بیورو کریسی خوفزدہ’ کام کرنے کو تیار نہیں: کمشنر فیصل آباد محمود جاوید بھٹی

کمشنر فیصل آباد محمود جاوید بھٹی کا خصوصی انٹرویو

بیورو کریسی جسے ”افسر شاہی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے گورننس سسٹم کا اہم جزو ہے اور بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر کوئی حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اسے پنجاب کے تخت پر تیس سال سے براجمان شریف فیملی کی ہمدرد بیوروکریسی کی صورت میں نظام کی کامیابی میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی چند ماہ کی ناکامیوں سے سبق لیتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب میں ایسے بیوروکریٹس کی تلاش شروع کی جو شریف فیملی کے قریب تھے نہ سٹیٹس کو کے خواہاں’ میرٹ پر کام ان کی ترجیح ‘اور نظام چلانے کی اہلیت رکھتے تھے۔ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر میں ڈویژن بھر کی بیورو کریسی کو متحرک کرنے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے ٹاسک کے ساتھ بائیس فروری 2019کو کمشنر فیصل آباد تعینات ہونیوالے محمود جاوید بھٹی کا شمار بھی ایسے ہی افسران میں کیا جا رہا ہے جن کے نزدیک میرٹ اولین ترجیح قرار پاتا ہے۔ ان کے ساتھ ”نیوز لائن” نے ایک نشست رکھی جس میں ہونیوالی گفتگو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو : احمد یٰسین۔ ندیم جاوید

نظام میں خرا بی کا کوئی ایک فرد یا ادارہ نہیں ہم سب ذمہ دار ہیں۔ٹیکس کلچر ملک میں پروان نہیں چڑھ سکا۔ معاشرتی ذمہ داری ادا کرتے ہیں نہ سرکاری فریضہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرپشن سوسائٹی کی نس نس میں رچ بس چکی ہے۔ دوسروں کو ہدف تنقید بنانا سب کو آتا ہے مگر اپنا احتساب کرنا اور سچ کی خاطر ڈٹ جانے پرکوئی تیار نہیں۔ خرابی کی نشاندہی ہر کوئی کرنے کو تیار ہے مگر خرابی دور کرنے کیلئے کوشش کرنے کو کوئی آگے نہیں آتا۔ سسٹم کی گندگی پر ہر کوئی دو حرف کہنے کو تیار ہے مگر گندگی دور کرنے کیلئے پہل کوئی نہیں کرتا۔ ہم سب ان خرابیوں کے ذمہ دار ہیں جو ہمیں معاشرے میں نظر آتی ہیں۔ جھوٹ بولنے کا درس تو کوئی مذہب دیتا ہے نہ معاشرہ تلقین کرتا ہے مگر سچ بولنے کی ہمت ہم کرہی نہیں رہے۔ شائد یہ ہمارے پاس سماج کو سدھارنے کا آخری چانس ہے۔ سسٹم کی بہتری کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ میرٹ یقینی بنانا ہو گا۔ رشوت اور سفارش کلچر کو دفن کرنا ہوگا۔ اپنے لئے نہیں آنے والی نسلوں کی بہتری کیلئے۔ ریاست پاکستان کی بقاء کیلئے۔ پاکستان کی فلاح اور قوم کی خوشحالی کیلئے ۔ مملکت کی خودمختاری کیلئے ۔ ہم سب کو مل کر عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ سچ کا ساتھ دینا ہو گا۔
عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے۔ یہی ہمارا نصب العین ہے اور اسی کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ ڈویلپمنٹ ماڈل ہو سکتا ہے کسی جگہ بہت اچھا ہو مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ تیس ‘ پینتیس سال میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور ڈویلپمنٹ سیکٹر میں ترقی کا عام آدمی کو کیا فائدہ ہوا۔ بڑے بڑے پلازے کھڑے کرنے’ سڑکوں کا جال بچھا دینے’ سکولوں کی عمارتیں کھڑی کردینے سے عوام کو کیا ملا۔ اگر اس ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے تو اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ ترقی نہیں ہوئی بلکہ مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

