تبدیلی کیا ہوئی : اقتدار کے تمام ایوانوں پر کروڑ پتی براجمان


اسلام آباد(احمد یٰسین)تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے اور عام آدمی کو حکمرانی میں شامل کرنے کا دعویٰ کرنیوالے والی تحریک انصاف بھی’’ سٹیٹس کو‘‘ کا حصہ بن گئی۔ اکثریت ملنے پر بھی تحریک انصاف سفید پوش اور محروم طبقات کو اقتدار میں شامل نہ کرسکی۔ وفاق کے علاوہ چاروں صوبوں میں اقتدار کے ایوانوں تک کروڑ پتی سرمایہ دار ہی پہنچائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کروڑ پتی اور سرمایہ دار ہیں ۔بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کے علاوہ پانچوں اسمبلیوں کے سپیکر ‘ ڈپٹی سپیکر ‘ چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کروڑ پتی اور بالادست طبقات کی نمائندگی کرنیوالے ہیں۔ کپتان نے اکثریت ملنے کے باوجود سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 22سال کے جدوجہد کے ساتھیوں کی بجائے ابن الوقت سیاسی قیادت کو ہی نوازاہے ۔نیوزلائن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سٹیٹس کو کا خاتمہ کرنے کا نعرہ لے کر سیاست میں آئے۔ انہوں نے جا بجا عوام میں اعلانات کئے کہ وہ بالادست طبقات کی بجائے پسے ہوئے طبقات کو اقتدار میں نمائندگی دیں گے۔ مگر عملی طور پر وہ ایسا کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے ہی امتحان میں عمران خان بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے وفاق‘ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں کروڑ پتی سرمایہ داروں اور بالادست طبقات کے نمائندوں کو اقتدار میں شامل کیا ہے۔

اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوان ’’وزارت عظمیٰ ‘‘ پر خودپی ٹی آئی کے چیئرمین عمران احمد نیازی براجمان ہوئے ہیں۔ وہ خود بھی پسے ہوئے طبقات سے تعلق نہیں رکھتے اور کروڑوں کے اثاثوں کے مالک ہیں۔عمران خان لوگوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں اور ان کی مالیت عوام کے سامنے لائیں۔ وہ سیاستدانوں کے اپنے اثاثوں کی مالیت چھپانے کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے ہیں مگر وہ خود بھی اس کی عملی تفسیر ثابت ہوئے ہیں۔عمران خان نے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں میں سے 9جائیدادوں کی مالیت ظاہر ہی نہیں کی ۔زمان پارک لاہور کے اپنے 148مرلے کے گھر کی مالیت ظاہر کرنا بھی انہوں نے گوارہ نہیں کیا۔ بنی گالا میں 6ہزار مرلے کے اپنے بنگلے کی قیمت انہوں نے محض1910روپے فی مرلہ ظاہر کی ہے۔ جبکہ بنی گالا میں ہی اپنے بنگلے کے قریب ہی اپنے خالی پڑے 136مرلے کے پلاٹ کی قیمت وہ 37ہزار روپے فی مرلہ ظاہر کرتے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ میاں چنوں میں ان کے 530کنال ‘ 15مرلے کے پلاٹ کی قیمت محض 50ہزار روپے ہے۔اس سب کے باوجود بھی عمران خان کے اثاثوں کی مالیت چار کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں ان کی وہ جائیدادیں شامل نہیں ہیں جن کی مالیت وہ ظاہر نہیں کرتے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر کا تعلق بھی پی ٹی آئی ہی سے ہے اور تحریک انصاف انہیں ایک عام کارکن کے طور پیش کرتی ہے مگر وہ بھی کروڑ کے اثاثوں کے مالک اور سرمایہ دار طبقات کے نمائندہ ہیں۔ ان کے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت چار کروڑ ‘ 42لاکھ ‘ 37ہزار 556روپے ہے۔ اس کے علاوہ وہ پرائیویٹ سکول اور پرائیویٹ کالج کے بھی مالک ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا تعلق بھی پی ٹی آئی ہی سے ہے اور وہ بھی کروڑ پتی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخواہ اسمبلی میں واضح اکثریت ملی ‘ دو تہائی اکثریت کیساتھ کے پی کے میں پی ٹی آئی کسی بھی طرح کی قانون سازی میں مکمل آزاد اور پی ٹی آئی کے تمام صوبائی ارکان عمران خان کیساتھ وفادار بھی ہیں عمران خان کسی کا بھی نام پیش کردیتے تو اس کا وزیر اعلیٰ بن جانا یقینی تھا۔ کسی کو مخالفت کی جرأت بھی نہ ہوتی۔ اتنی واضح اکثریت ملنے کے باوجود عمران خان کے پی کے میں کسی عام کارکن اور محروم طبقات کے نمائندے کو وزرات اعلیٰ تک نہ پہنچا سکے۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے امیر ترین ارکان میں شامل ارب پتی محمود خان کو عمران خان نے وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد کیا۔ محمود خان دو ارب 51کروڑ 67لاکھ روپے مالیت کی اراضی کے مالک ہیں۔ ان کی سوات میں 150کمرشل دکانیں ہیں جن کا کرایہ وصول کرتے ہیں اور یہ ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔ کرایہ وصول کرنے کیلئے انہوں نے روائتی منشی رکھا ہوا ہے جو دکان دکان جا کر کرایہ کی وصولی یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ کروڑ دو بنکوں کے اکاؤنٹس میں ہیں اور 65لاکھ روپے نقد انہوں نے اپنی تجوری میں رکھے ہوئے ہیں۔کے پی کے اسمبلی کے سپیکر کیلئے بھی کپتان کو کوئی محروم طبقات کا نمائندہ اور کارکن نہ مل سکا۔ کے پی کے اسمبلی کے سپیکر مشتاق غنی دو کروڑ 73لاکھ 64ہزار 914روپے کے اثاثوں ے مالک ہیں۔ کے پی کے اسمبلی کے دپٹی سپیکر کیلئے بھی عمران خان نے ایک کروڑ پتی کا انتخاب کیا۔ کے پی کے کا ڈپٹی سپیکر محمود جان 11کروڑ ‘ 77لاکھ ‘ 85ہزار 788روپے کے اثاثوں کا مالک ہے۔

