جھمرہ کی باجوہ فیملی کا اہم فرد جج باجوہ قتل‘ ساتھی زخمی


فیصل آباد (نیوز لائن ) چندیاں تلاواں اضافی آبادی پلاٹاں میں رقم کے تنازعہ پر فائرنگ کی زد میں آکر چک جھمرہ کی مشہور باجوہ فیملی کا 50سالہ رکن محمد اشرف عرف جج باجوہ جاں بحق جبکہ اسکا گن مین عطر زخمی ہوگیا جسے ہسپتال داخل کروایا گیامقتول سابق ممبر ضلع کونسل و چیئرمین یونین کونسل اور چار بچوں کا باپ تھا۔ مقتول کی فیملی اور والد مختار احمد عرف مختارا باجوہ کا شماردشمن داری کے حوالہ سے پنجاب کی سطح پر شہرت کی حامل شخصیات میں ہوتا تھا جن کا انتقال کچھ عرصہ قبل علالت کے سبب ہوا ۔ پولیس رپورٹ کے مطابق چک نمبر107ج ب پہاڑنگ سے تعلق رکھنے والا محمد اشرف عرف جج باجوہ اپنے گن مینوں عطر اور فہیم کے ہمراہ سرشام تھانہ ملت ٹاؤن کے علاقہ چندیاں تلاواں اضافی آبادی پلاٹاں کے رہائشی حبیل ولد ذوالفقار سے رقم لینے ان کے ڈیرے پر گئے جہاں حبیل اور اسکے بہنوئی ثقلین سے تلخ کلامی پر مقتول کے گن مین نے کی طرف سے زمین میں 244بور گن سے فائر کرکے خوف پھیلایا گیا تو اسی اثناء میں مزاحمت پر اترنے والے حبیل نے وہی گن چھین کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر اشرف عرف جج باجوہ اور اسکا گین مین عطر شدید زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کیلئے انہیں سول ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ اس دوران اشرف عرف جج باجوہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ۔اشرف عرف جج باجوہ کے قتل ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔دریں اثناء ملزم حبیل اپنے بہنوئی اور دیگر ساتھیوں سمیت چھینی گئی گن 244بور سمیت علاقہ سے فرار ہوگیا ۔اشرف جج باجوہ کے قتل کی خبر پھیلتے ہی پہاڑنگ اور محمودہ میں واقع ان کے آبائی گھروں پر لوگوں کا ہجوم برپا ہوگیا مقتول کے بہت سے قریبی ساتھی الائیڈ ہسپتال سے ملحقہ مارچری یونٹ پہنچ گئے ملت ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتول کی نعش اور موقع سے گولیوں کے خول قبضہ میں لے لیے مقتول نے سوگواروں میں دو بیٹے ریئس اور اعتزاز کے علاوہ بیوہ اور دوبیٹیاں چھوڑیں ذرائع کا کہنا ہے حملہ آور حبیل کی فیملی لیہ پہلے ہی شفقٹ ہوچکی ہے اور اسکا بہنوئی ثقلین کا سامان بھی گذشتہ روز ٹرک پر لوڈ کرکے لے گئے تھے ۔ ذرائع کے مطابق مقتول جج باجوہ پنجاب اسمبلی کے سابق سپیکر افضل ساہی کے قریبی ساتھی بھی رہے ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کیسا تھ بھی ان کے قریبی روابط بتائے جاتے ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق ملت ٹاؤن کے علاقہ چندیاں تلاواں میں قتل ہونیوالے اشرف عرف جج باجوہ چک نمبر107ج ب پہاڑنگ کی معروف ‘بااثر شخصیت اور ٹرانسپورٹر مختار احمد باجوہ کا بیٹا تھا جسکے سر کی قیمت 5 لاکھ روپے مقرر تھی جو گرفتاری کے بعد ختم ہوئے اشرف عرف جج باجوہ کی علاقہ میں کئی لوگوں کیساتھ دشمنی تھی پولیس ریکارڈ کے مطابق اس کیخلاف 23 مقدمات میں20 قتل ڈکیتی اقدام قتل دہشتگردی ‘اغواء ‘آگ لگانے کے تھے جن میں وہ بری ہوچکا تھا دشمنی کا آغاز1980کی دہائی میں فقیر حسین گروپ سے ایک خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے کی وجہ سے ہوا تھا اسی پلاٹ کی وجہ سے فقیرحسین باجوہ کے بیٹے محمد الیاس کی مختار باجوہ کے بیٹے ثناء اللہ عرف ننھواور عطاء اللہ کے ساتھ لڑائی ہوگی جس میں الیاس نے ثناء اللہ اور عطاء اللہ کو زخمی کردیا جس میں ثناء اللہ اور عطاء اللہ نے ملکر محمد الیاس کو قتل کردیا تھا قتل کے بعد فقیر حسین کا ساتھ عاشق علی اور ناظر علی نے دیا اور ایک گروپ بنایا اور دوسرا گروپ مختار احمد باجوہ کا بن گیا یہاں سے دونوں گروپوں کی دشمنی کا آغاز ہوگیا اس کے بعد دونوں خاندانوں میں قتلوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا اشرف عرف جج باجوہ کیخلاف پہلا مقدمہ نمبر105 ‘29مارچ1988کو تھانہ سول لائن میں ناجائز اسلحہ کا درج ہوا جج باجوہ کیخلاف6جولائی 2007کو گوجرانوالہ میں سات افراد کے قتل اور درجنوں افراد کو زخمی کرنے کا بھی مقدمہ دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت درج تھا یاد رہے کہ اشرف عرف جج باجوہ کے تین بھائی بھی مفرور ہیں۔

Related posts