فیصل آباد کی ہی بات کی جائے تو یہاں صنعتی ترقی تو بہت ہوئی۔ فیکٹری پر فیکٹری لگی اور لگ رہی ہے۔ ہر بڑا صنعتکار اپنے اثاثے بڑھائے چلا جارہا ہے مگر اس کا عوام کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے اس پر بھی غور کرنا ہوگا۔ فیصل آباد میں صنعتی ترقی سے شہر کو فائدہ کتنا ہوا اور نقصان کتنا پہنچا اس بارے بھی سٹڈی کرنا چاہئے۔ صنعت تو بڑھ گئی مگر شہر کی فضاء کو بھی آلودہ کرتی گئی۔ اسی آلودگی کا ہی اعجاز ہے کہ فیصل آبادکا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہورہا ہے۔ صنعتکار نے انڈسٹری کو تو ترقی دی مگر اپنی سوشل ذمہ داری کو نبھایا نہ قوانین پر عمل درآمد کیا۔ اسی انڈسٹریل ترقی کا ہی اعجاز ہے کہ فیصل آباد کا انڈر گراؤنڈ پانی استعمال کے قابل نہیں رہا۔ یہ پینے کے قابل ہے نہ زرعی مقاصد کیلئے ہی استعمال ہوسکتا ہے۔ دودریاؤں کے درمیان اور تین نہروں سے سیراب ہونے والے شہر کا انڈر گراؤنڈ پانی استعمال کے قابل نہ رہے یہ انہوں صرف فیصل آباد میں ہی ہوئی۔ شہر کی صنعتی ترقی میں اپنا کردار سب سے زیادہ گنوانے والوں میں سے کوئی شہر کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
گزشتہ تین ‘ ساڑھے تین دہائیوں کے دوران جتنی بھی ترقی ہوئی سب ڈویلپمنٹ سیکٹر میں ہوئی۔ ترقی کے حقیقی انڈیکیٹرز پر صورتحال کو پرکھا جائے تو ہم ترقی سے کوسوں دور ہیں۔ ان تین دہائیوں کی ترقی فضاء میں معلق ہے۔ عوام کو اس سے کچھ نہیں مل رہا۔ غریب تو غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ اعدادوشمار میں ملک نے بہت ترقی کی مگر یہ ترقی محدود ہاتھوں تک رہی۔ عوام کو کچھ نہیں مل سکا۔ جب کھربوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ۔ عام آدمی کو ریلیف نہیں مل رہا تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مخصوص ہاتھوں کو فائدہ پہنچایا گیا عام آدمی کیلئے کچھ نہیں کیا جا سکا۔

خود احتسابی نہ کرنے اور نظام کو یرغمال بنانے کی وجہ سے پٹواری اور پٹوار کا نظام ختم ہو گیا۔ پٹوار کے نظام میں خرابیوں کے بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے ”پٹواری” کو ختم کرنے کی سوچ بنی اور آج یہ صورتحال ہے کہ پٹواری کا کوئی کام ہی نہیں رہ گیا۔ ریونیو سسٹم کو فارغ ترین فرد پٹواری بن گیا ہے۔ اب تو پٹواری سے زمین کی فرد کے اجراء کا اختیار بھی واپس لے لیاگیا ہے۔ اس سسٹم کا مضبوط اور اہم ترین کل پرزہ پٹواری تھا جب ڈیڑھ سو سال تک سسٹم پر راج کرنے والا پٹواری نہیں رہا تو سسٹم کے باقی حصوں کو بھی خود کو لازم وملزوم نہیں سمجھنا چاہئے۔ جہاں زیادہ خرابیاں ہوں گی وہاں اوور ہالنگ شروع ہو جائے گی۔ موجودہ سسٹم میں یونین کونسل کے سیکرٹری ایک اور اہم حصہ بن چکے ہیں مگر وہاں بھی خرابیاں در آتی جارہی ہیں۔ یوسی سیکرٹری نے اپنی اصلاح نہ کی تو وہ بھی سسٹم سے ایسے ہی غائب ہوجائیں گے جیسے پٹواری کا اختیار اب کہیں نظر نہیں آتا۔سسٹم کے دیگر کل پرزوں پر بھی یہی اصول اپلائی ہوتا ہے۔ سسٹم کے تمام حصوں کو اپنی اصلاح خود کرنا ہوگی عوام کو ریلیف دینا ہوگا ۔ جو عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ بنا رہے گا اس کی داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہئے۔ ایک دن یہ بن بھی جانا ہے۔ مگر بغیر مناسب تیاری کے کوئی بھی کام کرنا ملکی مفاد میں ہے نہ عام آدمی کو اس سے کوئی فائدہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ ایک سیاسی نعرہ بن چکا ہے۔ ایک جماعت جنوبی پنجاب کی بات کرتی ہے تو دوسری بہاولپور کو الگ سے تیسرا صوبہ بنانے کی خواہاں ہے۔ دوسری اہم ترین بات یہ کہ صوبہ بن بھی جائے تو جنوبی پنجاب کی پسماندگی کیسے دور ہوگی۔ وہاں انفراسٹرکچر کے مسائل ہیں۔ ترقی کیلئے عوامل پورے نہیں۔ صوبہ بنا کر اسے چلانا کیسے ہے۔ انڈسٹری وہاں نہیں ہے۔ صرف زراعت پر تو صوبہ نہیں چلے گا۔ صوبہ بننا چاہئے مگر انتظامی بنیادوں پر۔ اس کیلئے تیاری کی جائے۔ انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے۔ انڈسٹری کو ترقی دی جائے۔ وہاں انڈسٹریل زون بنائے جائیں۔ مکمل تیاری اور انتظامی ضروریات پوری کرکے صوبہ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی فیصلے پر پچھتاوا نہ ہو۔نہ بنانے والوں کو نہ وہاں کے رہنے والوں کو۔ پنجاب میں بغیر مناسب منصوبہ بندی کے چنیوٹ’ پاکپتن’ لودھراں کے اضلاع بنائے گئے ابھی تک ان اضلاع اور وہاں کی تحصیلوں میں انفراسٹرکچر پورا کرنا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ حقیقی معنوں میں وہاں کی تحصیلیں ایک قصبہ بھی نہیں بنیں مگر درجہ انہیں تحصیل کا دیدیا ہے جو مسائل میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ہر کام پلاننگ سے ہونا چاہئے۔
مجوزہ نیا بلدیاتی نظام بنیادی تبدیلیاں لائے گا۔ یونٹ چھوٹے کئے جارہے ہیں۔ مجوزہ طور پر کونسل بااختیار بنانے کی کوشش ہے۔ اس کی روح ہی اختیارات کی نیچے تک منتقلی ہے مگر اس کے نتائج عملی طور پر نفاذ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ بظاہر مجوزہ بلدیاتی نظام بہت بہتر ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ نظام کو چلانے والے انسان تو وہی ہوں گے جو ابھی بھی سسٹم میں موجود ہیں اور عوام کو ریلیف دینے میں رکاوٹ ہیں۔ ان کی موجودگی میں کوئی بھی نظام آجائے وہ عام آدمی کو ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔نظام ایسا ہونا چاہئے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔ چند مخصوص ہاتھ سب کچھ سمیٹ کر نہ لے جائیں۔

