بی بی شہید کی جلاوطنی اور شمس الاسلام ناز کا مسلسل رابطہ


شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر تینشمس الاسلام نازکے ساتھ میرا تعلق دو دہائیوں پر محیط رہا۔ مشکل حالات کے باوجود میں ان سے دور نہ ہٹ سکا۔ بہت ہی برے حالات بھی دیکھے مگر ضمیر نے کبھی گوارہ نہ کیا کہ جن کے ساتھ اچھے حالات میں جڑا تھا برے حالات میں ان کے ساتھ نہ رہوں۔ شمس الاسلام ناز نے ہمیشہ درس بھی تو یہی دیا تھا۔ سچ بولو۔ سچ کا ساتھ دو۔ خود پرکھ کرو کسی کی باتوں پر نہ جاؤ۔ جسے تمہارا دل سچا سمجھے اس کے ساتھ چلو۔ ہر معالے کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرو۔ دنیا کی بجائے خدا کی خوشنودی کی طرف توجہ دو۔ وہ باتیں جو کتابوںمیں پڑھتا آیا تھا ان پر عمل وہ کرکے دکھاتے تھے۔ساری زندگی جس بات پر انہیں فخر محسوس کرتے پایا وہ یہی تھا کہ بی بی شہید کا انتہائی مشکل وقت تھا جب دنیا ان سے دور بھاگتی تھی اور میں نے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی ۔ اور اس وقت میری دعوت پر وہ میرے اس گھر میں آئی تھیںجس کا نمبر” سی 130” تھا۔ حسن اتفاق کہ یہی جہاز تھا جس میں وقت کا سب سے بڑاآمر اپنی زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ بی بی شہید کے اپنے لئے خراج تحسین کے الفاظ کو وہ تمام عمر اپنا سرمایہ قرار دیتا رہا۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ضیاء الحق کے دور آمریت میں جب بی بی شہید نے جلاوطنی اختیار کی تھی تو فیصل آباد سے شمس الاسلام ناز وہ واحد شخصیت تھی جس کا بی بی سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ رابطہ کاری اتنی تیز نہیں تھی۔ فیس بک ‘ وٹس ایپ’ میسنجراور موبائل فون جیسی سہولیات تو دستیاب نہیں تھیں۔ بیرون ملک سے شمس الاسلام ناز کے پی ٹی سی ایل کے فون نمبر 600000 پر بی بی کی کالز آتی تھیں تو ان کا ای میل پر بھی معلومات کا تبادلہ اور رابطہ رہتا تھا۔ اس دور میں شمس الاسلام ناز کی ہر ای میل کا بی بی خود جواب دیتی تھیں۔شمس الاسلام ناز نے جس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی وہ پی ایف یو جے کے نائب صدر تھے۔ اس سے پہلے وہ ایپنک کے اسسٹنٹ سیکرٹری بھی رہ چکے تھے۔ بہت سے اخباری مراکز میں یونین بنانے کا اعزاز شمس الاسلام ناز کو حاصل رہا۔وہ ایپنک میں فیصل آباد نیوزپیپرز ایمپلائز یونین کے نمائندے کے طور پر شامل ہوئے تھے ۔اسی دوران ہی انہیں احساس ہوا کہ ملک بھر میں صحافتی یونین اپنی افادیت کھو رہی ہے ۔ صحافیوں کی ہڑتالوں اور احتجاج کے باوجود اخبارات زیادہ متاثر نہیں ہورہے ایسے میں انہوں نے اچھوتا آئیڈیا پیش کیا۔خوش نویسوں کی یونین بنائی جائے۔خوش نویس جسے کاتب کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ اخبارات کی مجبوری ہوا کرتے تھے۔ اچھے لکھنے والے بہت کم ملتے تھے ۔ شمس الاسلام ناز کی ایکخوبی یہ بھی تھی کہ صرف سوچتے نہیں تھے۔ عمل بھی کرتے تھے۔ کسی دوسرے کو مشورہ دینے سے قبل فیصل آباد میں خوش نویس یونین بنا بھی دی۔ اور خوش نویس یونین سے ہڑتال کروا کر ورکرز کے مشترکہ مطالبات مالکان کو پیش کئے اور انہیں منوایا بھی۔ فیصل آباد میں خوش نویسوں کی یونین کی کامیاب ہڑتال کا چرچا ملک بھر میں ہوا۔ اسی کامیاب ہڑتال کی بدولت خوش نویس یونین فیصل آباد کو ایپنک میں ممبر شپ ملی اور فیصل آباد کی طرز پر ملک بھر میں خوش نویس یونین کی کوششیں ہونے لگیں۔خوش نویس یونین فیصل آباد کے اس وقت کے لیڈر بعد ازاں ملتان چلے گئے ۔ 