بلاول پنجاب میں رابطہ عوام مہم کا آغاز فیصل آباد سے کریں گے

فیصل آباد (نیوز لائن) حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ یہ اپنے وعدے کے مطابق نہ توعوام کو روزگار دے پا رہے ہیں اور نہ ہی سستا انصاف۔ ہم نے ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے میثاق معیشت کی بات کی تو حکومت نے ہماری اس بات کو ہماری کمزوری سے منسوب کیا اور کہا کہ اپوزیشن ہم سے این آر او چاہتی ہے۔ ہم حکمرانوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ این آر او کیا ہے اور تم نے کس چیز کا نام این آر او رکھا ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو پنجاب میں جلد ہی اپنی عوامی مہم کا آغاز فیصل آباد سے کرینگے اس کے لیے ایک دو روز میں شیڈول کا اعلان کر دیا جاے گا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر و سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی عوامی رابطہ مہم نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ وہ بلاول بھٹو زرداری کی عوامی پذیرائی سے خائف ہیں اور اسے اپنی حکومت کے لیے خطرہ خیال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اگر حکومت گرانا ہوتی تو ہم اسے اس وقت ہی نہ بننے دیتے کہ جب الیکشن کے دوسرے روز مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی کال کرکے انتخابات کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اسمبلیوں کے بائیکاٹ کی بات کی تھی لیکن چیئرمین بلاول بھٹو نے فورا ہی پارٹی اجلاس بلا کر یہ اعلان کیا کہ ہم اپوزیشن کے تحفظات کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہم الیکشن میں جعلی مینڈیٹ اور دھاندلی کے باوجود اسمبلیوں میں جائیں گے اور جمہوری سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ قمر زمان کائرہ نے میں مزید کہا کہ اگراس وقت ہم اپوزیشن کے ساتھ مل کر اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر دیتے تو نہ یہ اسمبلیاں ہوتیں اور نہ ہی یہ حکومت بنتی، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے کارکنوں نے جمہوریت کے لیے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہم اس جمہوری سفر کو پاکستان کی بقاء کی علامت خیال کرتے ہیں۔ لہذا ہم کسی صورت بھی جمہوریت کو سبوتاڑ نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان کو بڑے گھمبیر مسائل لاحق ہیں، ہم حکمرانوں کو تعاون کی پیش کش کرتے ہیں تاکہ ہم مل جل کر پاکستان کو مصائب کے اس گرداب سے باہر نکال سکیں، لیکن کم فہم حکمرانوں نے اسے اپوزیشن کی کمزوری گردانا اور این آر او کا ورد شروع کردیا۔ میں حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ آپ سے کس نے این آر او مانگا ہے اور نجانے آپ کس چیز کو این آر او سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم آپ سے کہتے تھے کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق لوگوں کو روزگار دو۔انہیں تعلیمی مواقع دو انہیں سستا انصاف مہیا کرو، لیکن آپ نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی بجائے لوگوں کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد‘ سیکرٹری اطلاعات حسن مرتضی سید‘فیصل آباد سٹی کے صدر رانا نعیم دستگیر خاں نے بھی اظہار خیال کیا ورکرزکنونشن میں سینئر نائب صدر وسطی پنجاب چوہدری اسلم گل‘ ڈپٹی انفرمیشن سیکرٹری وسطی پنجاب بیرسٹر عامر حسین‘ فنانس سیکرٹری پنجاب عاصم محمود بھٹی‘ ڈویڑنل صدر چوہدری سعید اقبال‘ضلعی صدر چوہدری محمد اعجاز‘سابق ایم این اے مہر عبدالرشید‘ صدر کسان ونگ پنجاب پیر عنایت علی شاہ‘ صدر لیبر ونگ پنجاب سید نذر حسین شاہ‘ ضلعی صدر چنیوٹ سید علی رضا زیدی‘ ضلعی صدر ٹوبہ محترمہ نیلم جبار بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔

Related posts