سرکاری زمینوں پر قبضے ختم کرانا ایک اہم ٹاسک تھا ۔اس میں انٹی کرپشن حکام نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور زمینیں واگزار کروا لیں ۔ چاہئے تو یہ بھی تھا کہ جن کے قبضے سے سرکاری زمینیں واگزار ہوئی ہیں ان کیخلاف سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کے جرم میں مقدمات درج کئے جاتے اور قرار واقعی سزا دلوائی جاتی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہونا چاہئے کہ واگزار کروائی گئی سرکاری زمین کے مناسب استعمال کی حکمت عملی بھی تیار کی جاتی۔ کھلی چھوڑ دینے پر زمینوں پر دوبارہ قبضے کا احتمال رہے گا۔ پرائیویٹ افراد کو سپردار مقرر کرنے سے بھی مسئلہ حل نہیںہو ا مستقبل میں پھر ایسی ہی صورتحال سامنے آسکتی ہے ۔ قبضہ سے واگزار کروائی گئی زرعی زمینیں زرعی یونیورسٹی’ ایوب ریسرچ یا کسی دوسرے زرعی تحقیق کے ادارے کو سپرداری پر دے دینی چاہئے تاکہ اس کا قومی استعمال اجتماعی فائدے کا باعث بن سکے۔

عام آدمی کو انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ عوام کو انصاف دینا صرف عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ پولیس’ انتظامیہ’ وکلائ’ معاشرہ ‘ ارکان اسمبلی’ بلدیاتی نمائندے’ سب ہی اس کا ہیں۔ پولیس درست تفتیش نہ کرکے انصاف کاحصول مشکل بنادیتی ہے۔ پولیس اور سول انتظامی افسران اپنے اپنے دفاتر میں عوام کو انصاف دینے’ عام آدمی کے مسائل حل کرنے کیلئے ہی تو بیٹھے ہیں۔ جن ایک افسر کسی سفارش یا دوسری کسی بنیاد پر میرٹ نظر انداز کرتا ہے تو وہ انصاف کا خون ہی کررہا ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے عوام ہیں جو معاملات کو خراب کرنے کا باعث ہیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو انصاف اور میرٹ کا بول بالا کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ ہم اپنے لئے الگ میرٹ چاہتے ہیں اور دوسرے کیلئے الگ ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ سب کیلئے ایک ہی میزان ہوگا تو ہی معاشرہ آگے بڑھ سکے گا۔