2009میں شمس الاسلام ناز نے بطور سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ملتان یونین آف جرنلسٹس کی بحالی کیلئے کوششیں کیں تو ملتان میں ان کے میزبان خوش نویس یونین کے وہی لیڈر تھے جو اس وقت وہاں سے اپنا اخبار نکال رہے ہیں۔پاکستان بھر میں صحافتی یونین بن رہی تھیں۔ ملک کے تمام بڑے اخبارات میں یونین بن چکی تھی مگر نوائے وقت میں نہیں بن رہی تھی ۔ نوائے وقت میں ورکرز یونین بنانے کا اعزاز بھی شمس الاسلام ناز نے حاصل کیا۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران بھی سچ کا پرچم بلند رکھنے ‘ اظہار کی آزادیوں کیلئے ملک بھر میں صحافتی یونین کے قیام کیلئے سرگرم رہنے والا شمس الاسلام ناز اچانک تمام معاملات چھوڑ کر خاموش ہوگیا ۔ اور قریب قریب دو دہائیوں تک صحافتی سیاست سے کنارہ کش رہا۔ یونین کی کسی سرگرمی میں نظر نہ آتے۔ پی ایف یو جے کچھ کررہی ہے یا فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیوزپیپر ایمپلائز یونین فیصل آباد کی کوئی سرگرمی ہے یا نہیں۔ شمس الاسلام ناز نے کوئی پرواہ ہی نہیں کی۔ اس کی وجہ بھی چند یونین لیڈرز کا خودغرضانہ روئیہ رہا۔ کسی نے چھوٹی سی ٹھیس دل کو لگائی اور وہ سب کچھ چھوڑ کر صحافتی سیاست سے منہ موڑ گئے۔ ہاں وہ ایسے ہی تھے۔ یونین سازی کیلئے کام کررہے تھے تو ملک بھر کا سفر کرتے ۔ سب کے پاس جاتے۔ مگر کبھی کسی سے چائے پانی کے بھی روادار نہ ہوتے۔ کسی نے چائے پلادی تو پی لی۔ کسی نے کھانے کا پوچھ لیا تو کھا لیا۔ نہ پوچھا تو خاموشی سے کام کیا اور رات کو واپس گھر آکر ہی کھاتے۔ ان کا یہ چلن اس وقت بھی قائم رہا جب وہ دو دہائیوں کی خاموشی توڑ کر دوبارہ یونین سرگرمیوں میں شامل ہونا شروع ہوئے۔ضیا ء الحق کے مارشل لاء کے دور میں پی ایف یو جے کی اظہار کی آزادیوں کیلئے جنگ میں فرنٹ پر ڈٹا رہا۔ صحافتی ورکرز کیلئے عدالتوں میں جنگ بھی لڑتا رہا۔خاموش ہوا تو دو دہائیوں تک یونین کی سرگرمیوں میں کہیں نظر نہ آیا۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس تو کب کی کہیں دفن ہو چکی تھی۔ ہم نے فیصل آباد میں دوستوں کے ساتھ مل کر فیصل آباد جرنلسٹس ایسوسی ایشن بنا رکھی تھی۔ مگر اس میں بھی شمس الاسلام ناز نے ایک ممبر سے زیادہ شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ کبھی کسی مشاورت میں بھی شامل نہ ہوتے۔ اچانک فیصل آباد کے صحافیوں کو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے تحفہ ملا اور انہیں ایسوسی ایشن کی بجائے یونین کی ضرورت محسوس ہوئی ۔
جنرل پرویز مشرف کی شکل میں 12اکتوبر 1999کو ملک کو ایک نیا آمر ملا۔جنرل مشرف نے اپنے ”تاریخی ریفرنڈم ”کے سلسلے میں 2002میں فیصل آباد کا دورہ کیا۔ اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں ریفرنڈم کے حوالے سے ”جلسہ عام” کا پنڈال سجایا گیا۔ مشرف کے سایہ عاطفت میں تن من دھن وار دینے کے اعلانات کرنے والے اس وقت کے ڈسٹرکٹ ناظم فیصل آباد چوہدری زاہد نذیر نے ضلع بھر سے محکمہ تعلیم’ بلدیاتی اداروں’ سالڈ ویسٹ ‘ واسا اور دیگر اداروں کے ملازمین اکٹھے کرکے جلسے کی رونق بڑھائی ہوئی تھی ۔ ایک روز قبل مشرف کی وردی کے سایہ میں بننے والے ڈسٹرکٹ ناظم لاہور میاں عامر محمودنے مینار پاکستان کے سایہ میں ایسا ہی پنڈال سجایا تھا اور جنرل مشرف نے خطاب میںکچھ ایسے کلمات ادا کئے جو صحافیوں کو برے لگے اور اس حوالے سے پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ دو ماہ بعد وفاقی وزیر اطلاعات فیصل آباد آئے تو انہوںنے اس کی وضاحت کی کہ جنرل پرویز مشرف کے وہ کلمات تو لاہور کے اخبارات اور اخباری مالکان کی شان میں تھے ۔