جدید دور کا”سلطانہ ڈاکو“ پولیس کے ہاتھوں تاریخی انجام کو پہنچ گیا

فیصل آباد (احمد یٰسین) رابن ہڈ اور سلطانہ ڈاکو کی طرح سرمایہ داروں کو لوٹ کرغریبوں کے دکھ درد مٹانے کی کوشش کرنے والا فیصل آباد کا جدید دور کا سلطانہ ڈاکو پولیس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔پولیس کلچر تبدیل کرنے کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کے عثمان بزدار کے دور اقتدار میں بھی پنجاب پولیس نے اپنی دو سو سالہ روائت برقرار رکھی اور دور جدید کے رابن ہڈ کو تاریخی کردار سلطانہ ڈاکو کی طرح ہی ایک بغیر مزاحمتی ”پلس“ مقابلے میں موت کے سپرد کردیا۔ پولیس کی مقابلے کیلئے بنائی گئی کہانی میں ”جھول“ نے پولیس افسران کو بھی سر پکڑنے پر مجبور کردیا۔ نیوز لائن کے مطابق حساس اداروں نے چند روز قبل حافظ سلیمان رندھاوا کو آزاد کشمیر کے قریب سے پکڑ کر فیصل آباد پولیس کے حوالے کیا تھا جس پولیس نے اس کی باضابطہ گرفتاری بھی ظاہر کردی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او غلام محمد آباد انسپکٹر ایوب ساہی تھانہ ملت ٹاؤن کے ایک مقدمہ کی تفتیش کیلئے گرفتار ملزم حافظ سلیمان رندھاوا کو شہید پولیس ملازمین خالد محمود اور نسیم آفتاب سے چھینی جانے والی رائفل برآمدگی کے سلسلہ میں گھونہ چک میں گیا۔ وہاں سرکاری گاڑی پر جارہے تھے کہ اس دوران کار اور موٹر سائیکلوں پر آنے والے آٹھ مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کے بعد گرفتار ملزم حافظ سلیمان رندھاوا کو چھڑوا لیا اور فرار ہونے لگے توپولیس ملازمین نے ان کا تعاقب کیا اس دوران مقابلہ ہوگیا جس میں حافظ سلیمان رندھاوا اپنے ساتھیوں کی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستہ میں ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے ساتھی موٹر سائیکل اور کار چھوڑکر رات کی تاریکی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ پولیس مقابلے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی مدینہ ٹاؤن طاہر مقصود چھینہ، ڈی ایس پی عابد ظفر، ایس ایچ او ملت ٹاؤن ارم شاہ، انچارج چوکی بھائی والا حماد یوسف سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے حافظ سلیمان کی نعش ایک مشین گن، ایک پسٹل اور موٹر سائیکل نمبری ایف ڈی این 1666 قبضہ میں لے لی۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حافظ سلیمان رندھاوا نے سابق ایچ او مدینہ ٹاؤن مہر ندیم انجم،پولیس ملازمین عنصر شہزاد، خالد محمود اور نسیم آفتاب وغیرہ چھ ملازمین اور سات سے زائد شہریوں کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کردیا تھا۔ حافظ سلیمان کے خلاف فیصل آباد کے مختلف تھانوں میں 34سے زائد مقدمات درج تھے۔

نیوز لائن کے مطابق پولیس کی اپنی تفتیش حافظ سلیمان رندھاوا کو جدید دور کا رابن ہڈ اور سلطانہ ڈاکو ثابت کرتی ہے۔ حافظ سلیمان رندھاوا کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کی کہانی میں بھی متعدد جھول ہیں اور پولیس کا یہ روائتی طریقہ ہے۔ حافظ سلیمان رندھاوا کو پولیس نے ایسے ہی مقابلے میں پار کیا ہے جیسے سو سال قبل پولیس نے سلطانہ ڈاکو کو پکڑنے کو بعد ایک جعلی پولیس مقابلے میں موت کا شکار بنا دیا تھا۔

