تمناؤں اور خواہشات کو حقوق کا نام نہیں دیا جا سکتا: نازیہ سردار

شعور قوموں کا اثاثہ ہوتا ہے’ اور شعور و آگاہی کیلئے سول سوسائٹی کے سرگرم افراد کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ انتہا پسندی کی سوچ رکھنے والوں معاشروں میں حقوق کے حوالے سے عوام میں آگہی کا کام کرنے کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں مگر سچ کا سفر کرنے والوں کو مصنوعی رکاٹوں سے ان کے راستے سے ہٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ حقوق اور آگہی کی بات کرنا اس حوالے سے بھی مشکل ہے کہ اس کیلئے پہلے خود علم کا حصول یقینی بنانا ہوتا ہے۔ کیونکہ جو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ نہیں وہ دوسروں کو بھی ”گیان” نہیں بانٹ سکتا۔ فیصل آباد میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی بات کرنے والوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک نام تسلسل کے ساتھ سننے میں آیا ۔ عوام کو ”عوام” کے پلیٹ فارم سے آگہی دینے والا یہ نام معروف سماجی کارکن ”نازیہ سردار” کا ہے۔ نازیہ سردار نے مختصر دورانئے میں اپنی ایک منفرد شناخت بنائی اور سماج سدھار نظرئے کو مشن کے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ ”نیو زلائن ”نے نازیہ سردار کے ساتھ پسے ہوئے طبقات کے حقوق ‘ عوام میں آگہی اور سوسائٹی میں این جی اوز کے کردار کے حوالے سے ایک نشست رکھی ۔ اس نشست میں ہونے والی گفتگو نظر قارئین ہے

انٹرویو : احمد یٰسین’ ندیم جاوید

تمناؤں اور خواہشات کو حقوق کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ حق وہ ہے جسے عالمی سطح پر مانا جائے اور ریاست بھی اسے تسلیم کرکے لیگل فریم ورک دیدے۔ انٹرنیشنل سطح پر مانے جانے والے نکات کو بھی حق کہا جا سکتا ہے مگر اس پر ریاست سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ ان عالمی نکات کو تسلیم کرے اور ان پر قانون سازی کرکے اسے اپنے شہریوں کا حق بنائے۔ ریاست کے تسلیم کئے اور قانونی تحفظ دئیے بغیر کسی بھی مطالبے کو افراد اپنا حق نہیں کہہ سکتے۔ ہم جن حقوق کی بات کرتے ہیں وہ سب ریاست پاکستان کے تسلیم کردہ ہیں اور اسے آئین پاکستان نے لیگل کور دے رکھا ہے۔ ہم ریاست کے تسلیم کردہ حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان کے مطابق ہی حقوق مانگتے ہیں۔ ہمارا کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے جو ریاست کے لیگل فریم ورک سے ہٹ کر ہو۔ ہم امتیازات ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس میں کیا غلط بات ہے۔ آئین پاکستان اس بات کی ضمانت دیتا ہے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا بلکہ آئین میں درج ہے کہ خواتین’ بچوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کو ریلیف دینے کیلئے ریاست خصوصی اقدامات کرے گی۔آئین میں جو حقوق دے دئیے گئے ہیں ان کا مطالبہ کرنا کسی طور غلط نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ان حقوق کیلئے آواز اٹھانا اور عوامی سطح پر آگاہی پھیلنا غلط ہو سکتا ہے۔ آئین کی بات کرنے والے کو کیسے غلط کہا جا سکتا۔

