بوگس سکروٹنی پر پیڈا انکوائری بھگتنے والا دوبارہ انچارج سکروٹنی مقرر


فیصل آباد(ندیم جاوید)جی سی یونیورسٹی میں قحط الرجال جیسے حالات ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اہم کاموں کیلئے اچھا بندہ ملنا بھی محال ہو چکا۔ بوگس سکروٹنی پر پیڈا انکوائری بھگتنے والے کونئی بھرتی کے وقت دوبارہ سکروٹنی کمیٹی کا انچارج مقرر کرکے دوبارہ پہلے جیسی حرکت کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ کی ٹیچنگ فیکلٹی بھرتی کے امیدواروں کی سکروٹنی کیلئے پروفیسر ہمایوں عباس کو سکروٹنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبری Add.Reg/18/26میں پروفیسر ہمایوں عباس کو کنونیئر ‘ ڈاکٹر غلام شمس الرحمان اور چیئرپرسن شعبہ کو ممبران سکروٹنی کمیٹی مقرر کیا گیا . پروفیسر ہمایوں عباس اس سے پہلے بھی ٹیچنگ فیکلٹی بھرتی کیلئے بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں۔ اس وقت ہمایوں عباس پر بوگس سکروٹنی کرنے کا الزام ہوا تھا اور ابتدائی انکوائری میں سامنے آیا کہ پروفیسر ہمایوں عباس نے ایک ایسے شخص کو سکروٹنی میں رعائت دیتے ہوئے پاس کردیا جو مطلوبہ اہلیت پر پورا اترتا ہی نہیں تھا جبکہ ایسے افراد کو نااہل قرار دیدیا جو مطلوبہ اہلیت کے حامل تھے۔ یہ معاملہ سامنے آنے پر بھرتی روک دی گئی جبکہ پروفیسر ہمایوں عباس کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری شروع کروا دی گئی۔ انکوائری میں الزامات جھٹلائے نہ جا سکے ۔ لیکن اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے پروفیسر ہمایوں عباس نے انکوائری رپورٹ نہیں آنے دی۔ انکوائری رپورٹ ابھی تک رکی ہوئی ہے اور جی سی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انکوائری آفیسر سے انکوائری رپورٹ حاصل کرنے کیلئے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔ یونیورسٹی حکام نے انکوائری رپورٹ کا انتظار کرنے کی بھی زحمت نہیں کی اور نئی بھرتی میں دوبارہ پروفیسر ہمایوں عباس کو کنونیئر سکروٹنی کمیٹی مقرر کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی بھرتی میں پرانے امیدوار بھی شامل ہیں جن کو ہمایوں عباس نے غلط طور پر نااہل قرار دیا تھا جبکہ ایک ایسا امیدوار بھی شامل ہے جس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مطلوبہ اہلیت کے بغیر ہی اسے اہل قرار دیدیا تھا۔ بوگس سکروٹنی کرنے کا جرم کرنے والے کو دوبارہ انہی امیدواروں کی سکروٹنی کیلئے انچارج کمیٹی مقرر کرکے یونیورسٹی انتظامیہ انہیں اپنی غلطی دہرانے کا موقع دے رہی ہے یا غلطی سدھارنے کاچانس فراہم کیا جا رہا ہے اس حوالے سے یونیورسٹی حکام خاموش ہیں۔یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی کی ٹیچنگ فیکلٹی کی بھرتی کی سکروٹنی میں پروفیسر ہمایوں عباس کے علاوہ بھی کچھ سینئر افراد بوگس سکروٹنی کے جرم میں ملوث ہیں۔ ان کیخلاف یونیورسٹی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اپنے خلاف کارروائی پر وہ ان سب کو بے نقاب کرنے کا اعلان بھی اندر کھاتے کرتے رہے ہیں۔ اسی بناء پر ان کے خلاف باضابطہ کارروائی نہیں کی گئی اور معاملات کو ان کے ہی ہاتھوں سدھار کر ’’معاملے پر مٹی پاؤ‘‘ پالیسی اختیار کی جارہی ہے۔اسی وجہ سے پروفیسر ہمایوں عباس کے شعبہ کی بھرتی کیلئے کسی دوسرے سینئر کو سکروٹنی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کرنے سے احتراز کیا گیا ہے۔یو نیورسٹی حکام معاملے کو مٹی پاؤ پالیسی کے طور پر ہی لے رہے ہیں اور اس حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر جی سی یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کا کہنا تھا کہ سکروٹنی کے عمل کی نگرانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی خود کررہے ہیں وہ اسلامک اینڈ ارینٹل لینگوئج کے ڈین بھی ہیں اور وہ خود سکروٹنی اور بھرتی کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں۔ کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ سکروٹنی اور بھرتی کا تمام عمل میرٹ پر ہوگا ۔ کسی کو رعائت ملے گی نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو گی۔

Related posts