نیوز لائن کے مطابق پولیس کی بنائی ہوئی کہانی میں کئی جھول ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حافظ سلیمان کو پولیس کی بھاری نفری اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تفتیش کے لئے ایک ویران علاقے میں لے کر جارہی تھی۔ اس دوران حافظ سلیمان کے آٹھ ساتھیوں نے حملہ کردیا۔ فائرنگ میں حافظ سلیمان کو اس کے اپنے ساتھیوں کی ہی گولی لگ گئی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حافظ سلیمان کے ساتھیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے وہ حافظ سلیمان کو گولیوں سے بچا نہ سکی اور نہ ہی موثر انداز میں ملزمان کی فائرنگ کا جواب دے سکی اور نہ ہی ملزمان کا تعاقب کرسکی۔ پولیس اپنی بنائی ہوئی کہانی میں یہ واضح نہیں کرسکی کہ ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ کا ٹارگٹ صرف حافظ سلیمان ہی کیوں رہا۔ آٹھ ملزمان نے حملہ کیا تھا اور اندھا دھند فائرنگ بھی کر رہے تھے مگر اس کے باوجود پولیس کی گاڑی کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچا۔ ملزمان پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے مگر ایک بھی گولی کسی پولیس اہلکار کو نہیں لگی۔ گولیاں اتنی سمجھدار تھیں کہ پولیس اہلکاروں کے گھیرے کو توڑ کر اہلکاروں کے گھیرے میں موجود حافظ سلیمان کو جا کر لگیں اور کسی ایک بھی اہلکار کو ٹچ نہ ہوئی۔ حافظ سلیمان ایک انتہائی خطرناک ملزم گردانا جا رہا تھا اس کے باوجود پولیس رات کے اندھیرے میں ملزم کو لے کر جارہی تھی اور مناسب حفاظتی انتظامات بھی نہ کرسکی۔ حافظ سلیمان رندھاوا کے مقابلے بارے پولیس کی کہانی کو ہی سچ مان لیا جائے تو انتہائی تشویش ناک صورتحال یہ سامنے آتی ہے پولیس کے اندربھی حافظ سلیمان کے ساتھیوں کے مخبر موجود تھے جنہوں نے انہیں حافظ سلیمان کو لے جائے جانے کی خبر بھی کردی اور درست سمت‘ درست مقام اور درست صورتحال سے بھی آگاہ کئے رکھا اور ملزمان انتہائی آسانی کے ساتھ پولیس پارٹی تک پہنچ گئے۔ اور ملزمان نے پولیس پارٹی کو
گھیرے میں لے کر اندھادھند فائرنگ بھی کردی۔ یہ تو گولیاں سمجھدار نکلیں اور پولیس کے گھیرے کو توڑ کر صرف حافظ سلیمان کو لگیں وگرنہ پولیس کے مخبروں اور ریڈنگ پارٹی نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی کہ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نشانہ بن جاتی۔

پولیس کی کہانی میں ملزمان اتنے بے وقوف تھے کہ اندھادھند فائرنگ کرتے رہے مگر پولیس کی گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ نہ بنایا اور اتنے حالات سے باخبر تھے کہ حافظ سلیمان کو گولی لگتے ہی سب فرار ہوگئے اور حافظ سلیمان کے گولیاں کھا کر گرتے ہی مختلف موٹر سائیکلوں اور گاڑی میں سوار آٹھوں حملہ آور یکدم سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور پولیس اہلکاروں میں سے کسی کو نشانہ بنانے کی معمولی سی بھی کوشش نہ کی جبکہ حافظ سلیمان اور اس کے ساتھیوں کے حوالے سے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کو دیکھتے ہی اس پر فائر کھول دیتے تھے اور کئی ایک اہلکاروں کو قتل کر چکے ہیں۔

