بھٹو کو مقدمہ قتل میں قادیانیوں نے پھنسایا: جرم تحفظ ختم نبوت تھا

بھٹو صاحب نے جب قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے والے مسودے پر دستخط کیے اس وقت چیف آف نیول اسٹاف حسن حفیظ احمد قادیانی تھا،
آرمی کا ڈپٹی چیف عبدالعلی قادیانی تھا اور فضائیہ کا سربراہ ظفر چوہدری بھی قادیانی تھا۔ ظفر چوہدری نے ہی اپنے ہم زلف میجر جنرل نذیر کے ساتھ مل کر بھٹو کے قتل کی سازش بھی کی تھی۔ ظفر چوہدری کی دیدہ دلیری کا عالم یہ تھا کہ ربوہ میں مرزا ناصر قادیانی کے جلسے پر فضائیہ کے جہاز بھیج کر گل پاشی کی اور سلامی دی تھی۔ اسی ظفر چوہدری نے کئی مسلمان افسران کو کورٹ مارشل کیا اور میرٹ سے ہٹ کر قادیانیوں کی بھرتیاں کیں۔
بھٹو صاحب کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والا مسعود محمود بھی قادیانی ہی تھا۔

احمد رضا قصوری پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی قراراد پر دستخط کرتے ہیں۔ مسعود محمود قادیانی تھا جو قصوری صاحب پر حملہ کرواتا ہے۔ حملے میں قصوری صاحب کے والد شہید ہوجاتے ہیں اور پھر یہی قادیانی مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن کر کہتا ہے کہ مجھے تو قتل کا حکم بھٹو نے دیا تھا۔ یوں ایک تیر سے دو شکار کھیلے جاتے ہیں۔

یہ سب اتفاق نہیں ہوسکتا۔ طاقتور قادیانیوں میں گھرے بھٹو مرحوم کو اندازہ تھا کہ وہ کیا کرچکے ہیں۔
کرنل رفیع جو جیل میں بھٹو کی نگرانی میں مامور تھے لکھتے ہیں پھانسی سے قبل بھٹو صاحب نے کہا کہ رفیع آج تو قادیانی خوش ہوں گے ان کا دشمن مارا جارہا ہے۔

شائد اسی لیے بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے مسودے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا میں موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوں.

بھٹو صاحب سے ہمیں لاکھ اختلاف ہوں، انہیں ظالم، جابر کہہ لیں یا ملک کو دولخت کرنے کا مجرم کہہ دیں مگر قادیانیوں کے خلاف جو کچھ ان کے دور میں ہوا وہ بھی ایسے وقت میں جب قادیانی اہم ترین عہدوں پر براجمان تھے۔ انتہائی بہادری، دلیری اور بغیر کسی خوف کے دستخط کردیے۔ اس پر وہ سیلوٹ کے حقدار ہیں۔

‏ختم نبوت ﷺ کے محافظ،
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دین،
پاکستان کو اسلامی آئین اور ایٹمی قوت عطا کرنے والی عظیم شخصیت جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کو سلام۔

تحریر : اظہر عباس

Related posts