جی سی ویمن یونیورسٹی کا رجسٹرار خواتین کو جنسی حراساں کرنے میں ملوث

فیصل آباد ( ندیم جاوید) جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے قائمقام مرد رجسٹرار کیخلاف خواتین سٹاف کو جنس کی بنیاد پر مسلسل حراساں کرنے کی نصف درجن کے لگ بھگ شکایات سامنے آئی ہیں۔ خواتین عملے کو گھنٹہ گھنٹہ بھر فون کرنا ‘ آفس میں آنیوالی ہر خاتون کی ویڈیو بنانااور خواتین کے ساتھ غیراخلاقی برتاؤ کرنا قائمقام رجسٹرار نے وطیرہ بنا لیا۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی ویمن یونیورسٹی کے قائمقام رجسٹرار کیخلاف خواتین سٹاف ممبران کو جنسی بنیادوں پر مسلسل حراساں کرنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ یونیورسٹی کی سابق رجسٹرار ظل ہما نازلی نے اپنی ایک درخواست میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ رجسٹرار کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں کہ اس دوران ڈپٹی رجسٹرار محمد اقبال نے ان کے ساتھ غیراخلاقی برتاؤ کیا۔ انہیں برا بھلا کہا’ انہیں دھمکیاں دیں’ حراساں کرتا رہا۔ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب کو دی گئی ایک درخواست میں یونیورسٹی کی سابق خزانچی فرزانہ ہاشمی نے بھی محمد اقبال پر انہیں حراساں کرنے اور غیراخلاقی برتاؤ کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ فرزانہ ہاشمی نے یہ بھی بتایا ہے کہ محمد اقبال انہیں چھٹی کے دنوں میں گھنٹہ گھنٹہ بھر کال کرکے حراساں کرتا رہا اور دھمکیاں دیتا رہا۔ غیراخلاقی برتاؤ اور حراساں کرنے کے الزامات یونیورسٹی کی کنٹرولر امتحانات رضوانہ تنویر نے بھی لگائے ہیں۔ حال ہی میں ایک نئی درخواست سامنے آئی ہے جس میں محمد اقبال کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے آفس میں آنیوالی ہر خاتون کی ویڈیو بناتے ہیں۔ خواتین عملے کو حراساں کرتے ہیں اور خواتین کے ساتھ غیراخلاقی گفتگو کرتے ہیں۔ ان الزامات پر مبنی ایک درخواست ایک درجن سے زائد سٹاف ممبران کے دستخطوں سے ایف آئی اے کو دی گئی ہے اور وزیر تعلیم پنجاب کو بھجوائی گئی ہے۔فیصل آباد کی واحد ویمن یونیورسٹی کے قائمقام رجسٹرار کے حوالے سے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں کہ جب یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار ‘ مستقل یا عارضی خزانچی اور وائس چانسلر بھی نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں مستقل تعینات ہونیوالی وائس چانسلر ڈاکٹر خان زادی فاطمہ خٹک اپنی تعیناتی کو ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہونے کے باوجود آنے سے گریزاں ہیں ۔ یونیورسٹی میں عارضی طور وی سی تعینات ہونیوالی ڈاکٹر کنول امین نے ابھی چارج نہیں لیا۔ یونیورسٹی میں عملے کو دو دو ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے عملے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایسے میں جنس کی بنیاد پر حراساں کئے جانے کی مسلسل شکایات نے یونیورسٹی کا ماحول شدید خراب کردیا ہے۔ اور شہر میں خواتین کے ادارے کی شہرت اور نیک نامی کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کی ضرورت ہے اور معاملات کو نظر انداز کرکے ”مٹی پاؤ” پالیسی ختم کرنا ہوگی ۔ اعلیٰ سطحی انکوائری کرکے جنس کی بنیاد پر حراساں کرنے کے معاملے کی سچائی کو چیک کیا جائے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

Related posts