حافظ سلیمان کے حوالے سے پویس کی اپنی تفتیش میں یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ حافظ سلیمان کی تمام وارداتیں سرمایہ داروں کے خلاف ہیں۔ اس نے تمام وارداتوں میں جو مال و دولت سرمایہ داروں سے لوٹی جبکہ لوٹا ہوا مال غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔پولیس کی دستاویزات کے مطابق ملزم کئی ایک بیواؤں اور غریب افراد کی کفالت کرتا تھا۔ جنرل بس سٹینڈ کے قریب حافظ سلیمان کے ہاتھوں ایک سب انسپکٹرندیم انجم اور اہلکار کے مارے جانے کے بارے میں بھی سامنے آچکا ہے کہ انہوں نے حافظ سلیمان کی اہلیہ کو غیرقانونی طور پرحراست میں لے رکھا تھا اور کئی روز سے مذکورہ اہلکاروں کے قبضے میں تھی۔ اپنی بیوی کو ان کی حراست سے نکالنے کیلئے ہی وہ مذکورہ پولیس پارٹی کے ساتھ ٹکرایا تھا۔ اس واردات میں بھی حافظ سلیمان کو اہلکاروں کی لوکیشن اور تعداد کے حوالے سے معلومات تھیں جو اس کے پولیس کے اندر مخبروں کی نشاندہی کرتا ہے۔ حافظ سلیمان کی کہانی کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ حافظ سلیمان کے مارے جانے والے ”پولیس“ مقابلے سے چند گھنٹے قبل فیصل آبادپولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر کے سامنے سلیمان رندھاواکی گرفتاری کا کریڈٹ لینے کیلئے دو سب انسپکٹروں کے درمیان لفظی جنگ بھی ہوئی۔ دونوں تھانیدار گرفتاری کاکریڈٹ لینے کیلئے بڑھ چڑھ رپورٹس پیش کرتے رہے جبکہ تفتیش اور مستقبل کی کارروائی کے حوالے سے بھی دونوں میں سرد جنگ رہی۔ جبکہ پولیس افسران اس کی گرفتاری کو حساس اداروں کی کارروائی قرار دیتے رہے۔ حافظ سلیمان کے مقابلے کے حوالے سے انتہائی دلچسپ صورتحال یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ پولیس ایک طرف تو حافظ سلیمان کے مارے جانے کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے لارہی ہے کہ حافظ سلیمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس حافظ سلیمان کے مارے جانے کا کریڈٹ کس کھاتے میں لے رہی ہے۔ اس کو کوئی پولیس آفیسر واضح نہیں کرسکا۔ اس حوالے سے فیصل آباد پولیس کے ضلعی و ریجنل ترجمانوں سے بھی رابطہ کیا گیا مگر دونوں ہی اس صورتحال کو واضح نہ کرسکے۔

۔نیوز لائن کے مطابق پولیس کی اپنی تفتیش حافظ سلیمان رندھاوا کو جدید دور کا رابن ہڈ اور سلطانہ ڈاکو ثابت کرتی ہے۔ حافظ سلیمان رندھاوا کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کی کہانی میں بھی متعدد جھول ہیں اور پولیس کا یہ روائتی طریقہ ہے۔ حافظ سلیمان رندھاوا کو پولیس نے ایسے ہی مقابلے میں پار کیا ہے جیسے سو سال قبل پولیس نے سلطانہ ڈاکو کو پکڑنے کو بعد ایک جعلی پولیس مقابلے میں موت کا شکار بنا دیا تھا۔ نیوز لائن کے مطابق پولیس کی بنائی ہوئی کہانی میں کئی جھول ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حافظ سلیمان کو پولیس کی بھاری نفری اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تفتیش کے لئے ایک ویران علاقے میں لے کر جارہی تھی۔ اس دوران حافظ سلیمان کے آٹھ ساتھیوں نے حملہ کردیا۔ فائرنگ میں حافظ سلیمان کو اس کے اپنے ساتھیوں کی ہی گولی لگ گئی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حافظ سلیمان کے ساتھیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے وہ حافظ سلیمان کو گولیوں سے بچا نہ سکی اور نہ ہی موثر انداز میں ملزمان کی فائرنگ کا جواب دے سکی اور نہ ہی ملزمان کا تعاقب کرسکی۔ پولیس اپنی بنائی ہوئی کہانی میں یہ واضح نہیں کرسکی کہ ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ کا ٹارگٹ صرف حافظ سلیمان ہی کیوں رہا۔ آٹھ ملزمان نے حملہ کیا تھا اور اندھا دھند فائرنگ بھی کر رہے تھے مگر اس کے باوجود پولیس کی گاڑی کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچا۔ ملزمان پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے مگر ایک بھی گولی کسی پولیس اہلکار کو نہیں لگی۔ گولیاں اتنی سمجھدار تھیں کہ پولیس اہلکاروں کے گھیرے کو توڑ کر اہلکاروں کے گھیرے میں موجود حافظ سلیمان کو جا کر لگیں اور کسی ایک بھی اہلکار کو ٹچ نہ ہوئی۔ حافظ سلیمان ایک انتہائی خطرناک ملزم گردانا جا رہا تھا اس کے باوجود پولیس رات کے اندھیرے میں ملزم کو لے کر جارہی تھی اور مناسب حفاظتی انتظامات بھی نہ کرسکی۔