پی ٹی آئی کی حکومت ایسے وقت میں آئی جب جوڈیشل ایکٹوازم بھی عروج پر تھا اور نیب کی کارروائیاں’ اور احتساب کا ہتھوڑا بھی سر پر لٹک رہا ہے۔ انصاف کے حصول یا نیب انکوائری میں بے گناہ ہونے تک میڈیا ٹرائل اور حصول انصاف کی جدوجہد میں شریف آدمی کی بدنامی اتنی زیادہ ہوچکی ہوتی ہے کہ اس کے حق میں فیصلہ بھی اسے کوئی ریلیف نہیں دے پاتا۔ جوڈیشل ایکٹوازم کے دوران بھی کھوٹے اور کھرے کی تمیز نہیں ہوتی۔ کٹہرے میں آجانے کا ڈر ہی خاموش رہنے اور کام سے احتراز کا باعث بن رہا ہے۔ انہی باتوں سے خوفزدہ ہوکر کوئی افسر کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے مگر ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ انکوائری مکمل ہونے’ ناقابل تردید ثبوت حاصل ہونے اور گناہگار ثابت ہونے تک افسران کو گرفتار نہ کیا جائے۔ میڈیا ٹرائل سے بھی گریز کیا جائے۔ انکوائری مکمل ہونے اور ثبوت مکمل ہونے تک تحقیقات کو اوپن نہ کیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ انکوائری شروع ہوتے ہی الزامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں بے گناہ ثابت ہونے والی کی بھی عزت کی دھجیاں اڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایسے میں کون کام کیلئے تیار ہوگا۔ الزامات ہی لگنے ہیں تو کوئی کرپشن ‘ لوٹ مار کے الزامات لینے کو تیار نہیں ہے۔ نااہلی’ کرپشن ‘ لوٹ مار’ تجوریاں بھرنے’ غیر اخلاقی سرگرمیوں’ اقربا پروری کے الزامات سے بہتر ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ کام چوری کا الزام لے کر خاموش بیٹھا رہے۔ الزامات کی اسی تکرار اور میڈیا ٹرائل سے خوف زدہ ہوکر افسران کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومت کے ابتدائی دنوں میں بیوروکریسی کو اعتماد نہیں دیا گیا خوف کی وجہ سے ہی بیورو کریسی کام کرنے کو تیار نہیں تھی۔اب حالات بہتر ہورہے ہیں۔ جیسے جیسے الزامات کی گرد بیٹھے گی۔ کام کی رفتار بھی بتدریج بڑھتی جائے گی۔ خوف کم ہو گا تو افسر کام بھی بہتر کرنے لگیں گے۔ کرپشن کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کرپشن کرنے والوں کو سزا بھی ملنی چاہئے مگر اس کی آڑ میں میڈیا ٹرائل اور جھوٹے الزامات میں ہی عزت خراب کرتے رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

میں لمبے عرصے تک ڈی جی خان میں خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں۔ میں ڈی جی خان کے قبائلی علاقہ جات کا پولیٹیکل اسسٹنٹ بھی رہا ہوں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ وقت بھی کام کیا جب وہ تحصیل ناظم تھے۔ ان کے والد کے ساتھ بھی کام کرتا رہا ہوں۔ میں نے دونوں کو انتہائی وضح دار شخصیت پایا ہے۔ کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس میں قانون شکنی کا پہلو پایا جاتا ہو۔ قانون پر عمل کرتے ہیں۔ تحصیل ناظم شپ کے دوران بھی جس کام میں کوئی قانونی رکاوٹ آجاتی تو اسے نہ کرنے کو ہی ترجیح دیتے یا اس قانونی رکاوت کو قانونی طریقے سے ہی ختم کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کا وزارت اعلیٰ کا دور کیسا رہے گا اس بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ تاہم ماضی کے تجربے کی بنیاد پر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ غلط کام نہیں کریں گے چاہے اس میں انہیں اپنی ذات کیلئے یا اپنے کسی ساتھی کیلئے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ پہلے بھی عام آدمی ان کی ترجیح ہوتا تھا اب بھی اسی کی توقع رکھنی چاہئے۔ میں نے تو انہیں ایک وضح دار اور قانون کا احترام کرنے والی شخصیت پایا ہے۔

Related posts