاہتے ہوئے بھی ووٹ کاسٹ کیا۔ گھر کے بالکل ساتھ ہی پولنگ سٹیشن تھا ۔ ووٹ کاسٹ کیا۔ پیدل پیدل پریس کلب کی طرف رواں دواں تھا راستے میں تین پولنگ سٹیشن آئے اور میں نے تینوں میں ووٹ کاسٹ کردیا۔ کسی نے مجھے روکا نہیں۔ کسی نے شناخت نہیں پوچھی۔ گھنٹہ گھر چوک میں کچھ کونسلر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمائش کردی کہ ووٹ ڈالوں۔ ان کے ساتھ قریب کے پولنگ سٹیشن چلا گیا اور چوتھا ووٹ کاسٹ کردیا۔ پھر وہیں کھڑے کھڑے دو درجن سے زائد بیلٹ پیپرز لئے اور ان پر مہریں لگا کر صندوق میں ڈال دیں۔ کسی نے روکا نہ نہ کسی نے ٹوکا۔
پہلا ہی سبق بہت جاندار تھا۔ ایک لفظ بولے بغیر جمہوریت کا فلسفہ پڑھا دیا تھا ۔ جو شائد طویل بحث مباحثے کے بعد بھی میں نہ مانتا۔
پہلی ملاقات میں حیرت کے جو تین چار جھٹکے دئے تھے وہ تو میری سمجھ سے ہی باہر تھے۔ مگر میں معترف ہو چکا تھا کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں۔ریفرنڈم کے بعد ان کے آفس کے چار چکر لگا چکا تھا مگر وہ اس دوران آئے ہیں نہیں تھے۔ غلام محی الدین نے بعد میں ہونیوالی پہلی ہی ملاقات میں مجھ سے کرید کریدپولیس کی ہڑتال کا پوچھا تھا۔ جس معاملے کو بہت کم صحافی جانتے تھے اس بارے میں میرے جیسے نوآموز کی معلومات پر غلام محی الدین بھی حیران تھا۔ اس نے کئی بار پولیس کی ہڑتال بارے میری معلومات پر شک کا بھی اظہار کیا۔
شمس الاسلام ناز سے ریفرنڈم کے ایک ہفتے بعد اتوار کے دن ملاقات ہوئی۔ ان کے ہی آفس میں بیٹھے لنچ کیلئے غلام محی الدین کے منگوائے ہوئے پلاؤ کے پیکٹ کھول ہی رہے تھے کہ وہ باہر سے آگئے۔ ہمارے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ ”بابا صاحب ۔تم اپنے لئے اور لے آؤ” ۔ اور بابا صاحب کا پیکٹ خود اپنے سامنے رکھ لیا ۔ لنچ کے دوران ہی بولے۔ ”سمجھ آیا الیکشن اور مشرف کے الیکشن میں کیا فرق ہے”۔یہ تو جمہوریت کا سبق ہی نہیں پڑھے۔ اور پھر اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور جمہوری اقدار پر طویل لیکچر دیا۔

لنچ کے بعد چائے بھی پی چکے تھے کہ غلام محی الدین نے پولیس کی ہڑتال کا سوال کردیا۔ بولے ” حامد سے نہیں پوچھا”۔ جی پوچھا ہے مگر جو یہ بتاتا ہے اس میں بہت کچھ مشکوک ہے۔ دو تین پوائنٹ بتا بھی دئیے کہ یہاں اس کی معلومات حقیقت سے قریب نہیں ہیں۔
شمس الاسلام ناز نے دوسری ہی ملاقات میں مجھ پر اعتماد کا کوہ گراں رکھ دیا۔ ”حامد ایسے کہہ رہا ہے تو ایسا ہی ہوگا”۔ ساتھ ہی پولیس کی تاریخی مگر میری پیدائش سے بھی کہیں پہلے کی ہڑتال کے بارے میں میری معلومات کا منبع بھی بتا دیا۔ جس پر میرا چنکنا تو فطری تھا ہی غلام محی الدین نے اچھل کر میری طرف دیکھا۔ میں تو خود حیرت سے منہ کھولے شمس الاسلام ناز کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان سے صرف اتنا بول سکا”آپ انہیں جانتے ہیں”۔ جواب تھا ”بیٹا تمہاری پیدائش سے بھی پہلے کا جانتا ہوں۔ اب تو کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی”۔اور پھر انہوں نے پنجاب پولیس کی تاریخی ہڑتال کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ وہ کچھ بھی بتایا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔
شام تک ان کے آفس میں رہا ۔ اس دن پولیس کی ہڑتال کے ساتھ ساتھ مزدور لیڈرزصبیحہ شکیل’ صالح محمد نیازی’ رانا احمد علی’ اسلم وفا’ فقیر حسین ساگر’ میاں شہبازاور ماضی میں چلنے والی مزدور تحریکوں میں ان لیڈرز کے کردار کے بارے میں بہت کچھ بتا گئے۔ ان سے بھی زیادہ مجھے میری فیملی کے بارے میں اتنا کچھ بتایا جو میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔ اور مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ وہ معلومات کا سمندر اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے ہیں۔
شمس الاسلام ناز کے ساتھ ایک اچانک ملاقات اور حیران کن تعارف سے شروع ہونیوالا ساتھ 17سال تک محیط رہا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کا ہر طرح سے سفر ہم نے اکٹھے کیا۔ شب ور وز ساتھ گزارے ۔ اجمل ملک ‘ غلام محی الدین’ محمد یوسف’ طاہر ایم خالق’ جاوید صدیقی’ دلشاد خان’ ندیم جاوید’ طاہر رشید ‘ رانا انجم اعلیٰ رحمان’ کلیم حیدر ثقلین’ محمد اقبال نے بھی کئی ایک سفر ساتھ کئے۔ تقاریب میں اکٹھے ہوتے۔ بیرون شہر کہہ مجھے اپنے ساتھ رکھتے۔ غلام محی الدین نے ایک دو بار اعتراض کیا تو جواب دیتے کہ تم سب سگریٹ پیتے ہو مجھے بدبو تنگ کرتی ہے۔ یہ سموکنگ نہیں کرتا۔ کوئی خوشبو بھی نہیں لگاتا۔ مجھے ”سمیل” تنگ کرتی ہے مگر اس کے ساتھ ہوتے ہوئے یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
ان کے ساتھ ہر ملاقات میں کچھ نیا سیکھنے کو ملتا۔ نئی معلومات ملتیں۔ شہر کی تاریخ ملتی۔ یہاں کے لوگوں کی تاریخ ملتی۔