اس پر غصہ تو اخباری مالکان کو کرنا چاہئے مگر مالکان تو دو دن بعد ہی سرنڈرکرگئے تھے۔ صحافیوں کا غصہ کرنا ہی نہیں بنتا تھا۔ جنرل مشرف کے لاہور خطاب پر احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد کے صحافیوں نے احتجاج کیا ۔ جلسے کا بائیکاٹ کیا اور اقبال سٹیڈیم کے پنڈال سے باہر نکل کر روڈ بلاک کرکے احتجاج کرنے لگے۔ بائیکاٹ کے دوران ہی مشرف کا خطاب مکمل ہوا۔ مشرف کی شاہی سواری نے اسی سڑک سے گزرنا تھا جہاں صحافی احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کئے ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات رکھنے والے ڈسٹرکٹ ناظم فیصل آباد نے مذاکرات اور بات چیت کا آپشن استعمال کئے بغیر ہی طاقت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا فیصلہ کیا اور پولیس کو لاٹھی چارج کرکے صحافیوں کے ہوش ٹھکانے لگانے کا فرمان جاری کردیا۔ اس وقت کے ایس ایس پی فیصل آباد تصدق حسین نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فیصلے پر عمل کروا دیا۔ خوب لاٹھیاں برسیں۔ جو سامنے آیا اس کی لاٹھیوں سے تواضع کی گئی۔ سڑک کھل گئی اور شاہی سواری بمعہ مقامی حکمرانوں کے گزر گئی۔ صحافیوں کے پاس احتجاج کو جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ رہا۔ پریس کلب کے علاوہ کوئی جائے امان بھی نہ تھی۔ پریس کلب میں احتجاجی کیمپ لگا لیا گیا۔
پریس کلب میں احتجاجی کیمپ لگ چکا تھا ۔ شمس الاسلام ناز کا ابتدائی روز سے ہی کہنا تھا کہ جن کیلئے فیصل آباد کے صحافی احتجاج کررہے ہیں وہ دو دن بھی نہیں ٹک سکیں گے اور ہوا بھی ایسے ہی ۔ اخباری مالکان نے دوسرے دن ہی مشرف کے ساتھ صلح کرلی اور صلح کرتے ہوئے خود غرض اخباری مالکان نے صحافیوں اور ورکرز کو اعتماد میں لینا بھی گوارہ نہ کیا۔اس دوران فیصل اباد جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کا نام دے کر تنظیم سازی کی گئی ۔ یونین کے عہدیداروں کے طرز عمل سے شمس الاسلام ناز اس قدر دلبرداشتہ ہوگئے تھے کہ صحافتی سیاست میں کسی طور شامل ہونے پر تیار نہ تھے ۔یونین کا ممبر ضرور بن گئے تھے لیکن ہمارے کہنے کے باوجود یونین کا الیکشن لڑنے پر آمادہ تھے نہ الیکشن کیلئے کوئی مشاورت دیتے۔ ایسے ہی وقت میں ایس ایس پی فیصل آباد ظفر عباس لک نے ٹی ایم اے ہال میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ایک تقریب کے دوران فیصل آباد کے صحافیوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔بعد ازاں فیصل آباد پریس کلب کا صدر بننے والے شاہد علی اس تقریب میں موجود تھے اور یہ الفاظ برداشت نہ کرسکے۔ اس پر موقع پر ہی احتجاج کیا تو طفر عباس لک نے پولیس کو شیرجوانوں کے ذریعے تقریب سے نکال باہرکروایا۔ شیر جوانوںنے شاہد علی کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ پولیس کے اس آمرانہ طرز عمل کی اطلاع جب ہمیں ملی تو تمام دوست ایف یو جے کے صدر محمد یوسف کے پاس جمع تھے۔ شمس الاسلام ناز کسی دوسرے کام کیلئے وہاں پہلے سے موجود تھے۔ ان سے مشاورت کی گئی تو انہوں نے احتجاج کا مشورہ دیا۔فوری اس پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ عرصے بعد اس یونین کی کسی سرگرمی میں شمس الاسلام ناز شامل ہوئے اور احتجاج میں پیش پیش رہے۔ اس کے بعد وہ ایف یو جے کی سرگرمیوں میں شامل ہونے لگے۔

