تجارت کے نام پر فیصل آباد سے دہشت گردوں کو فنڈنگ کا انکشاف


فیصل آباد (احمد یٰسین) فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے تجارت کے نام پر دہشتگردی کیلئے فنڈنگ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بعض بزنس مین خود اس میں ملوث ہونے کا شبہ ہے جبکہ بہت سے ان ڈائریکٹ معاملے میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد کے ایکسپورٹرز اور مقامی صنعتکاروں و تاجروں کی بڑی تعداد اس معاملے میں ملوث پائی جارہی ہے ۔ دہشت گردی کیلئے فنڈنگ روکنے کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان نے بزنس کمیونٹی سے حلفیہ بیان لینا شروع کردئیے ہیں۔نیو زلائن کے مطابق فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کے دہشت گردی کیلئے فنڈنگ کرنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کے دوسرے شہروں کی نسبت فیصل آباد سے یہ فنڈنگ بہت زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ دہشت گردی کیلئے فنڈنگ میں شہر کے نامی گرامی ایکسپورٹرز‘ صنعتکار اور تاجر ملوث پائے جارہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل فیصل آباد کے ایک بڑے بزنس مین کے بیٹے کی طرف سے غیرقانونی ذرائع استعمال کرکے بہت بڑی رقوم انڈیا بھجوائے جانے کا ایک سکینڈل پکڑا گیا تھا ۔ رپورٹس کے مطابق اس بزنس مین کی طرف سے انڈیا رقوم بھجوائے جانے کا سکینڈل بھی تجارت کے نام پر دہشت گردی کی فنڈنگ کا ہی معاملہ تھا۔ سوپ اور گھی کی مینوفیکچرنگ کرنے اور سوپ غیر قانونی ذرائع سے افغانستان بھجوانے والے ایک بڑے بزنس گروپ کے معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ فیصل آباد کے بعض بڑے ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کی طرف سے منی لانڈرنگ کئے جانے کو بھی حساس ادارے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فیصل آباد کے بعض بزنس مینوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ اپنے مذہبی رجحان کی وجہ سے دہشت گرد گروپوں کے قریب ہیں۔ جبکہ متعدد بزنس مین اپنی مجبوریوں کی وجہ سے دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق تجارت کے نام پر دہشت گردوں کیلئے فنڈنگ کا سلسلہ صرف فیصل آباد میں نہیں ہے۔ ایسی ہی رپورٹس کراچی کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ جبکہ ملک کے دوسرے شہروں کے بزنس مینوں کے حوالے سے ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی ہیں ۔ تاہم فیصل آباد سے بہت بڑی رقوم بیرون ملک بھجوائے جانے اور رقوم کے بیرونی سرا سامنے نہ آنے سے معاملہ مشکوک ہوا اور حساس اداروں نے اس معاملے کی تحقیق کی تو دہشت گردی کی فنڈنگ کے انکشاف نے سب کو چونکا دیا۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی تحقیقات میں بزنس کمیونٹی بھتہ اور ان ڈائریکٹ دہشت گرد گروپوں کو فنڈنگ فراہم کرنا تسلیم کر چکے ہیں تاہم حساس اداروں کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ ان ڈائریکٹ کے علاوہ بعض بزنس حلقے ڈائریکٹ دہشت گردوں کو فنڈنگ کرنے میں بھی ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق تجارت کے نام پر دہشت گردی کیلئے فنڈنگ روکنے کیلئے ریاستی اداروں نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ذریعے ایکسپورٹرز ‘ مینو فیکچررز اور ٹریڈرز سے حلفیہ بیان لینا شروع کردیئے ہیں۔ ان سے حلفیہ بیا ن لئے جا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ فنڈنگ نہیں کریں گے جبکہ ایسے کسی بھی معاملے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اعتماد میں لیں گے۔ ایسا نہ کرنے والے بزنس مینوں کیخلاف قانون متحرک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

Related posts