جنوبی پنجاب صوبہ: ن لیگ کی صوبائی اسمبلی میں حمائت قومی میں مخالفت

اسلام آباد (نیوز لائن) قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے آئینی ترمیمی بل کی تحریک بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبے کیلئے آئینی ترمیمی بل کی تحریک کی حمائت کی اور حق میں ووٹ دیا جبکہ مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت کی اور تحریک پیش کئے جانے پر احتجاج بھی کیا۔ نیوز لائن کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا کی نشستوں میں اضافے کا بل پیش کئے جانے سے قبل پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے آئینی ترمیمی بل کی تحریک پیش کردی۔ مسلم لیگ ن نے اس تحریک کی کھل کر مخالفت کی اور اسے نامنظور کروانے کی کوشش کرتی رہی۔ ن لیگی ارکان اسمبلی نے اس کیخلاف احتجاج بھی کیا ۔ حکمران اتحاد کے علاوہ پیپلزپارٹی نے بھی جنوبی پنجاب کے حق میں ووٹ دیا اور اس بارے آئینی ترمیمی بل جلد از جلد پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ پیپلزپارٹی اور حکمران اتحاد کی حمائت سے جنوبی پنجاب بارے اس تحریک کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔چند سال قبل جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے پنجاب اسمبلی قرارداد منظور کرچکی ہے ۔اس قرارداد کی مسلم لیگ ن نے حمائت کی تھی تاہم جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی بھی قرار داد منظور کروائی تھی۔ قومی اسمبلی میں تحریک پر مخالفت کرکے مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی میں اپنی ہی منظور کروائی ہوئی قرارداد کی مخالفت کردی۔ جبکہ پی پی پی نے جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی حمائت کی ہے۔ اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبے یا صوبوں کا درجہ دینے کی حمائت کی ہے۔

Related posts