حکومتی اقدامات کے ایکسپورٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے: خرم مختار

فیصل آباد (نیوز لائن) پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خرم مختارنے کہا ہے کہ ری فنڈز کی عدم ادائیگی‘خام مال کی درآمد پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کرنے سے برآمدات پر منفی اثرات پڑے گئے حکومت کو ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے ترجیحی اقدامات کرنے چاہیے انہوں نے کہا کہ ری فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز پہلے ہی شدید مالی مسائل کا شکار ہیں جبکہ ذرائع توانائی کی سپلائی پر سبسڈی کے خاتمے، کاٹن یارن اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ جیسے بنیادی خام مال کی درآمد پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ اور مقامی سطح پر تیار کردہ خام مال کی خریداری پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ کے خاتمے سے برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہونے سے برآمدی صنعت سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے ورکنگ کیپٹل کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 155 ارب روپے) ابھی بھی ری فنڈنظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ زیر التوا ری فنڈز کا حجم ٹیکسٹائل سیکٹر کے اوسط منافع سے بھی زیادہ ہے۔ انھوں نے واضع کیا کہSRO 1125 کے خاتمہ سے پہلے اوسط جمع شدہ ان پٹ ٹیکس مجموعی برآمدات کا 1.75 فیصد تھا جو کہ SRO1125 کے خاتمہ کے بعد بڑھ کر 12.8 فیصد ہو جائے گا یوں خدشہ ہے کہ 180 دن میں ایکسپورٹرز کے لگ بھگ 424 ارب روپے ری فنڈنظام میں پھنس جائیں گے۔جس سے ایکسپورٹرز کے مالی مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔ زیرو ریٹڈ سیکٹرز کیلئے سپیشل انرجی ٹیرف کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اکتوبر 2018 میں برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے زیرو ریٹڈ سیکٹرز کو گیس و بجلی سپلائی کیلئے سپیشل ٹیرف (گیس 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور بجلی 7.5 سینٹ فی کلو واٹ آور) دیا گیا تھا مگر مارچ کے بعد سے سبسڈی نہ ملنے کے باعث سبسڈی کی مد میں مختص 4.5 ارب روپے کے فنڈز مالی سال کے اختتام پر واپس ہو گئے۔ سبسڈی کی عدم فراہمی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو نارمل ریٹ پر گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ انھوں نے گیس و بجلی کی سپیشل ٹیرف کے تحت سپلائی کیلئے سبسڈی کی فوری فراہمی اور سپیشل ٹیرف کے نئے نوٹیفیکیشن کے فوری اجراء کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام میں مینوفکچررز کو مقامی سپلائیز پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اسی مہینے مل جائے گی جبکہ برآمدی یونٹس کیلئے ایڈجسٹمنٹ کا دورانیہ 175 دن ہے جس سے مسائل جنم لیں گے۔ انھوں نے برآمدی یونٹس کو انرجی پر سیلز ٹیکس سے استثناء کا مطالبہ کیا۔

Related posts