اپنے شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانا بھی ریاست کی ہی ذمہ داری ہے۔ افراد معاشرہ اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں اور دوسرے افراد کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے ان کو غصب کرنے سے احتراز کرتے ہیں تاہم تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست کو ہی اپنا یہ فریضہ پورا کرنا چاہئے۔غیر سرکاری تنظیمیں صرف نشاندہی کرسکتی ہیں۔ عوام میں شعور اجاگر سکتی ہیں۔ لوگوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرسکتی ہیں۔ اپنا حق مانگنے کیلئے آواز بلند کرنے کا شعور دے سکتی ہیں مگر حقوق نہیں دے سکتیں۔ ہم افراد کے ہم آواز ہو کر حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرسکتے ہیں مگر یہاں بھی ہم یقینی بناتے ہیں کہ آئین کے دائرہ کار میں رہا جائے۔ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے لیگل فریم ورک کے مطابق ہی حقوق کی بات کریں۔ مگر اس سب کے باوجود افراد معاشرہ کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ریاست کی ہی کلی ذمہ داری ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ یہاں لوگ اپنے حقوق سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ لوگوں کو علم ہی نہیں ہے کہ ریاست انہیں کیا حقوق دے رہی ہے اور کس کس حق کو کون کون غصب کررہا ہے۔ شعور اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ استحصال کا شکار ہیں۔ امتیازات معاشرے کو گھیرے ہوئے ہیں۔قوانین کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی آئین میں دئیے گئے حقوق سے لاعلم ہیں۔ حقوق سے لاعلمی کی وجہ سے لوگ اپنے فرائض بھی بہتر انداز میں ادا نہیں کرپاتے۔ لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور کہاں ان کا احق ختم ہو کر دوسرے کیلئے آزار بن جاتا ہے۔ضرورت ہے کہ لوگوں کو شعور دیا جائے۔ اپنے حق کا اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا ۔ حقوق و فرائض سے آگاہی کے بغیر معاشرے میں پایا جانیوالا افراط و تفریط ختم نہیں کیا جا سکتا۔ امتیازات کا خاتمہ اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے حقوق سے آگاہی ناگزیر ہے اور یہی کام ہم سرانجام دے رہے ہیں۔ ہم لوگون کو شعور اور علم دے رہے ہیں۔ ان کے اپنے حق کا۔ دوسروں کے حقوق کے احترام کا۔ یہی انسانیت ہے۔ یہی انسانیت کی معراج ہے

مادر پدر آزادی تو لبرل ازم نہیں ہے۔ لبرل ازم ہے انتہا پسندی سے دوری کا۔ انتہا پسندی سے نفر ت کا۔ انسانیت سے محبت کا نام۔ دوسروں کے حقوق کے احترام کا نام۔ انسان کو جنس’ مذہب’ رنگ و نسل سے بالا ہو کر ملنے کا نام۔ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے تو دوسری طرف مادر پدر آزادی کی انتہا پسندی ہے۔ دونوں ہی غلط ہیں۔ انسان کو لبرل ہونا چاہئے ۔ رنگ و نسل کے امتیازات سے بالا ہو کر انسان کو انسان سمجھ کر برتاؤ کرنا۔ جنس اور مذہب کی بنیاد پر کسی میں تفریق نہ رکھنا۔اس میں ایسا کچھ غلط نہیں ہے۔کسی بھی قسم کے امتیازات اور انتہا پسندی کو ذہن میں رکھنے والا لبرل نہیں ہو سکتا۔
لیکن لبرل ازم اور مادر پدر آزادی کی پرکھ کیسے کی جائے اصل مسئلہ یہ ہے۔ لبرل ازم کہاں پر مادر پدر آزادی سے مل جاتا ہے اس کی پرکھ کیسے کی جائے۔ مادر پدر آزادی کے جو عوامل ہیں وہ تو ہماری سوسائٹی میں نظر ہی نہیں آتے۔ یہاں تو جسم کی ویسے نمائش نہیں ہے کہ ہم اسے مادر پدر آزاد معاشرہ کہ سکیں۔ جنس کے امتیاز سے بالا ہو کر میل جول رکھنے کو مادر پدر آزادی تو نہیں کہا جا سکتا۔ جو نظر آتا ہے ہمیں فیصلہ اسی کی بنیاد پر کرنا ہو گا۔ کسی کی کھوج لگانا۔ کسی کے خفیہ معاملات پر نظر رکھنا بھی کسی طرح مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ چادر اور چار دیواری کے معاملات خدا پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ ان کو موضوع بحث بنانا درست نہیں ہے۔ کسی کے بارے میں بدگمانی بھی تو درست نہیں۔ ان سب سے گریز ہی مناسب ہے۔