حافظ سلیمان رندھاوا کے مقابلے بارے پولیس کی کہانی کو ہی سچ مان لیا جائے تو انتہائی تشویش ناک صورتحال یہ سامنے آتی ہے پولیس کے اندربھی حافظ سلیمان کے ساتھیوں کے مخبر موجود تھے جنہوں نے انہیں حافظ سلیمان کو لے جائے جانے کی خبر بھی کردی اور درست سمت‘ درست مقام اور درست صورتحال سے بھی آگاہ کئے رکھا اور ملزمان انتہائی آسانی کے ساتھ پولیس پارٹی تک پہنچ گئے۔ اور ملزمان نے پولیس پارٹی کو گجیرے میں لے کر اندھادھند فائرنگ بھی کردی۔ یہ تو گولیاں سمجھدار نکلیں اور پولیس کے گھیرے کو توڑ کر صرف حافظ سلیمان کو لگیں وگرنہ پولیس کے مخبروں اور ریڈنگ پارٹی نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی کہ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نشانہ بن جاتی۔ پولیس کی کہانی میں ملزمان اتنے بے وقوف تھے کہ اندھادھند فائرنگ کرتے رہے مگر پولیس کی گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ نہ بنایا اور اتنے حالات سے باخبر تھے کہ حافظ سلیمان کو گولی لگتے ہی سب فرار ہوگئے اور حافظ سلیمان کے گولیاں کھا کر گرتے ہی مختلف موٹر سائیکلوں اور گاڑی میں سوار آٹھوں حملہ آور یکدم سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور پولیس اہلکاروں میں سے کسی کو نشانہ بنانے کی معمولی سی بھی کوشش نہ کی جبکہ حافظ سلیمان اور اس کے ساتھیوں کے حوالے سے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کو دیکھتے ہی اس پر فائر کھول دیتے تھے اور کئی ایک اہلکاروں کو قتل کر چکے ہیں۔ حافظ سلیمان کے حوالے سے پویس کی اپنی تفتیش میں یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ حافظ سلیمان کی تمام وارداتیں سرمایہ داروں کے خلاف ہیں۔ اس نے تمام وارداتوں میں جو مال و دولت سرمایہ داروں سے لوٹی جبکہ لوٹا ہوا مال غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔پولیس کی دستاویزات کے مطابق ملزم کئی ایک بیواؤں اور غریب افراد کی کفالت کرتا تھا۔ جنرل بس سٹینڈ کے قریب حافظ سلیمان کے ہاتھوں ایک سب انسپکٹرندیم انجم اور اہلکار کے مارے جانے کے بارے میں بھی سامنے آچکا ہے کہ انہوں نے حافظ سلیمان کی اہلیہ کو غیرقانونی طور پرحراست میں لے رکھا تھا اور کئی روز سے مذکورہ اہلکاروں کے قبضے میں تھی۔ اپنی بیوی کو ان کی حراست سے نکالنے کیلئے ہی وہ مذکورہ پولیس پارٹی کے ساتھ ٹکرایا تھا۔ اس واردات میں بھی حافظ سلیمان کو اہلکاروں کی لوکیشن اور تعداد کے حوالے سے معلومات تھیں جو اس کے پولیس کے اندر مخبروں کی نشاندہی کرتا ہے۔

حافظ سلیمان کی کہانی کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ حافظ سلیمان کے مارے جانے والے ”پولیس“ مقابلے سے چند گھنٹے قبل فیصل آبادپولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر کے سامنے سلیمان رندھاواکی گرفتاری کا کریڈٹ لینے کیلئے دو سب انسپکٹروں کے درمیان لفظی جنگ بھی ہوئی۔ دونوں تھانیدار گرفتاری کاکریڈٹ لینے کیلئے بڑھ چڑھ رپورٹس پیش کرتے رہے جبکہ تفتیش اور مستقبل کی کارروائی کے حوالے سے بھی دونوں میں سرد جنگ رہی۔ جبکہ پولیس افسران اس کی گرفتاری کو حساس اداروں کی کارروائی قرار دیتے رہے۔ حافظ سلیمان کے مقابلے کے حوالے سے انتہائی دلچسپ صورتحال یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ پولیس ایک طرف تو حافظ سلیمان کے مارے جانے کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے لارہی ہے کہ حافظ سلیمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس حافظ سلیمان کے مارے جانے کا کریڈٹ کس کھاتے میں لے رہی ہے۔ اس کو کوئی پولیس آفیسر واضح نہیں کرسکا۔ اس حوالے سے فیصل آباد پولیس کے ضلعی و ریجنل ترجمانوں سے بھی رابطہ کیا گیا مگر دونوں ہی اس صورتحال کو واضح نہ کرسکے۔

Related posts