بغیر سیلز ٹیکس مال سپلائی کرنے والی درجنوں فیکٹریوں کا سراغ


فیصل آباد(نیوزلائن) ایف بی آر کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے خصوصی سروے کے دوران درجنوں فیکٹریوں اور کارخانوں کا پتہ چلا لیا ہے جو سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر مال سپلائی کر کے حکومتی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچا چکی ہیں۔ ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران محکمہ ہذا نے تحقیقات کے بعد ابتدائی طور پر میسرز رئیل ایلومینیم، میسرز پنجاب ایلو مینیم اور میسرز المدینہ ڈائینگ اینڈ فنشنگ ملز پر چھاپہ مار کر ریکارڈ کمپیوٹرز ، سیلز لیجرز، پرچیز لیجرز، کیش بکس، گیٹ پاسز، انونسٹری ریکارڈ اور چیک بکس قبضہ میں لے لیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پنجاب ایلومینیم اور المدینہ ڈائنگ مالکان قابل ٹیکس اشیاء پر ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر صارفین کو سپلائی مہیا کیا کرتے تھے اور انھوں نے رجسٹریشن بھی نہ حاصل کی تھیں جبکہ رئیل ایلومینیم فیکٹری اگرچہ رجسٹرڈ تھی ۔ لیکن وہ سیلز ٹیکس چوری میں ملوث تھی۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی سیکشن(37)اے کے تحت رجسٹریشن حاصل کئے بغیر کسی بھی فرم کو اشیاء کی فراہمی فوجداری جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ چھاپے کے دوران پکڑی گئی فیکٹریوں سے کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس ریکوری کی توقع ہے۔

Related posts