جی سی ویمن یونیورسٹی میں کوئی اپنا نہیں: سبھی’’ ڈنگ ٹپاؤ‘‘ کھلاڑی




فیصل آباد (نور الامین ) جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں پورا انتظامی ڈھانچہ عارضی ستونوں پر استوار ہے۔ یونیورسٹی کا پورا انتظامی ڈھانچہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں وائس چانسلر سے لے کر شعبہ جات کے انچارجوں تک سب کے سب عارجی تعیناتیاں انجوائے کررہے ہیں۔ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کی وجہ سے یونیورسٹی میں انظامی ماحول بہتر ہو رہا ہے نہ تدریسی معاملات درست ہونے کا نام لے رہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں تمام تعیناتیاں عارضی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی کے چھے سال میں ایک بھی مستقل وائس چانسلر نہیں مل سکا۔ موجودہ وی سی ڈاکٹر صوفیہ انور بھی عارضی بنیادوں پر تعینات کی گئی ہیں ۔ چھے سال میں یونیورسٹی میں رجسٹرار کی بھی تعیناتی بھی نہیں ہو سکی۔یونیورسٹی میں رجسٹرار‘ ڈپٹی رجسٹرار‘ اسسٹنٹ رجسٹرار اور ان کے آفس کا تمام عملہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کے تحت عارضی بنیادوں پر ادھر ادھر دے اکٹھا کیا گیا ہے۔یونیورسٹی میں کنٹرولر امتحانات جیسی اہم پوسٹ پر بھی ابھی تک کوئی مستقل تعیناتی نہیں ہو سکی۔ پوری یونیورسٹی میں ایک بھی ڈین نہیں ہے۔ تمام شعبہ جات کے ڈین کے اختیارات عارضی بنیادوں پر تعینات وی سی ہی استعمال کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں ڈائریکٹر سپورٹس مستقل ہے نہ ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جیسی اہم سیٹ پر مستقل تعیناتی کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں عارضی تعیناتیوں کی وجہ سے انتظامی بحران کی سی کیفیت ہے۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں انتظامی معاملات درست طور پر چل رہے ہیں نہ تدریسی امور کو معیاری بنایا جانا ممکن ہورہا ہے۔ انتظامی بحران کی وجہ سے فیصل آباد ریجن کی واحد ویمن یونیورسٹی اپنی قدرو منزلت بھی کھو رہی ہے اور اس کی بنانے کے مقاصد بھی پورے نہیں ہو رہے۔یونیورسٹی میں وی سی سمیت اہم عہدوں پر عارضی تعیناتیوں کے حوالے سے یونیورسٹی کی ترجمان سے کا مؤقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلیٰ سطحی معاملات ہیں اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں۔

Related posts