ملک کی 60فیصد آبادی رکھنے والے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان ایسے پہنچے جو محروم اور پسے ہوئے طبقات کے نمائندہ ہیں۔ کئی ایک ایم پی ایز کپتان کی 22سالہ جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے مگر ان میں سے کسی کی قسمت نے یاوری نہ کی یا دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کسی کی جدوجہد کو کپتان نے پسند نہ کیااور وزارت اعلیٰ کیلئے عمران خان نے الیکشن 2018سے محض 40دن قبل ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے کروڑ پتی جاگیردار عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کیلئے کپتان نے خود نامزد کردیا۔ عثمان بزدار مسلم لیگ ق کا دس سال تک حصہ رہے۔ 2013کا الیکشن مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے لڑا۔ اور 2018کے الیکشن سے 40دن قبل پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ عثمان بزدارضلع ڈی جی خان کے قبائلی علاقے ’’بارتھی ‘‘ کے رہنے والے ہیں جسے مقامی لوگ زیادہ تر’’بھارتی‘‘ ہی کہتے ہیں۔ان کے آبائی علاقہ میں پنجاب میں شامل ہونے کے باوجود پنجاب کا قانون مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتا ۔ ڈی جی خان کے ڈی سی کو بھی ان کے علاقے میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوتی اور وہاں ابھی تک قبائلی سسٹم ہے۔ عثمان احمد بزدار ڈی جی خان‘ تونسہ‘ چوٹی زیریں‘ ملتان میں کروڑوں روپے مالیت کی گیارہ جائیدادوں کے مالک ہیں مگر وہ ان کی مالیت صرف اڑھائی کروڑ روپے ظاہر کرتے ہیں۔پنجاب کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری بھی کروڑ پتی ہیں۔ وہ خود اپنے اثاثو ں کی مالیت 15کروڑ روپے ظاہرکرتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر پی ٹی آئی کے اتحادی پرویز الٰہی ہیں اور ان کے اثاثوں کی مالیت 19کروڑ روپے سے زائد وہ خود ظاہر کرتے ہیں ۔

بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت ہے۔ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ پی ٹی آئی کے اتحادی جام کمال کے پاس ہے اور جام کمال کے ظاہر کردہ اثاثوں کی ان کی اپنی ظاہر کردہ مالیت 15کروڑ ‘ 25لاکھ ‘ 49ہزار 301روپے ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔اور وہ بھی سرمایہ دار اور جاگیردار ٹولے کے نمائندے ہیں۔ ان کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کی انکی اپنی ظاہر کردہ مالیت اڑھائی کروڑ روپے سے زائد ہے۔

صرف سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے۔ سندھ میں غیریبوں ‘ محنت کشوں اور محروم طبقات کی نمائندگی کی دعویدار سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ محروم طبقات کی نمائندگی اور انہیں فوقیت دینے کے نعرے بلند کرنیوالے بلاول بھٹو زرداری نے بھی محروم طبقات کی بجائے سرمایہ دار اور جاگیر دار ٹولے کو ہی اقتدارکے ایوانوں تک پہنچایا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کروڑوں روپے نقد‘ 17گاڑیاں‘ سات کاروبار‘ محل نما حویلی‘ 228کنال ان کی اور انکی اہلیہ کے ملکیتی 228ایکڑ جبکہ ان کی فیملی کے 3387ایکڑ اراضی ہے۔ سندھ کے سپیکر آغا سراج خان درانی کے ظاہر کردہ اثاثوں کی انکی خود ظاہر کردہ مالیت سات کروڑ‘ 21لاکھ ‘ 65ہزار 919روپے ہے۔ سندھ کی ڈپٹی سپیکر شپ ایک خاتون کو دی گئی ہے مگر یہ خاتون بھی محروم طبقات کی بجائے روائتی جاگیردار ٹولے کی نمائندہ ریحانہ لغاری ہیں۔ریحانہ لغاری کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کی ان کی خود ظاہر کردہ مالیت ایک کروڑ 40لاکھ 63ہزار 259روپے ہے۔پہلے مرحلے میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں میں صرف ایک فرد کروڑ پتی کلب کا حصہ نہیں ہے اور وہ ہے بلوچستان اسمبلی کا سپیکر عبدالقدوس بزنجو۔ بلوچستان کا سپیکر اور وزیر اعلیٰ رہنے کے باوجود بزنجو کی کل جمع پونجی 10لاکھ روپے کے اثاثہ جات ہیں۔ جس میں ان کی نقد رقوم اور بنک بیلنس بھی شامل ہیں۔

Related posts