اسی دوران ہی مجھے مجبور کرکے ایم اے ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لے کر یونیورسٹی بھجوایا۔اپنے ایم اے کے پراجیکٹ کیلئے میں نے ڈاکومنٹری بنانے کا فیصلہ کیا تو ”ساندل دھرتی ۔لائلپور سے فیصل آباد تک کا سفر” ٹاپک سوچ کر مجھے اس پر ڈاکو منٹری بنانے کا کہا۔ یونیورسٹی نے ٹاپک منظور کرلیا تو خود اپنی خدمات پیش کیں اور کئی روز تک میرے ساتھ مل کر ڈاکو منٹری بنوائی۔ اس دوران ایسی ایسی شخصیات سے ملوایا کہ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا۔اس ڈاکو منٹری کو بنانے کے دوران ہی کسی وقت فیصلہ کرلیا کہ انہیں بھی مزید پڑھنا ہے۔ عمر کا خیال کئے بغیر ایم ایس سی میں داخلہ لے لیا۔ ایک کے بعد دوسرا ایم اے کرنے لگ گئے۔ ایل ایل بی میں ایڈمشن لے لیا۔سال 2106میں ایم فل میں ایڈمشن لینا چاہتے تھے۔ مجھے فون کیا تو میں لاہور تھا وہ خود اسلام آباد تھے ۔ حکم دیدیا کہ آج اخری دن ہے ایڈمشن فیس جمع کروا کر جی سی یونیورسٹی میں دونوں کا آن لائن اپلائی کرو۔میں گریزاں تھا مگر ان کے سامنے انکار بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دونوں نے اکٹھے ایڈمشن ٹیسٹ دیا۔ اکٹھے ایڈمشن کیلئے انٹرویو دیا۔دونوں کا ہی نام میرٹ لسٹ میں آگیا تھا کہ مجھے فیس جمع کروانے کا کہہ کرخود جی سی یونیورسٹی کی بجائے زرعی یونیورسٹی میں ایم فل کی فیس جمع کروا دی ۔جی سی یونیورسٹی میں ایڈمشن نہ لینے کی وجہ بھی انتہائی دلچسپ ہے مگر اس سے بھی دلچسپ ایڈمشن ٹیسٹ کا دن تھا۔ٹیسٹ دے کر نکلے تو کلاس روم کے باہر لگی ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کی لسٹ خاموشی سے اتار لی۔ میں ہر بات بلا جھجک کہہ دینے کا عادی ہو چکا تھا ۔ بولا ”خان صاحب اس کا کیا کریں گے”۔ لسٹ پر ایک نشان لگا کر لسٹ میرے حوالے کرکے بولے ”خبر کا خیال بھی رکھا کرو”۔میں نے لسٹ کو دیکھا تو ان کے نشان والی جگہ پر مرحوم محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ نام بھی شہید بے نظیر بھٹو کا لکھا ہوا تھا۔ لسٹ کے مطابق شہید بی بی نے ہمارے ساتھ ہی ایم فل ماس کمیونیکیشن کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا اور ان کا ایڈمشن فارم منظور کرکے انہیں ایڈمشن ٹیسٹ کیلئے سلیکٹ کرلیا گیا تھا۔ ان کے نام اور تصویر کے ساتھ ہی لسٹ کلاس روم کے باہر لگی ہوئی تھی ۔ بی بی شہید کی تصویر ہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے لسٹ خاموشی سے اتار کر میرے حوالے کردی تھی ۔

تحریر حامد یٰسین

سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس

ضیاء آمریت کے دوران بھٹو کی پنکی فیصل آباد میں اور شمس الاسلام ناز

عظیم صحافی رہنما منہاج برنا فیصل آباد میں اور شمس الاسلام ناز

بی بی شہید کی جلاوطنی اور شمس الاسلام ناز کا مسلسل رابطہ

Related posts