اسی دوران ہی ایف یو جے کے الیکشن تھے ۔الیکشن میں دو پینل آگئے۔ انتخابی عمل کے دوران ہی ظفر عباس لک نے ایک پینل کے سینئر رہنما کی پشت پناہی کی۔ اس پینل کے لیڈر کی مشاورت سے ایک صحافی ورکر کو غائب کیا گیا اور اس کے اغواء کے جرم میں ہمارے صدارت امیدوار محمد یوسف ‘ مرحوم غلام محی الدین میرے اور ہمارے دو دیگر ساتھیوں کیخلاف غائب صحافی کے اغواء کی درخواست ظفر عباس لک کو دیدی گئی۔ لک نے اس پر فوری مقدمہ کے اندراج کا بھی حکم دیدیا۔ مجھے نام تو یاد نہیں مگر اس وقت کے ایس پی سٹی نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور مقدمہ کے اندراج میں رکاوٹ بن گئے۔ شام کے وقت یہ معاملہ سامنے آیا اور شمس الاسلام ناز کے مشورہ سے وہ رات ہم دوستوںنے اپنے اپنے گھروں کی بجائے ایک دوست کے گھر گزاری اگلے دن ڈی آئی جی کے پاس گئے اور معاملہ حل کروایا۔ ڈی آئی جی کی طرف سے اندراج مقدمہ نہ کرنے کی ہدائت کے ساتھ ہی غائب صحافی چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آگیا۔ یہ واقعہ شمس الاسلام ناز کو دوبارہ صحافتی سیاست میں سرگرم کرگیا۔ اس الیکشن میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا۔ ایف یو جے کے الیکشن کے بعد انہوں نے پی ایف یو جے کی ایف ای سی بھی فیصل آباد میں کروانے کا مشورہ دیا۔ اور پھر ایف ای سی فیصل آباد میں اس شان سے ہوئی کہ دو دہائیوں کی خاموشی توڑ کر منہاج محمد خان برنا بھی پی ایف یو جے کی کسی تقریب میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں شمس الاسلام ناز 2007کے لاہور بی ڈی ایم میں پی ایف یو جے کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ اور 2009کے فیصل آباد بی ڈی ایم میں ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پی ایف یو جے کے تینوں بڑے یونٹس کراچی ‘ لاہور ‘ اسلام آباد کے علاوہ کسی یونٹ سے بننے والے پہلے اور اب تک کے واحد سیکرٹری جنرل ہیں۔اپنی سیکرٹری شپ کے دوران ہی انہوں نے صحافی لیڈروں کی مخالفت کے باوجود ملک بھر کے صحافیوں اور اخباری کارکنوں کے تحفظ اور اخباری مالکان کو آئین پاکستان پر عمل درآمد پر مجبور کرنے کیلئے وہ تاریخی کام کیا کہ جس کی پی ایف یو جے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مگر ان کی اس کاوش کو اخباری مالکان نے چند نام نہاد صحافتی کو ساتھ ملا کر ناکام بنانے کی سازش کی۔ انہیں دوبارہ صحافتی سیاست سے دور دھکیلا گیا ۔ اخبار ی مالکان کو آئین پاکستان میں اخباری کارکنوں کے حوالے سے شامل واحد شق پر عمل درآمد نہ کرنے کے حوالے سے تعاون فراہم کیا گیا۔

تحریر حامد یٰسین ۔ سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس

 

 

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر ایک

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر دو

Related posts