پاکستان میں خواتین کی آزادی’ خواتین کے بااختیار ہونے ‘ خواتین کو حقوق کی فراہمی’ خواتین کیساتھ صنف کی بنیادپر امتیازی سلوک کے خاتمے کی صورتحال مناسب نہیں ہے۔ آئے روز خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا ‘ امتیازی رویہ رکھنے کا کوئی نہ کوئی کیس سامنے آیا رہتا ہے۔ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے یا ان کے ساتھ بدسلوکی پر کارروائی کا میکانزم انتہائی کمزور ہے۔ قوانین کے ذریعے اسے جرم تو تسلیم کرلیا گیا مگر اس کا میکانزم بھی پولیس کے ہاتھوں میں دیدیا گیا۔ ویمن پولیس سٹیشن تو بن گئے ہیں مگر ویمن پولیس سٹیشن میں مردوں کے ساتھ ہی واسطہ پڑتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ویمن پولیس سٹیشن جانے کیلئے پورا مردانہ پولیس سٹیشن گزر کر وہاں جایا جا سکتا ہے۔ اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پولیس سٹیشن میں خواتین کو عزت کی نگاہ نہیں ملتی۔ دیگر بھی بہت سے عوامل ہیں جو اس سب میں حائل ہیں۔ اہم ترین معاملہ معاشرتی رویوں کا ہے۔ معاشرے میں خواتین کی عزت کا درس ملنا چاہئے۔ قوانین کے ساتھ لوگوں کی ذہن سازی کرنے اور تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف قوانین کچھ نہیں کرسکتے۔
پی ٹی آئی کی حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں تھیں مگر اس کی اب تک کی کارکردگی نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ دس ماہ سے خواتین حقوق کیلئے کام کرنے والے سرکاری ادارے پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف دی ویمن’ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ‘ شہید بے نظیر سنٹر اور دیگر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں کررہے۔ خواتین محتسب کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔ حکومت مزید فنڈز نہیں دے سکتی۔ انہیں زیادہ فعال نہیں کرسکتی مگر جتنے فنڈز پچھلے سال تھے۔ اتنے فنڈز کے یہ اپنی ورکنگ تو جاری رکھ سکیں۔ اتنے فنڈز تو دے کہ ان کا کام نہ رکے۔

مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے اور مذہب کے نام پر امتیازات نہ رکھنے کی صورتحال بھی کچھ زیادہ مناسب نہیں ہے۔ اکثریت مذہب میں انتہا پسند بھی ہے اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز بھی رکھتی ہے بہت کم لوگ ان امتیازات سے بالا ہو کر میل جول رکھتے ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی کی کیفیت نہیں ہے۔ مذہبی اختلافات رکھنے والوں کو قبول کرنے کی صورتحال نہیں ہے ۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف اقلیتوں کے حوالے سے یا اقلیتوں کی اکثریتی مذہب رکھنے والوں کے بارے میں ہی نہیں ہے۔ اپنے مذاہب میں بھی مختلف فرقوں کے ماننے والوں کے بارے میں ایسی ہی صورتحال ہے۔ مسلمانوں میں شیعہ ۔ سنی۔ وہابی کا جھگڑا انتہائی گہرا ہے۔ بریلوی اور دیوبندی کی تقسیم بھی ختم نہیں ہورہی۔ ایک پیر کو ماننے والے دوسرے پیر کے ماننے والوں کے مخالف ہیں۔ عیسائیوں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی تقسیم گہری سے گہری ہوتی جارہی ہے۔ ایک دوسرے کو برداشت کررہے ہیں یہی بہت بڑی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی اقلیت مذہبی امتیازات سے بالا ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھ رہی ہے اسے بھی غنیمت سمجھنا چاہئے۔
ایک انڈین فلم تھی ”پی کے” ۔ اس میں جو رانگ نمبر پی کے نے بتایا تھا وہ کسی ایک مذہب کا نہیں تھا سب مذاہب میں وہی رانگ نمبر گھسا ہوا ہے۔ مذہب کا انحصار اسی رائٹ یا رانگ نمبر پر ہی تو ہے۔ جیسا کہ پی کے نے کہا تھا کہ منیجر ہمیں جس طرف لے جائیں ہم چلتے ہیں۔ یہی صورتحال حقیقت میں ہے۔ انتہا پسند نظریات رکھنے والے ہر مذہب اور فرقے میں گھسے بیٹھے ہیں۔ دوسروں کو برداشت کرنے ‘ بھائی چارے کے ساتھ رہنے کا درس بہت کم دیتے ہیں حالانکہ تمام مذاہب کی اساس بھائی چارے اور انسانیت کا درد رکھنے میں ہی ہے۔ کوئی مذہب ہمیں جھوٹ بولنے’ برائیاں پھیلانے کا سبق نہیں دیتا۔ مگر اس طرف ہم آتے ہی نہیں ہیں۔

Related posts