تشکیلِ کبھی نا – تحریر:شفقت ندیم


ہماری سوسائٹی میں بہت سے چیلنجز ایسے ہیں جو اب آہستہ آہستہ ہمارے لئے درد سر کی حیثیت اختیار کر تے جارہے ہیں لیکن ہم ہیں کہ دو اور دوچار کی بجائے دو اور دوپھر دو کے کھیل سے باہر نہیں آرہے حلانکہ اسی دو اوردو (ووٹ)کے کھیل سے چاروناچار چار چار باریاں لے چکے ہیں۔ جدید دورکے تقاضے بھی جدیدہوتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تو تبادلہِ خیالات و جذبات میں ایسا انقلاب برپاکیا ہے کہ دل کے معاملات کے لئے اب معالج دل سے ملنا لازم و ملزوم ہو گیاہے تاکہ درد دل میں کمی واقع ہو سکے۔ ہم ماضی میں صبح نمازِ فجرکے وقت جاگتے اور بڑے فخر سے گراؤنڈ کے آٹھ دس چکر لگاتے تھے لیکن اس دور جدید میں سارا دن ہمارے جوان محبوب کی گلی ، سکول و کالج کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔موبائل کی شکل میں یہ چھوٹا ساآلہ ایک وفا دار آلہ کار کی حیثیت سے ایسے ایسے خفیہ امور کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے کہ نوجوان ایک منٹ کی دوری بھی برداشت نہیں کرپاتے کہ کہیں ابا حضور کے ہاتھ لگ گیا تو ان کا اپنا کردار بالکل برباد نہ ہو جائے۔
ہمارے ایک دوست جن کا ایک بڑا نام ہے’’ جناب سردار حکمت یار خواب‘‘ سوتے میں ایسی آوازیں نکالتے ہیں کہ جیسے اندھیری رات میں جنگلی درندے کبڈی کھیل رہے ہوں۔حضور نے خوابوں کی دنیا کو اپناایسا مسکن بنایاہے کہ دن کو بھی رات سمجھ کر سوتے ہیں۔ جناب کے دماغ میں بچپن سے ایسا کیڑا ہے کہ اسی درد سرمیں حضور نے سردار لکھنا شروع کر دیا ۔ جناب چونکہ شروع دن سے بڑے بڑے خواب دیکھتے آرہے ہیں تو خواب کو اپنا تخلص بنالیا۔ جہاں تک حکمت یار کی بات ہے تو ماں باپ کی دیرینہ خواہش تھی کہ چشم چراغ حکیم بنے تو حکمت سے یاری کو پروان چڑھانے کے لئے نام حکمت یار رکھ دیا اور یوں ایک بڑا نام معرض وجود میں آ گیاسردار حکمت یار خواب۔حضور ہر وقت خواب خرگوش کے مزے لینے کے لئے نیند کا سفر کچھوے کی رفتار سے رات کو شروع کرتے جو دن بارہ بجے تک ایک نئے خواب کی عنائت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتا۔ خواب صاحب کا کہنا ہے کہ رانجھا دنیا میں جیتے جی تو راضی نہیں ہو سکا لیکن خواب میں تو رانجھا بھی راضی کیا جا سکتا ہے۔
خواب صاحب ایک دن خواب میں اپنی حکومت بنا بیٹھے۔حکومت تو بن گئی لیکن تشکیل کابینہ ایک بار پھر درد سر بن گئی۔وجہ ہائے پریشانی یہ تھی کہ کون سی وزارت کس ممبر کو کس اہلیت کی بنیاد پر دی جائے۔ خیر جناب نے کافی سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ ریلوے کی وزارت اس ممبر کو دی جائے جس کے پاس روپے پیسے کی ریل پیل ہو اور روزانہ کی بنیاد پر چلانے کے لئے تیل بھی ہو۔ اسی طرح بجلی چونکہ ایک سیریس معاملہ ہے لہذابجلی کی وزارت اس خاتون ممبر کو دی جائے جس کے انگ انگ میں بجلی بھری ہو تاکہ پانچ سال کی ٹرم خوش اسلوبی سے پوری کی جاسکے۔ پرائیویٹائزیشن بھی چونکہ ایک حساس معاملہ ہے تو موصوف نے فیصلہ کیا کہ یہ وزارت اس ممبر کو دی جائے جس کے پرائیویٹ افیئرز سب سے زیادہ ہوں تاکہ تجربہ کام آسکے۔پی آئی اے کے لئے ترجیح اس کو دی جائے جس کو پینے پلانے کا زیادہ شوق ہو تاکہ ڈبل ہوائی سفرکا مزہ بھی لیا جاسکے۔ جہاں تک تعلیم کے قلمدان کی بات ہے تو جناب حکمت یار خواب صاحب کے پاس نہ توکوئی علیم ہے اور نہ کلیم تو یہ شعبہ ایک نیم حکیم کے سپرد کرنے کا پروگرام بنا یا گیاکیونکہ اس کا ڈائریکٹ لنک چونکہ ہماری سترفیصد یوتھ سے ہے تو حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے حکیمی نسخوں سے تعلیم کو عام کیا جاسکے۔ مثلاً اگرکسی نوجوان کا حافظہ کمزور ہے تو بجائے کے حافظ صاحب سے رابطہ کریں حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے دو ماشے زعفران کو بادام کے ساتھ لینے سے آفاقہ ہو جائے گا۔محکمہ صحت کے لئے ایسے ممبر کو ترجیح دی جس کی بڑی توند کے ساتھ پانچ سو پونڈوزن بھی ہو تاکہ وہ اسی ویژن کے ساتھ صحت کے مسائل پر قابو پا سکے۔وزیر بلدیات کے لئے موزوں ترین امیدواروہ چنا جائے جس کی بیلی بڑی ہو تاکہ اس میں ریت،بجری، سیمنٹ، سولنگ اور نالیوں کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ سما سکے۔خارجہ امور کے لئے ایک ذہنی معذور ممبر کا انتخاب عمل میں لایا گیا تاکہ معاملات میں بہتری آئے اور انٹر نیشنل پریشر میں بھی کمی واقع ہو کیونکہ ذہنی معذور ہونے کی اہلیت سے نہ وہ کچھ سمجھے گا اور نہ درد سر ہو گی۔ باقی وزارتیں سردار خواب صاحب نے اپنے پاس رکھ لیں یہ سوچ کر کہ بوقت ضرورت کام آسکیں۔خیر اب دن کے بارہ بج چکے تھے اور خواب صاحب خواب خرگوش کے مزوں سے باہر آچکے تھے لیکن ان کے منہ پر آج اس لئے بارہ بجے تھے کہ کاش خواب تھوڑا اور لمبا ہوتا اور وہ کابینہ کی تشکیل کے تمام مراحل پورے کرنے کے بعد کوئی دو گھنٹے مزید گزار لیتے تاکہ حکومتی پروٹوکول کا مزہ لیا جا سکتا وہ تو ٹرک کے ہارن نے بیڑا غرق کر دیا تھا جس کی وجہ سے جناب کی آنکھ کھل گئی تھی۔
خیر ہمارا ملک ایک حقیقت ہے اور اگر ہم نے کابینہ کو تشکیل دیتے ہوئے اہلیت کا معیار ’’رائٹ پرسن فار رائٹ جاب ‘‘کے حساب سے قائم کر دیا توہمارا یہ پیارا ملک ضرور ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو گا۔

Related posts